خانقاہوں کے راہب
Posted by ارتقاءِ حيات on October 16, 2011
عیسائی مذاہب میں تفرقہ اندازی جو ناسوت اور الاھوت کی پیدوار ہے وہ اتوس پہاڑ پر واقع عیسائی راہبوں کی (بلحاظ مذہب ) خانقاہوں کی حالت کشمکش ہے ۔
یونان میں سالونیک نام کی ایک ریاست ہے اور سالونیک کے مشرق میں تین جزیرے ہیں ان میں جو جزیرہ مشرق کی سمت میں ہے اس کا نام کوہ اتوس یا جزیرہ اتوس ہے اس کوہ اتوس پر مختلف مراتب کی خانقاہیں ہیں جن میں پہلے درجے میں بیس ہیں دوسرے میں بارہ ‘ تیسرے میں دو چار اور چوتھے میں دو سو پینسٹھ خانقاہیں ہیں ۔
قدیم زمانوں سے یہ کوہ اتوس ان آرتھوڈ کسی عیسائیوں کی پناہ گاہ رہا ہے جو دنیا ترک کرنا اور ساری عمر عبادت میں مشغول رہنا چاہتے تھے ۔ کوہ اتوس کی تمام خانقاہیں آرتھوڈ کسی مذہب کی ہیں پہلی جنگ عظیم کے بعد جب روس میں بالشویکی حکومت بر سراقتدار آئی تو کوہ آتوس کی خانقاوں کے سارے عطیات کو زبردستی ضبط کر لیا اور مشرقی یورپ کے تمام ممالک میں یہ خانقاہیں عطیات کی حامل تھیں ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد مشرقی حکومتوں میں تبدیلی آئی اور ان ممالک میں کوہ آتوس کے عطیات بھی قومی ملکیت قرار دے دیئے گئے اور آج کوہ اتوس کے عطیات وہی ہیں جو یونان او ترکی کے یورپی حصے میں ہیں پہلے جنگ عظیم کے بعد یہ وقف شدہ املات روس میں بسنے والے راہبوں کے ہاتھوں سے چلی گئی تھیں ۔
پھر بھی ان خانقاہوں کی اتنی آمدن تھی کہ تقریبا پندرہ ہزار راہب اس پر گزر بسر کرتے اور تقریبا پندرہ سو خدمت گزار جو راہبوں کے لباس اور جوتے وغیرہ سیتے ‘ غذا تیار کرتے اور ان کے لباس دھوتے اس آمدن پر گزر بسر کرتے تھے ۔
لیکن آج کوہ اتوس کی یہ خانقاہیں ان وسائل سے محروم ہیں اور راہبوں کی تعداد بھی بہت کم ہے کوہ اتوس کیخواص میں سے ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ عورت کا وہاں پر وجود نہیں ہے اور دراصل عورت کوہ اتوس کی خانقاہوں میں گئی ہی نہیں اور کسی بھی دستاویز کی رو سے عورت ‘ جوان ہو یا بوڑھی ‘ ان خانقاہوں میں نہیں جا سکتی اگر کوئی راہب عالم نزاع میں ہو اور اسکی بوڑھی ماں چاہے کہ آخری لمحات میں اپنے بیٹے کو دیکھے تو اسے بھی ہر گز ان خانقاہوں میں جانے کی اجازت نہیں ملتی اور صرف وہ اپنے بیٹے کا تابوت جس میں اس کا جسد خاکی پڑا ہوتا ہے خانقاہ کے باہر دیکھ سکتی ہے ۔
دوسری جنگ عظیم تک کوہ اتوس کی خانقاہوں کا برقی رو کے ذریعے روشن ہونا تھا مزید لباس کی حالت یا گھریلو اثاثے اور لباس وغیرہ کے لحاظ سے ) پہلی صدی عیسوی کے لوگوں سے ملتا جلتا تھا اور دوسری جنگ عظیم کے بعد راہبوں کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی وہ تبدیلی ‘ خانقاہوں کا برقی رو کے ذریعے روشن ہونا تھا ۔
مزید لباس کی حالت یا گھریلو اثاثے کے لحاظ سے خانقاہوں میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی اگر ان خانقاہوں کے راہب ‘ باہر کی دنیا سے باخبر ہوتے اور اپنے زمانے کے واقعات کی تاریخ رقم کرتے تو آج سب سے حقیقی تاریخ کوہ اتوس کی خانقاہوں میں ملتی ان خانقاہوں کے قیام کو چودہ صدیاں ہو چکی ہیں لیکن ابھی تک بیرونی دنیا کے بارے میں ایک چھوٹی سی کتاب بھی نہیں ملتی اور آج جبکہ ان خانقاہوں کو بجلی کے نظام سے متصل کر دیا گیا ہے پھر بھی ان تمام خانقاہوں میں سے سترہ خانقاہیں ایک ہی فرقے کی ہیں پھر بھی ایک خانقاہ میں تبدیل نہیں ہو سکیں کیونکہ ناسوت اور لاھوت کے لحاظ سے ان میں اختلاف پایا جاتا ہے کوہ اتوس پر دو یونانی خانقاہیں ایسی نہیں ملتیں جن کے راہب عیسی کی بشری ماہیت اور خدائی ماہیت کے بارے میں آپس میں متفق ہوں ۔
یہ اختلاف جس طرح کوہ اتوس کی درجہ اول کی خانقاہوں میں پایا جاتا ہے اسی طرح اس پہاڑ کے درجہ دوم کی بارہ خانقاہوں میں بھی پایا جاتا ہے چونکہ چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی ان خانقاہوں کا بیرونی دنیا کے ساتھ رابطہ نہیں ہے لہذا فرانسیسی ٹیلیویژن کے ۱۹۶۹ء کے معلومات عامہ کے مقابلے میں جن دانشوروں نے شرکت کی وہ کوہ اتوس کے درجہ اول کی پانچ خانقاہوں کے نام بھی نہیں بتا سکے ۔ چہ جائیکہ وہ درجہ اول و دوم کی تمام خانقاہوں کے نام بتاتے ۔
کوہ آتوس پر پہلی آرتھوڈ کسی خانقاہ چھٹی صدی عیسوی میں وجود میں آئی یہ ایک یونانی خانقاہ تھی ‘ جن راہبوں نے اسے تعمیر کیا انہوں نے اس خیال سے اس جگہ کو منتخب کیا کہ یہ ایک سنگلاخ پہاڑ تھا جو گہری وادیوں پر مشتمل دریا کے قریب اور آبادیوں سے دور تھا یہ مقام ان لوگوں کے رہنے سہنے کیلئے انتہائی مناسب تھا جو ساری عمر انسانوں سے دور رہنا اور عبادت کے سوا کوئی دوسرا کام نہ کرنا چاہتے ہوں اس کے بعد تمام آرتھوڈ کسی مذاہب کی خانقاہیں اسی کوہ آتوس پر بننی شروع ہوئیں اور درجہ اول کی بیسویں خانقاہ روسی آتھوڈ کسی فرقہ کے راہبوں نے اٹھارہویں صدی عیسوی میں بنائی آج جبکہ پہلی خانقاہ کو تعمیر ہوئے چودہ صدیاں گزر چکی ہیں ان خانقاہوں میں عیسی کی ناسوتیا ور لاہوتی فطرت کے بارے میں اختلاف جوں کا توں ہے ۔
کہا جاتا ہے کہ جس وقت سلطان محمد دوم ملقب بہ فاتح ‘ نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا تو اس شہر کے راہب بجائے اس کے کہ شہر کے دفاع کیلئے اقدامات عمل میں لاتے ‘ عیسی کی ناسوتی اور لاہوتی ماہیت کے بارے میں بحث کر رہے تھے بعض لوگوں نے اس روایت کو مذاق قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ قسطنطنیہ کے کلیسا کے راہب شہر پر حملے کے خطرے کو نظر انداز کرکے عیسی کی ناسوتی اور لاہوتی ماہیت کے بارے میں بحث میں مبتلا ہوں لیکن اس روایت کو جھوٹا س لئے قرار نہیں دیا جا سکا کہ آرتھوڈ کسی کلیسا میں عیسی کی لاہوتی اور نا سوتی فطرت کے بارے میں مسلسل بحث ہوتی ہے لہذا یہ بعید نہیں ہے کہ جب سلطان محمد نے چند ماہ کیلئے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا تھا تو شہر کے راہب پھر اسی موضوع پر تبادلہ خیالات کر رہے ہوں گے ۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اعتکاف کی فکر اور خانقہ میں بسر کرنے کا رجحان صرف عیسائیوں میں پیدا ہوا ہے ۔
اس سے پہلے دنیا سے ہاتھ دھو کر ساری عمر ایک عبادت گاہ میں گزارنے کا تصور نہیں ملتا ۔ عیسائیت سے پہلے دوسرے مذاہب میں عبادت گاہیں موجود تھیں ۔ اور ان میں سے ہر ایک میں متعلقہ مذہب کے جاننے والے لوگ بھی رہتے تھے ان عبادت گاہوں کے اوقاف بھی ہوتے تھے جس طرح قدیم مصر میں زرعی جائیدادوں کا بڑا حصہ عبادت گاہ کی ملکیت ہوتا تھا ۔
لیکن اس عبادت گاہ میں رہنے والے تارک الدنیا شمار نہیں ہوتے تھے بلکہ انہیں خدام مذہب کہا جاتا تھا اور دیکھا گیا کہ وہ اپنے مذہب کی طرف داری میں جنگ لڑتے اور قتل ہو جاتے تھے اعتکاف میں بیٹھنے اور دنیا سے ہاتھ دھونے کی فکر دراصل ہندوانہ فکر ہے قدیم ہندوستان میں یہ رواج تھا کہ جب کسی کے بیٹے جوان ہو جاتے تو وہ باپ اپنے کنبے کی کفالت سے دستبردار ہوتے ہوئے معاشرے سے الگ تھلگ ہو کر جنگل کی راہ لیتا تھا اور اپنی باقی ماندہ زندگی کو تنہائی میں وہیں گزار کر اس جہاں فانی سے کو کر جاتا تھا ۔
یہی سوچ عیسائیت میں داخل ہوئی اور رومی حکومت کے عیسائیوں پر مظالم شاید اس سوچ کو تقویت دینے کا سبب بنے ‘ اس طرح چند عیسائی گروہوں نے اس دنیا سے ہاتھ دھو کر خانقاہوں میں گزر بسر کرنے کی ٹھانی اور بعض کا خیال ہے کہ عیسی کی تعلیمات کا بھی اس میں اثر ہے کیونکہ ان تعلیمات میں اس دنیا سے زیادہ اخروری دنیا کی جانب توجہ دی گئی ہے ۔
یونان میں سالونیک نام کی ایک ریاست ہے اور سالونیک کے مشرق میں تین جزیرے ہیں ان میں جو جزیرہ مشرق کی سمت میں ہے اس کا نام کوہ اتوس یا جزیرہ اتوس ہے اس کوہ اتوس پر مختلف مراتب کی خانقاہیں ہیں جن میں پہلے درجے میں بیس ہیں دوسرے میں بارہ ‘ تیسرے میں دو چار اور چوتھے میں دو سو پینسٹھ خانقاہیں ہیں ۔
قدیم زمانوں سے یہ کوہ اتوس ان آرتھوڈ کسی عیسائیوں کی پناہ گاہ رہا ہے جو دنیا ترک کرنا اور ساری عمر عبادت میں مشغول رہنا چاہتے تھے ۔ کوہ اتوس کی تمام خانقاہیں آرتھوڈ کسی مذہب کی ہیں پہلی جنگ عظیم کے بعد جب روس میں بالشویکی حکومت بر سراقتدار آئی تو کوہ آتوس کی خانقاوں کے سارے عطیات کو زبردستی ضبط کر لیا اور مشرقی یورپ کے تمام ممالک میں یہ خانقاہیں عطیات کی حامل تھیں ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد مشرقی حکومتوں میں تبدیلی آئی اور ان ممالک میں کوہ آتوس کے عطیات بھی قومی ملکیت قرار دے دیئے گئے اور آج کوہ اتوس کے عطیات وہی ہیں جو یونان او ترکی کے یورپی حصے میں ہیں پہلے جنگ عظیم کے بعد یہ وقف شدہ املات روس میں بسنے والے راہبوں کے ہاتھوں سے چلی گئی تھیں ۔
پھر بھی ان خانقاہوں کی اتنی آمدن تھی کہ تقریبا پندرہ ہزار راہب اس پر گزر بسر کرتے اور تقریبا پندرہ سو خدمت گزار جو راہبوں کے لباس اور جوتے وغیرہ سیتے ‘ غذا تیار کرتے اور ان کے لباس دھوتے اس آمدن پر گزر بسر کرتے تھے ۔
لیکن آج کوہ اتوس کی یہ خانقاہیں ان وسائل سے محروم ہیں اور راہبوں کی تعداد بھی بہت کم ہے کوہ اتوس کیخواص میں سے ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ عورت کا وہاں پر وجود نہیں ہے اور دراصل عورت کوہ اتوس کی خانقاہوں میں گئی ہی نہیں اور کسی بھی دستاویز کی رو سے عورت ‘ جوان ہو یا بوڑھی ‘ ان خانقاہوں میں نہیں جا سکتی اگر کوئی راہب عالم نزاع میں ہو اور اسکی بوڑھی ماں چاہے کہ آخری لمحات میں اپنے بیٹے کو دیکھے تو اسے بھی ہر گز ان خانقاہوں میں جانے کی اجازت نہیں ملتی اور صرف وہ اپنے بیٹے کا تابوت جس میں اس کا جسد خاکی پڑا ہوتا ہے خانقاہ کے باہر دیکھ سکتی ہے ۔
دوسری جنگ عظیم تک کوہ اتوس کی خانقاہوں کا برقی رو کے ذریعے روشن ہونا تھا مزید لباس کی حالت یا گھریلو اثاثے اور لباس وغیرہ کے لحاظ سے ) پہلی صدی عیسوی کے لوگوں سے ملتا جلتا تھا اور دوسری جنگ عظیم کے بعد راہبوں کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی وہ تبدیلی ‘ خانقاہوں کا برقی رو کے ذریعے روشن ہونا تھا ۔
مزید لباس کی حالت یا گھریلو اثاثے کے لحاظ سے خانقاہوں میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی اگر ان خانقاہوں کے راہب ‘ باہر کی دنیا سے باخبر ہوتے اور اپنے زمانے کے واقعات کی تاریخ رقم کرتے تو آج سب سے حقیقی تاریخ کوہ اتوس کی خانقاہوں میں ملتی ان خانقاہوں کے قیام کو چودہ صدیاں ہو چکی ہیں لیکن ابھی تک بیرونی دنیا کے بارے میں ایک چھوٹی سی کتاب بھی نہیں ملتی اور آج جبکہ ان خانقاہوں کو بجلی کے نظام سے متصل کر دیا گیا ہے پھر بھی ان تمام خانقاہوں میں سے سترہ خانقاہیں ایک ہی فرقے کی ہیں پھر بھی ایک خانقاہ میں تبدیل نہیں ہو سکیں کیونکہ ناسوت اور لاھوت کے لحاظ سے ان میں اختلاف پایا جاتا ہے کوہ اتوس پر دو یونانی خانقاہیں ایسی نہیں ملتیں جن کے راہب عیسی کی بشری ماہیت اور خدائی ماہیت کے بارے میں آپس میں متفق ہوں ۔
یہ اختلاف جس طرح کوہ اتوس کی درجہ اول کی خانقاہوں میں پایا جاتا ہے اسی طرح اس پہاڑ کے درجہ دوم کی بارہ خانقاہوں میں بھی پایا جاتا ہے چونکہ چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی ان خانقاہوں کا بیرونی دنیا کے ساتھ رابطہ نہیں ہے لہذا فرانسیسی ٹیلیویژن کے ۱۹۶۹ء کے معلومات عامہ کے مقابلے میں جن دانشوروں نے شرکت کی وہ کوہ اتوس کے درجہ اول کی پانچ خانقاہوں کے نام بھی نہیں بتا سکے ۔ چہ جائیکہ وہ درجہ اول و دوم کی تمام خانقاہوں کے نام بتاتے ۔
کوہ آتوس پر پہلی آرتھوڈ کسی خانقاہ چھٹی صدی عیسوی میں وجود میں آئی یہ ایک یونانی خانقاہ تھی ‘ جن راہبوں نے اسے تعمیر کیا انہوں نے اس خیال سے اس جگہ کو منتخب کیا کہ یہ ایک سنگلاخ پہاڑ تھا جو گہری وادیوں پر مشتمل دریا کے قریب اور آبادیوں سے دور تھا یہ مقام ان لوگوں کے رہنے سہنے کیلئے انتہائی مناسب تھا جو ساری عمر انسانوں سے دور رہنا اور عبادت کے سوا کوئی دوسرا کام نہ کرنا چاہتے ہوں اس کے بعد تمام آرتھوڈ کسی مذاہب کی خانقاہیں اسی کوہ آتوس پر بننی شروع ہوئیں اور درجہ اول کی بیسویں خانقاہ روسی آتھوڈ کسی فرقہ کے راہبوں نے اٹھارہویں صدی عیسوی میں بنائی آج جبکہ پہلی خانقاہ کو تعمیر ہوئے چودہ صدیاں گزر چکی ہیں ان خانقاہوں میں عیسی کی ناسوتیا ور لاہوتی فطرت کے بارے میں اختلاف جوں کا توں ہے ۔
کہا جاتا ہے کہ جس وقت سلطان محمد دوم ملقب بہ فاتح ‘ نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا تو اس شہر کے راہب بجائے اس کے کہ شہر کے دفاع کیلئے اقدامات عمل میں لاتے ‘ عیسی کی ناسوتی اور لاہوتی ماہیت کے بارے میں بحث کر رہے تھے بعض لوگوں نے اس روایت کو مذاق قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ قسطنطنیہ کے کلیسا کے راہب شہر پر حملے کے خطرے کو نظر انداز کرکے عیسی کی ناسوتی اور لاہوتی ماہیت کے بارے میں بحث میں مبتلا ہوں لیکن اس روایت کو جھوٹا س لئے قرار نہیں دیا جا سکا کہ آرتھوڈ کسی کلیسا میں عیسی کی لاہوتی اور نا سوتی فطرت کے بارے میں مسلسل بحث ہوتی ہے لہذا یہ بعید نہیں ہے کہ جب سلطان محمد نے چند ماہ کیلئے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا تھا تو شہر کے راہب پھر اسی موضوع پر تبادلہ خیالات کر رہے ہوں گے ۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اعتکاف کی فکر اور خانقہ میں بسر کرنے کا رجحان صرف عیسائیوں میں پیدا ہوا ہے ۔
اس سے پہلے دنیا سے ہاتھ دھو کر ساری عمر ایک عبادت گاہ میں گزارنے کا تصور نہیں ملتا ۔ عیسائیت سے پہلے دوسرے مذاہب میں عبادت گاہیں موجود تھیں ۔ اور ان میں سے ہر ایک میں متعلقہ مذہب کے جاننے والے لوگ بھی رہتے تھے ان عبادت گاہوں کے اوقاف بھی ہوتے تھے جس طرح قدیم مصر میں زرعی جائیدادوں کا بڑا حصہ عبادت گاہ کی ملکیت ہوتا تھا ۔
لیکن اس عبادت گاہ میں رہنے والے تارک الدنیا شمار نہیں ہوتے تھے بلکہ انہیں خدام مذہب کہا جاتا تھا اور دیکھا گیا کہ وہ اپنے مذہب کی طرف داری میں جنگ لڑتے اور قتل ہو جاتے تھے اعتکاف میں بیٹھنے اور دنیا سے ہاتھ دھونے کی فکر دراصل ہندوانہ فکر ہے قدیم ہندوستان میں یہ رواج تھا کہ جب کسی کے بیٹے جوان ہو جاتے تو وہ باپ اپنے کنبے کی کفالت سے دستبردار ہوتے ہوئے معاشرے سے الگ تھلگ ہو کر جنگل کی راہ لیتا تھا اور اپنی باقی ماندہ زندگی کو تنہائی میں وہیں گزار کر اس جہاں فانی سے کو کر جاتا تھا ۔
یہی سوچ عیسائیت میں داخل ہوئی اور رومی حکومت کے عیسائیوں پر مظالم شاید اس سوچ کو تقویت دینے کا سبب بنے ‘ اس طرح چند عیسائی گروہوں نے اس دنیا سے ہاتھ دھو کر خانقاہوں میں گزر بسر کرنے کی ٹھانی اور بعض کا خیال ہے کہ عیسی کی تعلیمات کا بھی اس میں اثر ہے کیونکہ ان تعلیمات میں اس دنیا سے زیادہ اخروری دنیا کی جانب توجہ دی گئی ہے ۔



