ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

نمک Salt

Posted by ارتقاءِ حيات on October 11, 2011


ایک مشہور فارسی مقولہ ہے کہ
ہرکہ درکان نمک رفت نمک باشد
یعنی جو نمک کی کان میں گیا وہ بھی نمک بن جائے گا
یہ معدن کھانے کو ذائقہ دار بنانے کے ساتھ ساتھ روزمرّہ کی زندگی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔اس کے بے شمار محاورے زدعام ہیں، جیسے نمک حرام ،نمک حلال، نمک پاشی وغیرہ۔۔۔
زمانہ قدیم میں بڑی بوڑھیاں نمک کا بڑا احترام کیا کرتی تھیں ان کا خیال تھا کہاگر زمیں پر نمک گر جائے تو ورز قیامت اسے پلکوں سے اٹھانا پڑے گا۔
کہا جاتا ہے جو کہ لاطینی زبان میں نمک ہی سے ماخوذہےکیونکہ قدیم رومیSalaryتنخواہ کو انگریزی زبان میں
سپاہیوں کو تنخواہ کی ادائیگی بمشکل نمک کی جاتی تھی۔
سب سے عام پایا جانے والا نمک ہے۔Naclکیمیاوی زبان میں سوڈیم کلورائڈ
یہ قدرتی ذخائر یا پھر سمندروں اور چھیلوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔نمک کی کئی اقسام ہماری روزمرّہ خوراک اور دواؤں میں استعمال ہوتی ہیں جیسے لاہوری نمک ،نمک سانبھر، نمک سیاہ ،سمندی نمک اور اب آئیوڈین نمک۔
نمک کے سب سے بڑے ذخائر کھیوڑہ ،ضلع جہلم میں ہیں مگر نمک کا سب سے زیادہ استعمال جاپانی باشندے کرتے ہیں،جنوبی کوریا اور مشرق بعید کے باشندے بھی اب انہی کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔
انسان جب زمین پر وارد ہوا تو نمک کے استعمال سے ناواقف تھا ۔ اس کے اسرار رفتہ رفتہ اس پر کھلتے  چلے گئے ۔ کرسٹو فر کولمبس کے ساتھیوں نے جب نمک پہلی بار سرخ ہندیوں کو چکھایا تو انہوں نے اسےسفید جادو قرار دیا اور بدلے میں تمباکو نوشی کا مضر صحت تحفہ دے ڈالا۔
ابتدامیں جب نمک دریافت ہوا تو گراں ہونے کے باعث عام آدمی کی پہنچ سے باہر تھا۔امراء اسے گوشت کو محفوظ رکھنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔عام آدمی تو استعمال کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔امراء کے یہاں جب کوئی خاص معزز مہمان آتا تب ہی وہ اسے میز کے درمیان بڑے اہتمام سےرکھا جاتا تھا۔
جسم انسانی میں نمک کی کل مقدار تقریباً200گرام ہوتی ہے۔جبکہ روزمرہ کی ضرورت محض ڈیڑھ گرام ہے ۔ اس کے باوجود ریاست ہائے متحدہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک کے باشندے بھی تقریباً20گرام یومیہ نمک استعمال کرتے ہیں۔
اس میں کچھ شک نہیں کے نمک خوراک میں ذائقہ کو جنم دیتا ہے ۔ غذا میں قدرتاًٍ نمک موجود ہوتا ہےلیکن ہمارا ذائقہ ہی ہمیں مزید نمک کے استعمال پر مجبور کر دیتا ہے۔ گوشت، مچھلی،انڈہ، دودھ میں نمک کی کافی مقدار موجود ہوتی ہے۔سبزیوں میں بھی ہماری جسمانی ضروریات کے مطابق نمک ہمیں مل جاتا ہے۔روٹی ، چاول اور آلو میں نمک کی مقدار کم ہوتی ہے اگر ان میں نمک شامل نہ ہو تو یہ ہمیں بے ذائقہ اور پھیکے معلوم ہوں۔گوشت تو بغیر نمک کے بھی ذائقہ دیتا ہے۔
جو افراد کم نمک کھائیں ان کے خون کا دباؤ معمول کے مطابق رہتا ہے اور نمک اور تمباکو نوشی کے استعمال سے فشار خون کی سطح حد سے بلند ہو جاتی ہے۔یہ ایک فضول خیال ہے کہ گرم ممالک کے باشندوں کو خوراک میں نمک کی اضافی ضرورت رہتی ہے۔
ہمارے جسم میں نمک کا سب سے زیادہ اخراج بذریعہ پیشاب اور فضلہ ہوتا ہے۔پسینے میں اس کی مقدار کم ہوتی ہے۔
دیکھا گیا ہے جو لوگ نمک زیادہ استعمال کرتے ہیں وہ چکنائی بھی خوب کھاتے ہیں، لہٰذا انکے خون میں بہ افراط روغن بھی ہوتا ہے۔جس سے ان کے جسم کی چھوٹی اور مہین نسیں سخت، کھدری اور تنگ ہو جاتی ہیں نا صرف یہ بلکہ اس کے باعث ان میں خراشیں اور کھچاؤ بھی ہوجاتا ہے اور یوں رگیں بند ہونے کا خطرہ بنتا ہے۔ اسی واسطے نمک انسانی جسم کے لئے سم قاتل ہے۔
ہماری غذا میں نمک کی افراط کھانے کئ سوڈے،خمیری روٹی، مکھن اور یخنی سے بھی ہوتی ہے۔ لوگ بیماری کے بعد مریضوں خصوصاً معمر افراد کو گوشت اور سبزی کی یخنی پلا کر سمجھتے ہیں کہ ان کی کھوئی ہوئی طاقت بحال ہو گئی سچ تو یہ ہے کہ یخنی میں موجود نمک الٹا نقصان پہنچا سکتا ہے۔
آج کل بچوں میں بازاری اشیائے خورد نوش مثلاً آلو کے چپس ،مسالے دار فرنچ فرائز، چھولے، چاٹ ، دہی بڑے، گول گپے اور فاسٹ فوڈدغیرہ کا رجحان فروغ پا رہا ہے ان سب میں نمک کی افراط ہوتی ہے۔ اسی طرح زمانہ شیر خواری میں ماں کے دودھ کی نسبت دیگر اقسام کے دودھ میں نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ یہ مقدار بچے کی نشوونما کے لئے مفید نہیں اسی طرح جب ماں بچے کی ٹھوس غذا شروع کرتی ہیں تو لا علمی میں اپنے ذائقہ کے لحاظ سے نمک ملا دیتی ہیں پھر یہی ذائقہ بچے کی عمر بھر کے لئے معیاری ذائقہ بن جاتا ہے۔
یاد رکھئے نمک لگی مونگ پھلی، کاجو، پستے،اور بیج وغیرہ ، اچار ،کھٹی میٹھی چٹنیوں، فاسٹ فوڈز، بازاری پکوان کو نہایت اعتدال سے استعمال کیجئے۔غذا پر نمک چھڑک کر استعمال نہ کیجئے۔غذا میں کم نمک ہی پورے گھرانے کی صحت اور تندرستی کا ضامن ہے۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers