دنیا کی مختصر ترین جنگ
Posted by ارتقاءِ حيات on October 17, 2011
دنیا کی مختصر ترین جنگ 23اگست1896 کو برطانیہ اور زنجبیار کے درمیان لڑئی گئی۔زنجبیار پہلے ایک الگ ملک تھا مگر اب تنزانیہ کا حصہ بن چکا ہے۔
زنجبیار کے سلطان کی وفات کے بعد اس کے محل پر سلطان سعید خالداور اس کے حامیوں نے قبضہ کر کے سلطان ہونے کا اعلان کر دیا۔زنجبیار کے ساحل پر برطانوی بیڑا لنگر انداز تھا۔اسے یہ صورت حال قبول نہ تھی۔ بیڑے کے سربراہ ایڈمرل ہیری راسن نے سعیدخالد اور اس کے حامیوں کو الٹی میٹم دیا کہ صبح 9بجے تک محل خالی کر دیں۔دوسرے روز صبح 7:30بجے پھر یہ الٹی میٹم دہرایا مگر کوئی ردّعمل ظاہر نہ ہوا۔لہٰذا 9:02پر بیڑے کےجہازوں نے رنگون ،اسپیرو اور تھرش کے محلوں پر بمباری شروع کر دی۔خود ساختہ سلطان سعید خالد اور اس کے حامیوں نے کچھ دیر بمباری کا جواب دیا مگر جلد ہی ان کی توپیں خاموش ہوگئیں۔اور محل ریت کا ڈھیر بن گیا۔38منٹ بعد سعید خالد نے ہتھیار ڈال دیے اور دنیا کی یہ مختصر ترین جنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔ ہیری راسن نے حمود بن محمد کو زنجبیار کا نیا سلطان بنا دیا۔بعد میں حمود بن محمد نے اپنے محسن کو زنجبیار کے سب سےبڑے اعزاز “بریلینٹ اسٹار آف زنجبیار“سے نوازا۔





