عبد اللہ دیصانی کا قبول اسلام
Posted by ارتقاءِ حيات on October 12, 2011
ہشام بن حکم امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بہترین شاگرد تھے۔ایک دن ایک منکر خدا نے ان سے ملاقات کی اور پوچھا: ”کیا تمہارا خدا ہے“۔
ہشام: ”ہاں“۔
عبد اللہ: ”آیا تمہارا خدا قادر ہے ؟ “
ہشام: ”ہاں میرا خدا قادر ہے اور تمام چیزوں پر قابض بھی ہے“۔
عبد اللہ: ”کیا تمہارا خدا ساری دنیا کو ایک انڈے میں سمو سکتا ہے جب کہ نہ دنیا چھوٹی ہو اور نہ ہی انڈا بڑا ہوا۔؟ “
ہشام: ”اس سوال کے جواب کے لئے مجھے مہلت دو“۔
عبد اللہ: ”میں تمہیں ایک سال کی مہلت دیتا ہوں“۔
ہشام یہ سوال سن کر امام رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت میں پہنچے اور عرض کیا: ”اے فرزند رسول !،عبد اللہ دیصانی نے مجھ سے ایک ایسا سوال کیا جس کے جواب کے لئے صرف اللہ تعالٰی اور آپ کا سہارا لیا جا سکتا ہے“۔
امام رضی اللہ تعالٰی عنہ : ”اس نے کیا سوال کیا ہے ؟ “
ہشام: ”اس نے کہا کہ کیا تمہارا خدا اس بات پر قادر ہے کہ اس وسیع دنیا کو ایک انڈے کے اندر سمودے جب کہ نہ دنیا چھوٹی ہو اور نہ انڈا بڑا ہو ؟ “
امام رضی اللہ تعالٰی عنہ : ”اے ہشام! تمہارے پاس کتنے حواس ہیں ؟ “
ہشام: ”میرے پانچ حواس ہیں“۔(سامعہ ،باصرہ، ذائقہ ،لامسہ اور شامہ )
امام رضی اللہ تعالٰی عنہ : ”ان میں سب سے چھوٹی حس کون سی ہے ؟ “
ہشام: ”باصرہ“۔
امام رضی اللہ تعالٰی عنہ : ”آنکھوں کا وہ ڈھیلا جس سے دیکھتے ہو، کتنا بڑا ہے ؟ “
ہشام: ”ایک چنے کے دانے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹا ہے“۔
امام رضی اللہ تعالٰی عنہ : ”اے ہشام ! ذرا اوپر اور سامنے دیکھ کر مجھے بتاوٴ کہ کیا دیکھتے ہو ؟“
ہشام نے دیکھا اور کہا: ”زمین، آسمان ،گھر، محل ،بیابان ،پہاڑ اور نہروں کو دیکھ رہا ہوں“۔
امام رضی اللہ تعالٰی عنہ : ”جو خدا اس بات پر قادر ہے کہ اس پوری دنیا کو تمہاری چھو ٹی سے آنکھ میں سمو دے وہی اس بات پر بھی قادر ہے کہ اس دنیا کو ایک انڈے کے اندر سمودے اور نہ دنیا چھوٹی ہو نہ انڈہ بڑا ہو۔
ہشام نے جھک کر امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہاتھ اور پیروں کا بوسہ دیتے ہوئے کہا: ”اے فرزند رسول ! بس یہی جواب میرے لئے کافی ہے“۔
ہشام: ”ہاں“۔
عبد اللہ: ”آیا تمہارا خدا قادر ہے ؟ “
ہشام: ”ہاں میرا خدا قادر ہے اور تمام چیزوں پر قابض بھی ہے“۔
عبد اللہ: ”کیا تمہارا خدا ساری دنیا کو ایک انڈے میں سمو سکتا ہے جب کہ نہ دنیا چھوٹی ہو اور نہ ہی انڈا بڑا ہوا۔؟ “
ہشام: ”اس سوال کے جواب کے لئے مجھے مہلت دو“۔
عبد اللہ: ”میں تمہیں ایک سال کی مہلت دیتا ہوں“۔
ہشام یہ سوال سن کر امام رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت میں پہنچے اور عرض کیا: ”اے فرزند رسول !،عبد اللہ دیصانی نے مجھ سے ایک ایسا سوال کیا جس کے جواب کے لئے صرف اللہ تعالٰی اور آپ کا سہارا لیا جا سکتا ہے“۔
امام رضی اللہ تعالٰی عنہ : ”اس نے کیا سوال کیا ہے ؟ “
ہشام: ”اس نے کہا کہ کیا تمہارا خدا اس بات پر قادر ہے کہ اس وسیع دنیا کو ایک انڈے کے اندر سمودے جب کہ نہ دنیا چھوٹی ہو اور نہ انڈا بڑا ہو ؟ “
امام رضی اللہ تعالٰی عنہ : ”اے ہشام! تمہارے پاس کتنے حواس ہیں ؟ “
ہشام: ”میرے پانچ حواس ہیں“۔(سامعہ ،باصرہ، ذائقہ ،لامسہ اور شامہ )
امام رضی اللہ تعالٰی عنہ : ”ان میں سب سے چھوٹی حس کون سی ہے ؟ “
ہشام: ”باصرہ“۔
امام رضی اللہ تعالٰی عنہ : ”آنکھوں کا وہ ڈھیلا جس سے دیکھتے ہو، کتنا بڑا ہے ؟ “
ہشام: ”ایک چنے کے دانے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹا ہے“۔
امام رضی اللہ تعالٰی عنہ : ”اے ہشام ! ذرا اوپر اور سامنے دیکھ کر مجھے بتاوٴ کہ کیا دیکھتے ہو ؟“
ہشام نے دیکھا اور کہا: ”زمین، آسمان ،گھر، محل ،بیابان ،پہاڑ اور نہروں کو دیکھ رہا ہوں“۔
امام رضی اللہ تعالٰی عنہ : ”جو خدا اس بات پر قادر ہے کہ اس پوری دنیا کو تمہاری چھو ٹی سے آنکھ میں سمو دے وہی اس بات پر بھی قادر ہے کہ اس دنیا کو ایک انڈے کے اندر سمودے اور نہ دنیا چھوٹی ہو نہ انڈہ بڑا ہو۔
ہشام نے جھک کر امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہاتھ اور پیروں کا بوسہ دیتے ہوئے کہا: ”اے فرزند رسول ! بس یہی جواب میرے لئے کافی ہے“۔
(اس بات پر توجہ رہنا چاہئے کہ خدا کی قدرت محال چیزوں سے تعلق نہیں رکھتی۔اس جواب میں امام کا مقصد در اصل عوام کو قانع کرنا تھا جیسے اگر کسی سے پوچھا جائے کہ کیا انسان اڑسکتا ہے ؟اور وہ اس کے جواب میں کہے: ”ہاں اڑ سکتا ہے وہ ایک ہوائی جہاز بنائے اور اس میں بیٹھ کر فضا میں پرواز کر سکتا ہے“۔امام ،آنکھ کے ڈھیلے کی مثال سے یہ بتانا چاہتے تھے کہ اگر تم قدرت خدا سمجھنا چاہتے ہو تو اس طرح سمجھو نہ کہ غیر معقول مثال کے ذریعہ کہ کیا خدا انڈہ میں پوری دنیا سمو سکتا ہے جب کہ نہ دنیا چھوٹی ہو اور نہ انڈہ بڑاہو یا یہ بھی کوئی محال کام نہیں ہے اور خدا اس بات پر قادر ہے اس کے علاوہ کوئی دوسری صورت محال ہے اور خدا محالات عقلیہ پر قدرت نہیں رکھتا یہ توایسا ہی ہوگا کہ ہم سوال کریں کہ کیا خدا اس بات پر قادر ہے کہ وہ دو اور دو چار کے بجائے پانچ کر دے۔اس طرح کا سوال سراسر غلط ہے، اس مسئلہ کی مکمل تحقیق اور یہ کہ خدا کی قدرت محال چیزوں سے متعلق ہوتی ہے یا نہیں اس سلسلہ میں مختلف کلامی اور فلسفی بحثوں پر مشتمل کتابوں کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے ۔ )
ہشام اپنے گھر آئے اور دوسرے ہی دن عبد اللہ ان سے جاکر کہنے لگا:“۔میں سلام عرض کرنے آیا ہوں نہ کہ اپنے سوال کے جواب کے لئے“۔
ہشام نے کہا: ”تم اگر اپنے کل کے سوال کا جواب چاہتے ہو تو اس کا جواب یہ ہے، اس کے بعد آپ نے امام رضی اللہ تعالٰی عنہ کا جواب اسے سنا دیا۔
عبد اللہ دیصانی نے فیصلہ کیا کہ خود ہی امام کی خدمت میں پہنچ کر اپنے سوالات پیش کرے۔
وہ امام کے گھر کی طرف چل پڑا، دروازے پر پہنچ کر اس نے اجازت طلب کی اور اجازت ملنے کے بعد گھر کے اندر داخل ہوگیا۔اندر جانے کے بعد وہ امام کے قریب آکر بیٹھ گیا اورا پنی بات شروع کرتے ہوئے کہنے لگا:
”اے جعفر بن محمد مجھے میرے معبود کی طرف جانے کا راستہ بتا دو“۔
امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پوچھا:
”تمہارا نام کیا ہے ؟ “
عبد اللہ باہر نکل گیا اور اس نے نام نہیں بتایا۔اس کے دوستوں نے اس سے کہا:
تم نے اپنا نام کیوں نہیں بتایا؟“
اس نے جواب دیا:
”میں اگر اپنا نام عبد اللہ (خدا بندہ )بتاتا تو وہ مجھ سے پوچھتے کہ تم جس کے بندہ ہو ، وہ کون ہے ؟
عبد اللہ کے دوستوں نے کہا:
”امام رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس واپس جاوٴاور ان سے یہ کہو آپ مجھے میرے معبود کا پتہ بتائیں اور میرا نام نہ پوچھیں“۔
عبد اللہ واپس گیا اور جا کر امام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے عرض کیا:
”آپ مجھے خدا کی طرف ہدایت کریں مگر میرا نام نہ پوچھیں“۔
امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے اس سے فرمایا:
”وہاں بیٹھ جاوٴ“۔
عبد اللہ بیٹھ گیا۔اسی وقت ایک بچہ ہاتھ میں ایک انڈا لئے کھیلتا ہوا وہاں پہنچ گیا ،امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بچہ سے فرمایا:
لاوٴ انڈہ مجھے دے دو“۔
امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے انڈہ کو ہاتھ میں لے کر عبد اللہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”اے دیصانی !اس انڈہ کی طرف دیکھ جو ایک چھلکے سے ڈھکا ہوا ہے اور چند جھلیوں میں مقید ہے۔
۱۔موٹی جھلی۔
۲۔موٹی جھلی کے نیچے نازک اور پتلی جھلی پائی جاتی ہے۔
۳۔اور نازک اور پتلی جھلی کے نیچے پگھلی ہوئی چاند ی(انڈہ کی سفیدی ) ہے۔
۴۔اس کے بعد پگھلا ہوا سونا (انڈے کی زردی)ہے مگر نہ یہ اس پگھلی ہوئی چاندی سے ملتا ہے اور نہ وہ پگھلی ہوئی چاندی اس سونے میں ملی ہوتی ہے بلکہ یہ اپنی اسی حالت پر باقی ہے نہ کوئی اس انڈے سے باہر آیا ہے جو یہ کہے کہ میں نے اسے بنایا ہے اور نہ ہی باہر سے کوئی اندر ہی گیا ہے جو یہ دعویٰ کر سکے کہ میں نے اسے تباہ کیا ہے ،نہ یہ معلوم کہ یہ نر کے لئے ہے یامادہ کے لئے اچانک کچھ مدت کے بعد یہ شگافتہ ہوتا ہے اور اس میں سے ایک پرندہ مور کی طرح رنگ برنگ پروں کے ساتھ باہر آجاتا ہے کیا تیری نظر میں اس طرح کی ظریف وباریک تخلیقات کے لئے کوئی مدبر و خالق موجود نہیں ہے ؟ “
عبد اللہ دیصانی نے یہ سوال سن کر تھوڑی دیر تک سر جھکائے رکھا(اس کے قلب میں ایمان روشن ہو چکا تھا )اور پھر اس نے بلند آواز میں کہا: ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی دوسرا معبود نہیں ہے وہ وحدہ لاشریک ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کے رسول ہیں او ، میں اپنے باطل عقیدہ سے توبہ کرتا ہوں اور پشیمان ہوں۔
ہشام اپنے گھر آئے اور دوسرے ہی دن عبد اللہ ان سے جاکر کہنے لگا:“۔میں سلام عرض کرنے آیا ہوں نہ کہ اپنے سوال کے جواب کے لئے“۔
ہشام نے کہا: ”تم اگر اپنے کل کے سوال کا جواب چاہتے ہو تو اس کا جواب یہ ہے، اس کے بعد آپ نے امام رضی اللہ تعالٰی عنہ کا جواب اسے سنا دیا۔
عبد اللہ دیصانی نے فیصلہ کیا کہ خود ہی امام کی خدمت میں پہنچ کر اپنے سوالات پیش کرے۔
وہ امام کے گھر کی طرف چل پڑا، دروازے پر پہنچ کر اس نے اجازت طلب کی اور اجازت ملنے کے بعد گھر کے اندر داخل ہوگیا۔اندر جانے کے بعد وہ امام کے قریب آکر بیٹھ گیا اورا پنی بات شروع کرتے ہوئے کہنے لگا:
”اے جعفر بن محمد مجھے میرے معبود کی طرف جانے کا راستہ بتا دو“۔
امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پوچھا:
”تمہارا نام کیا ہے ؟ “
عبد اللہ باہر نکل گیا اور اس نے نام نہیں بتایا۔اس کے دوستوں نے اس سے کہا:
تم نے اپنا نام کیوں نہیں بتایا؟“
اس نے جواب دیا:
”میں اگر اپنا نام عبد اللہ (خدا بندہ )بتاتا تو وہ مجھ سے پوچھتے کہ تم جس کے بندہ ہو ، وہ کون ہے ؟
عبد اللہ کے دوستوں نے کہا:
”امام رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس واپس جاوٴاور ان سے یہ کہو آپ مجھے میرے معبود کا پتہ بتائیں اور میرا نام نہ پوچھیں“۔
عبد اللہ واپس گیا اور جا کر امام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے عرض کیا:
”آپ مجھے خدا کی طرف ہدایت کریں مگر میرا نام نہ پوچھیں“۔
امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے اس سے فرمایا:
”وہاں بیٹھ جاوٴ“۔
عبد اللہ بیٹھ گیا۔اسی وقت ایک بچہ ہاتھ میں ایک انڈا لئے کھیلتا ہوا وہاں پہنچ گیا ،امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بچہ سے فرمایا:
لاوٴ انڈہ مجھے دے دو“۔
امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے انڈہ کو ہاتھ میں لے کر عبد اللہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”اے دیصانی !اس انڈہ کی طرف دیکھ جو ایک چھلکے سے ڈھکا ہوا ہے اور چند جھلیوں میں مقید ہے۔
۱۔موٹی جھلی۔
۲۔موٹی جھلی کے نیچے نازک اور پتلی جھلی پائی جاتی ہے۔
۳۔اور نازک اور پتلی جھلی کے نیچے پگھلی ہوئی چاند ی(انڈہ کی سفیدی ) ہے۔
۴۔اس کے بعد پگھلا ہوا سونا (انڈے کی زردی)ہے مگر نہ یہ اس پگھلی ہوئی چاندی سے ملتا ہے اور نہ وہ پگھلی ہوئی چاندی اس سونے میں ملی ہوتی ہے بلکہ یہ اپنی اسی حالت پر باقی ہے نہ کوئی اس انڈے سے باہر آیا ہے جو یہ کہے کہ میں نے اسے بنایا ہے اور نہ ہی باہر سے کوئی اندر ہی گیا ہے جو یہ دعویٰ کر سکے کہ میں نے اسے تباہ کیا ہے ،نہ یہ معلوم کہ یہ نر کے لئے ہے یامادہ کے لئے اچانک کچھ مدت کے بعد یہ شگافتہ ہوتا ہے اور اس میں سے ایک پرندہ مور کی طرح رنگ برنگ پروں کے ساتھ باہر آجاتا ہے کیا تیری نظر میں اس طرح کی ظریف وباریک تخلیقات کے لئے کوئی مدبر و خالق موجود نہیں ہے ؟ “
عبد اللہ دیصانی نے یہ سوال سن کر تھوڑی دیر تک سر جھکائے رکھا(اس کے قلب میں ایمان روشن ہو چکا تھا )اور پھر اس نے بلند آواز میں کہا: ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی دوسرا معبود نہیں ہے وہ وحدہ لاشریک ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کے رسول ہیں او ، میں اپنے باطل عقیدہ سے توبہ کرتا ہوں اور پشیمان ہوں۔




عمران اقبال said
سبحان اللہ۔۔۔
تحریم said
پسند کا شکریہ