کتب بینی کے نقصانات
Posted by ارتقاءِ حيات on October 13, 2011
دور جدید میں جہاں شکر اور نمک جیسی اللہ کی عام نعمتیں مضر صحت ثابت ہو گئیں وہاں کتب بینی کے نقصانات بھی کھل کر سامنے آرہےہیں اور ہمارے ہم وطنوں نے اس فعل سے اجتناب شروع کر دیا ہے۔ماہرین کے مطابق کتب بینے کا ایک سب سے بڑا نقصان ہے کہ آپ کی بینائی متاثر ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر ہم نے اپنے ملک کے بعض بڑے عالم فاضل حضرات کو دیکھا ہے جن کا بیشتر وقت کتب خانوں میں مطالعے میں گذرتا ہے ان کی بینائی اس حد تک متاثر ہو چکی ہے کہ ان کی نگاہوں اب اپنے علاوہ کوئی اور سماتا ہی نہیں۔
جسمانی نقطہ نظر سے ہٹ کر اس سے مال کا بھی ضیائع ہے۔ آج کل کوئی ڈھنگ کی کتاب 300یا 600 سے کم کی دستاب ہی نہیں۔وہ کتابیں بھی جنہیں لکھ کر مصنف سستی شہرت حاصل کر لیتے ہیں خاصی مہنگی ہیں۔ چاہے وہ غاصب جنرل وصدر ہو یا کوئی ایسا کرکٹر جو کبھی تیز رفتاری کے سوا سکنڈل ہی میں مشہور رہا ہو۔حال تو یہ کہ ایسی کتابیں جنہیں اہل غرض افسران اعلٰی کے نام سے چھپوا کر انکی رونمائی اور اپنی مشکل کشائی کرواتے ہیں وہ بھی سستی نہیں۔
کلاشنکوف کی آمد کے بعد ہماری درسگاہوں میں طالب علم زیور تعلیم کے بجائے زیور اسلحہ سے آراستہ ہوگئے ہیں۔اور اب وہاں کتابوں کو کوئی نہیں پوچھتا۔امتحان میں کامیابی کی ضمانت علمی صلاحیت نہیں اصل چیز کلاشنکوف کا استعمال کرنے کا ہنر ہے۔
کبھی بغل میں کتابیں طالبعلموں کی شناخت ہوا کرتی تھی اب اسلحہ ہی ان کا نصابی نشان ہے۔اب کسی طالب علم کے ہاتھ میں آپ کتاب دیکھیں تو یہ ایک خطرناک امر ہے ہو سکتا ہے یہ کسی پاکستان دشمن بیرونی طاقت کا ایجنٹ ہو جو ہمارے طلبہ میں منافرت پھیلا نا چاہتا ہو۔
ایک روز ہمارے ساتھ بس میں 2طالبعلم سوار ہوئے ان میں سے ایک کے ہاتھ میں موٹی سی کتاب کو دیکھ کر مسافروں کو بجا طورپر تشویش ہوئی اس کا ساتھی اس کو “کتابی کیڑے ،کتابی کیڑے “کے طعنے دینے لگا تو اس غیور نوجوان سے برداشت نہ ہو سکا اس نے اپنی صفائی پیش کرنے کی غرض سے وہ کتاب کھول دی ۔تب یہ دیکھنے میں آیا کہ وہ کتاب نہیں چاکلیٹوں کا کتاب نما ڈبہ تھا۔
علم کی ناقدری اور دنگا فساد کے اس زمانے میں پھر بھی موٹی کتابوں کو کسی حد تک قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔کیونکہ بعض اوقات ایسی کتابوں سےحملے سے دورا ن ڈھال کا کام لیا جا سکتا ہے۔اور دوران پاتھا پائی بطور ہتھیار کا کام بھی لیا جاسکتا ہے۔اگر آپ کے پاس شہاب نامہ یا اس قسم کی کوئی دوسری کتاب ہو تو اس کے ذریعے یہ دوکام بطریق احسن انجام پا سکتے ہیں۔
علم کے متعلق بزرگوں سے سننتے آئے ہیں یہ وہ خزانہ ہےجو کبھی چوری نہیں ہوتا مگر آج کے اس ترقی یافتہ دور میں کوئی خزانہ ایسا نہیں جو چوری سے محفوظ ہو۔ہم دور کیوں جائیں اپنے ہی وطن میں اکثر “علم “معہ”عالم”اغوا کر لیا جاتا ہے۔
کسی دانا نے کتابوںکی3اقسام بیان کی تھیں :
1وہ جنہیں صرف سونگھا جاتا ہے2وہ جنہیں چکھا جاتا ہے اور3وہ جنہیں چبایا جاتا ہے۔
مگر ہمارے ملک میں صرف کتابوں کی ایک ہی قسم پائی جاتی ہے وہ کتابیں جنہیں صرف سجایا جاتا ہے۔اور بد قسمتی سے اللہ کی کتاب بھی اسی زمرے میں شامل ہے۔لیکن اب کچھ تلخ تجربات کے بعد لوگوں نے کتابوں کو بھی اپنے ڈرائنگ روم میں سجانا بند کر دیا ہے۔اس فیشن میں یہ قباحت محسوس کی گئی کہ بعض اوقات مہمان کی نظر کسی مانوس کتاب پر پڑھ جائے اور وہ اس پر تبصرہ کرنے لگےتو میزبان کو ناگوار صورت حال سے دوچار ہونا پڑ جاتا ہے۔
کتابوں کا عشق بھی عشق مجازی سے کم نہیں۔انسان اپنی دولت تک کتابوں کی نظر کر دیتا ہے۔اور پس مرگ اس کی اولاد تمام عمر مرحوم کو کوستی ہے اور دیمک ان کتابوں کو چاٹتی ہے۔ہم خود ذاتی طور پر کتب بینی کے ستائے ہوئے ہیں۔اور ہماری زندگی اجیرن ہے۔
مصیبت یہ ہے کہ ہمارے شوہر نامدار کو کتب بینی کا نشہ ہے بغیر کتاب کا مطالعہ نیند ہی نہیں آتی۔زرا سی نیند توٹی نہیں اور تکئے کےنیچے سے کتاب برآمد ہمیں اعتراض نہیں مگرکیا کریں کہ روشنی میں ہمیں نیند آتی نہیں اور جب تک لیمپ جلتا رہتا ہے ۔ہمارا دل بھی جلتا رہتا ہے۔ وہ تو بھلا ہو کے ای ایس سی والوں کا کہ جن کی مہربانی سے ہماری اس مصیبت سے اکثر جان چھوٹ جاتی ہے۔
دور حاضر میں یہ بے ضرر شوق ضرور دیکھنے میں آرہا ہے کہ اکثر لوگ کتب بینی کے نعم البدل کے طور پر کتابی چہروں کا بغور مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔
زمانۂ قدیم میں جب پڑھنے پڑھانے کا بڑا چرچا تھا تو بچوں کو ایسی ویسی کتابوں سے دور رکھا جاتا تھا کہ مباداً ان کا اخلاق بگڑ جائے۔البتہ گھر کے بڑے بوڑھے اخباری کاٖغذ چڑھا کر ان کا چھپ کر مطالعہ کیا کرتے۔ لیکن اب وقت ایسا آگیا ہے کہ کیبل اور انٹرنیٹ کی بدولت معصو م اولاد کی “جنرل نالج “ان کتابوں کی معلومات سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
آپ غور کیجئے کتب بینی بہت سے جرائم کی جڑ ہے یہ انسان کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور بعض اوقات تو باغیانہ افکار انسان کی ذہن میں جنم لینے لگتے ہیں۔اس کے اندر تحریر و تقریر کی آزادی کا شعور پیدا ہوتا ہے۔چونکہ ہم نے بیشتر حصہ آمریت کے زیر سایہ گزارا ہے لہٰذا ایسے حالات میں ضرور ی ہے کی ہمارے ملک میں کتابوں کے مطالعے پر قانوناًٍ پابندی عائد کر دی جائے۔









محمد وارث said
خوب لکھا آپ نے، نہ صرف کتابوں کے مطالعے پر قانوناً پابندی ہونی چاہیے بلکہ اس جرم کے مرتکب افراد پر بقدرِ قیمتِ کتب مالی جرمانہ بھی ہونا چاہیے اور یہ سزا بھی کہ وہ اپنی بقیہ تمام زندگی کتاب تو کیا کسی اخبار کا ٹکڑا تک نہیں پڑھ سکتے بلکہ وہ کاغذ بھی نہیں پڑھ سکتے جس پر بازار سے پکوڑے آتے ہیں پھر دیکھیے گا کیسے نہیں کرتا پاکستان ترقی۔
تحریم said
یہ کتابیں ہی ہیں جن کی بدولت آج ہم ان لوگوں سے برابری کے خواب دیکھتے رہتے ہیں
بھلا اتنی اچھی زندگی کہ ناچ گانا فلم اور دیگر سہولیات عیش کو چھین کر کون ان کتابوں سے مغز ماری کرے بھلا
بڑی مشکل سے تو سکول کالج سے جان چھوٹی پر یہ کتابیں۔۔۔۔
عثمان said
انتہائی خوبصورت تحریر ہے۔
تحریم said
اور موضوع حساس
افتخار اجمل بھوپال said
محترمہ ۔ کُتب بينی سے دُوری اور کلاشنکوف ثقافت کی آمد لازم و ملزوم ہيں اور يہ دونوں عوامی دور کا تحفہ ہين جو پاکستان پر جنوری 1972ء سے 4 جولائی 1977ء تک طاری رہا ۔ يہ الگ بات ہے کہ پی پی پی نے بکرے کی بلا طويلے کے سر ڈالتے ہوئے جنرل ضياء الحق کو کلاشنکوف ثقافت کا ذمہ دار ٹھہرايا اور يہ طبل ابھی تک بجتا ہے
عوامی دور ميں پی ايس ايف جو پی پی پی کی ذيلی تنظيم ہے کے اراکين کو اسلحہ کس نے ديا تھا ؟
پنجاب يونيورسٹی ميں فائرنگ کس نے کی تھی ؟ پی ايس ايف کے غُنڈوں نے
اس سلسلہ ميں گرفتار عوامی حکومت نے کس کو کيا ؟ پنجاب يونيورسٹی سٹوڈنٹ يونين کے صدر عثمان کو جس کا تعلق اسلامی جميعت طلباء سے تھا ۔ جسے ميں ذاتی طور پر جانتا تھا کہ نہائت شريف النفس اور خدمتگار انسان تھا
اس کے بعد يہ روزانہ کا معمول بن گيا تھا اور گرفتار بھی وہی ہوتے تھے جن پر گولياں چلائی جاتی تھيں
عوامی حکومت نے فيڈرل سکيورٹی فورس [ايف ايس ايف] بنا کر تمام غُنڈے جوئے باز اور جيب کُترے اس ميں بھرتی کر کے اُنہيں اسلحہ ديا تھا ۔ احمد رضا قصوری پر فائرنگ ايف ايس ايف کے دستے نے ہی کی تھی اور ہلاک اس کے والد ہو گئے جس کی ايف آئی آر درج کرائی گئی مگر عمل کچھ نہ ہوا ۔ عوامی حکومت ختم ہونے پر احمد رضا قصوری نے نظرِ ثانی کی درخوست دی جو ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کا مُوجب بنی
دو دن قبل سردار مہتاب خان نے ٹی وی پر سچ کہا تھا کہ قوم و مُلک کی حالت اُس وقت تک نہيں سُدھرے گی جب تک سياستدان اور حکمران عوام سے جھوٹ بولنا نہيں چھوڑتے
تحریم said
میں نے سیاست پر بیان نہیں دیا
مجھے کسی بھی سیاستت دان سے کوئی شکایت نہیں
ہم خود ہی ایسے سیاست کو پسند کرتے ہیں
یہی ہمارا حال ہے
اور جب تک ہم خود کو نہیں بدلیں گے
تب تک یہی لوگ صورت بدل بدل کر آتے جاتے رہیں گے
عوام کون سا مخلص ہے ایک دوسرے سے جو ہم سیاست دانوں کو برا بھلا کہیں
افتخار اجمل بھوپال said
ميری ای ميل کے جواب ميں آپ کی ای ميل مجھ تک نہيں پہنچ سکی ۔ کہيں اغواء برائے تاوان تو نہيں ہو گئی
تحریم said
خیر ایسا کچھ خاص نہیں تھا آپ کی خیریت کے لئے دعا کی تھی
اور وہ قبول ہوئی
اللہ آپکی تمام تکالیف کو دور فرمائے
آمین
یاسر خوامخواہ جاپانی said
لائبریری کو آگ لگا دینی چاھئے۔
لیکن آگ لگانے سے پہلے ساری کتابیں مجھے دے دی جائیں۔
تحریم said
تاتاریوں کو دعت دے رہے ہیں ؟؟
پر کتابیں آپ کو کیوں چاہیں ؟؟
سنا ہے جاپان میں کافی کتابیں اچھے موضوعات پر دستیاب ہیں
ان سے استفادہ کیجئے
سر پر ماریئے اور مغز درست کیجئے
محمد احمد said
بہت خوب اچھی تحریر ہے اور سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم نے کس مشکل سے کتابوں سے پیچھا چھُڑایا تھا لیکن لوگ ہیں کہ باز نہیں آتے اور کمپیوٹر کی اسکرین کے ذریعے ہی در اندازی کرتے ہیں انجانے میں کافی کچھ پڑھنا پڑ گیا۔
بہر کیف شکریہ اس پُر بہار تحریر کا۔
تحریم said
بہار صرف تحریر پر ہی رہ گئی ہے
ملک میں جانے کب آئے
Rai Muhammad Azlan said
کتب بینی کے نقصانات سے بچنے کے لیئے کتب کی نشر و اشات پر پابندی عائد کر دعنی چاہئے تا کہ آنے والی نسلیں ان تمام مصائب سے بچ سکِں جنکا ہم کہ سامنا صرف کتب بینی کی وجہ سے ہے۔