ملائیشیاکاعالمی منڈیوں سے ٹکراؤ
Posted by ارتقاءِ حيات on October 18, 2011
ملائیشیا ء کا پرانا نام ملایا ہے۔یہ2500ق م سے بھی پہلےکا قدیم ملک ہے۔ابتداء میں یہاں سارے باشندے ہندو تھے۔ پندرہویں صدی عیسوی میں یہاں اسلام کا نور پھیلا۔اور ساری آبادی مسلمان ہو گئی۔
ملائیشیا ء میں ملائی ، چینی اور بھارتی نژاد باشندوں کے علاوہ عیسائی بھی رہتے ہیں۔ملک کی بڑی زبانیں ملائی، چینی، تامل اور ہندی ہیں۔ انگریزی فر فر بولی جاتی ہے۔اکثریت ملائی قوم کی ہے جو مسلمان ہیں۔ چینیوں میں مذہبی بٹوارا موجود ہے۔کچھ بدھ مت کے ماننے والے موجود ہیں۔ کچھ کنفیوشس اور کچھ تاؤ مت کے پیروکارہیں۔ایسے کھچڑی معاشرے میں باہمی رقابت ضرور ہوتی ہے۔1969 اس قدر خوفناک فسادات ہوئے۔ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے۔ڈاکٹر مہاتیر نے نسلی رقابت کو ملک و قوم کے لئے طاعون قرار دیا۔ اور تمام قوموں کے مابین خیر سگالی کے لئےسخت محنت کی۔نتیجہ یہ نکلا کہ ملک ترقی کرتا چلا گیا۔
ملائیشیا ء کی ترقی یہودیوں کو ایک آنکھ نہ بھائی۔انہوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایک سرمایہ کاروں کا گروپ بنایا۔جس کا لیڈر جارج شوڑ تھا۔اس نے ملائیشیا ء کی اسٹاک مارکیٹوں پر اپنا کنٹرول قائم کیا ۔اور 1997 میں اسٹاک مارکیٹوں سے اپنا سرمایہ نکالنا شروع کر دیا۔اس کے ساتھ ساتھ جارج گروپ نے اپنے حصص کی فروخت بھی شروع کر دی۔اور سرمایہ باہر لے جانا شروع کر دیا۔اس طرح بڑا بحران پیدا ہوا۔ ملائیشیا کے زرمبادلہ کا ذخیرہ تیزی سے گھٹنا شروع ہو گیا۔یہ ایک تباہ کن صورتحال تھی۔عالمی بنک اور دیگر مالیاتی ادارے ڈالروں کے ڈھیر لے کر قرضہ دینے آگئے۔ڈاکٹر مہاتیر نے بڑی جرات سے کام لیا۔وہ عالمی مالیاتی اداروں کے جھانسے میں نہیں آئے۔انہوں نے ملائیشیا ءسے سرمائے کی منتقلی پر پابندی عائد کر دی۔اور اندرون ملک سرمایہ کاری کرنے والوں کے لئے زیادہ سے زیادہ مراعات کا اعلان کر دیا۔اس طرح ملائیشیا ء صرف 3سال میں اقتصادی بحران سے نکل آیا۔اس مرحلے پر مہاتیر نے اپنی قوم کی رگوں میں یہ اعتماد پھونک دیا کہ وہ اعلٰی ترقی یافتہ قوم بننے کی صلاحیتوں سے پوری طرح مالا مال ہے۔




