ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

ڈینگی وائرس

Posted by ارتقاءِ حيات on October 16, 2011


دنیا بھر میں دہشت  پھیلانے والا ڈینگی  بخار، فلو (زکام)سے ملتی جلتی کیفیت رکھتا ہے۔اس بخار کا سبب ایک وائرس ہے۔ جس کا تعلق جنس “فلاوی وائرس” سے ہے۔ اس کی 4علٰیحدہ علٰیحدہ Serotypesدموی سیالی
کہا جاتا ہے۔Dn4اورDn1,Dn2,Dn3اقسام ہیں جنہیں
مچھر کے کاٹنے سے منتقل ہوتا ہے۔Aedesیہ وائرس انسان میں ایڈیز
مرض کا کوئی مخصوص علاج نہیں،عام بخار بھی اتنا خطرناک نہیں ہوتا،لیکن اگر ڈینگی بخار،جریانی بخار (ڈینگی ہیموریجک فیور)میں تبدیل ہوجائے تو مذکورہ ابتدائی علامات کے ساتھ ناک اور مسوڑھوں سے خون آنااور جسم پر جامنی دھبے پڑجانا اس بات کی علامت ہیں کہ ڈینگی بخار نے جریانی بخار کی  شکل اختیار کر لی ہے۔ تاہم اس وقت بھی مناسب طببّی امداد ملنے پر مریض صحتیاب ہو جاتا ہے۔
یہ صورتحال اس وقت قابو سے باہر ہوتی ہے جب ڈینگی جریانی بخار ،ایک درجہ اور آگے بڑھ کر “ڈینگی شاک سینڈروم”میں تبدیل ہوجائے۔تب مندرجہ بالا علامات کت ساتھ جسم کے مختلف حصوں سے خون کا رساؤ شروع ہونے لگتا ہے۔اور مریض کا بلڈ پریشر بہت کم رہ جاتا ہے۔اگر مناسب طبّی امداد نہ ملے تو موت واقع ہوجاتی ہے۔
ڈینگی کے معنی “ہڈی توڑ”کے ہیں۔ یہ افریقی زبان کا لفظ ہے ۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ جو لوگ پہلے پہل اس بخار سے آشنا ہوئے انہوں نے ہی اس کا یہ نام رکھا ہوگا۔ڈینگی بخار سے ملتی جلتی علامات کا اولین تذکرہ ایک ہزار سال قبل مسیح میں چین کی طبی تاریخ میں ملتا ہے۔بعض آراء ہہ بھی ہیں کہ 1000قبل مسیح یہ مرض مصر میں بھی تھا۔لیکن اس وقت تشخیص مکمل نہ ہونے کے باعث کوئی اس کے بارےکے بارے میں جان نہ سکا۔
ابتداً یہ گمان کیا گیا کہ یہ مرض افریقہ سے ساری دنیا میں پھیلا ہے مگر اب یہ نظریہ عام ہے کہ اس مرض کی ابتدا جنوب مشرقی ایشیا سے ہوئی ہے،اس خطے میں یہ مرض پھیلانے والے مچھر پائے جاتے ہیں۔(جواب پوری دنیا کے منطقہ حارہ اور ذیل کے منطقہ حارہ کے علاقوں میں بھی پھیل چکے ہیں)یہ مچھر جنگلات میں درختوں کے سوراخوں میں پھرے پانی میں افزائش کرتے تھے اور ڈینگی بخاروں کو بندروں میں پھیلانے کا سبب بنتے تھے۔بعد ازاں یہ انسانی آبادی میں منتقل ہو گئے ۔اور رفتہ رفتہ ساری دنیا میں پھیل گئے۔
دنیا کو پہلی بار ڈینگی کی وبائیت کا علم1779 ؁یا1780؁کے درمیان اس وقت ہوا جب ڈینگی بخار یکے بعد دیگرے افریقہ ،ایشیا اور جنوبی امریکہ میں پھیلا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد اس مرض میں حیرت انگیز اضافہ ہوا۔جنگلات میں فوجیوں کو اس مرض نے گھیرا اور یہ فوجی اس بخار کے وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن گئے۔1953؁ میں پہلی بار اس بیماری کو ڈینگی کی حیثیت سے شناخت کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مچھر صرف صاف ستھرے پانی میں انڈے دیتے ہیں۔ اس لئے پانی سے بھرے برتنوں کو ڈھک کر رکھنا چاہیئے۔ عجیب بات ہےکہ یہ صرف غروب اور طلوع آفتاب کے وقت کاٹتے ہیں۔






جب میں نے اپنے ایک عزیزہ کو اس کالم کو دکھایا تو اس نےمجھے ایک ایس ایم ایس سنایاکہ “اس مچھر سے بچنے کے لئے کہ”یہ مچھر صرف صاف پانی ہی میں پیدا ہوتا ہے تو آپ کے آس پاس جہاں بھی صاف پانی پڑا ہو اسےگندا کر دیں”۔


!!! نا ہو گا بانس نہ بجے گی بانسری۔۔

4 Responses to “ڈینگی وائرس”

  1. پينے کے پانی کو بھی گندا کر ديں ؟
    باہر پانی کو گدلا کرنے سے کچھ نہيں ہو گا ۔ چند منٹ ميں گدلا پن نيچے بيٹھ جائے گا اور پانی ڈَينگ مچھر کے انڈوں کيلئے تيار ہو گا
    صاف پانی پينے کو تو ويسے بھی ہميشہ ڈھانپ کر رکھنا چاہيئے ۔ البتہ گھر کے اندر ليٹرين ميں لگے کموڈ استعمال کے بعد اس کی سيٹ کا ڈھکنا نيچے کر ديں
    آسان اور ديرپا طريقہ جو ميں نے پڑھ رکھا ہے يہ ہے کہ گھر کے گرد اگر کافی زمين خالی ہو تو نِيم کے درخت لگا ديں [اگر نِيم نہ ملے تو دھريک بھی کسی حد تک کام کر جاتی ہے] اور چھوٹی جگہوں پر پودينہ لگا ديں ۔ سوکھا ہوا پودينا اخبار کے کاغذ کی چھوٹی چھوٹی تھيليوں ميں ڈال کر سارے گھر ميں پھيلا ديں ۔ اور جب جی چاہے تازہ پودينے کی چٹنی بنا کر کھائيں ۔ يہ اضافی فائدہ ہے

    • تحریم said

      چچا جان ٹوٹکوں کے لئے شکریہ
      ویسے وہ ایک لطیفہ تھا جو مین نے شیئر کیا مگر آُپ اسے ٹوٹکہ سمجھے
      میں نے اسے ایڈیٹ کر لیا ہے

  2. عمدہ معلومات شیئر کرنے کا شکریہ ….

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers