امریکن بلیّاں Skunk
Posted by ارتقاءِ حيات on October 8, 2011
بر صغیر میں پائی جانے والی عام بلیوں کے برابر جسامت کا یہ جانور بظاہر بے ضرر اور پر امن ہے مگر آپ سے ناراض نہ کر بیٹھیے ۔ ورنہ یہ اپنے نتھنوں میں لگی حفاظتی بندوق استعمال کرے گا۔ تب اس سے نکلنے والےشدید بدبودار گیس اور سیال مادے کے اسپرے سےآپ گا دماغ پھٹنے لگے گا اور آپ کے کپڑے مزید استعمال کے قابل نہیں رہیں گے۔یہ عمل انسانوں کے ساتھ ساتھ دیگر جانوروں پر بھی قابل عمل ہوتا ہے یعنی اس کی بو سے دیگر جانور بھی سخت خائف ہیں۔
قدرت نے سکنک نامی اس جانور کو اپنی حفاظت کے طور پر 2غدود عطا کیے ہیں جو دم کے قریب واقع ہیں۔
یہ غدود پیدائش کے وقت ہی سے قابل استعمال ہوتے ہیں تاہم بچپن میں یہ صرف گیس خارج کرتے ہیں بعد ازاں بلی ان کی مدد سے نتھنوں کے راستے سیال مادہ بھی خارج کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔
یہ اپنی جنس کے علاوہ باقی تمام جانوروں سے الگ تھلگ زندگی گذارنا پسند کرتی ہے اس کے باوجود دیہاتی لوگ اور خاص کر بچے اسے پالتو جانور کے طور پر پالنا پسند کرتے ہیں۔دراصل معمولی آپریشن کی مدد سے اس کی بدبودار گیس اور سیال مادہ پیدا کرنے والے غدود نکال دیئے جاتے ہیں تاکہ بچے بے دھڑک ان کے ساتھ کھیل سکیں۔
امریکی بلی کے چوڑے ہوئے سیال کی بدبو کئی روز تک ہوا میں برقرار رہتی ہے،جسے سونگھ کر راہگیر با آسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کے بلی اور دشمن کے درمیاں کس جگہ مقابلہ ہوا ہوگا۔ امریکی بلی اس کے باوجود بھی انسان کے لئے کافی لحاظ سے مفید ثابت ہوتی کے بعد اسے Processingہے اس کے جسم میں موجود دفاعی مادے کا بڑا حصہ گندھک پر مشتم ہے جس کی
عطریات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔بلی کی کھال کے دستانے اور بچوں کی جرسیاں بنانے کے کام بھی آتی ہیں۔
گیس اور سیال مادہ چھوڑنے سے قبل بلی اپنی دم سیدھی کرتی ہے اور اگلے دو پنجوں کے ناخن غصے کے عالم میں پنجوں سے باہر آجاتے ہیں۔عین اسی لمحے بلی مضبوطی سے پاؤں زمین پر جما کر ایک یا بیک وقت دو نتھنوں سے بدبودار مادہ خارج کرتی ہے جو 8سے15فٹ کے فاصلہپر موجود دشمن کو فرار ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔

اس عمل کے دوران بلی دوبارہ پھینکنے کے لئے بدبودار مادہ جمع کر لیتی ہے۔ جوں مختصر وقفوں کے ساتھ سیال مادہ برسایا جاسکتا ہے۔اس مادے سے عارضی طور پر انسان کی بینائی متاثر ہو سکتی ہے،سانس لینے میں دشواری محسوس ہو سکتی ہے۔غرض امریکی بلی کے حملے کے بعد سوائے بھاگنے کے کوئی چارۂکار نہیں ہوتا۔
بلی کے چھوڑے گئے مواد سے خراب ہونے والے کپڑوں کو عموماً زمین میں دبا دیا جاتا ہے کیونکہ ان سے بدبو دور کرنا مشکل ہے۔ان بلیوں کی بعض اقسام اپنے دفاع کے لئے تیز نوکیلے دانتوں کا بھی استعمال کرتی ہیں۔
امریکی بلی عموماً سال میں 1بار4بچے دیتی ہے۔تاہم بسا اوقات انکی تعداد 8سے10بھی پہنچ جاتی ہے۔
امریکی بلی گوشت خور جانور ہے جو مچھلی،مینڈک سے لے کر سانپ تک کھا جاتی ہے۔پالتو بلیاں جانوروں اور خصوصاً کتوں کے لئے تیار کی گئی خوراک بھی کھا لیتی ہے۔
موسم گرما میں بلیاں اور ان کے بچے سارا دن اپنے بلوں میں سوتے ہیں شام ہوتے ہی بچے ماؤں کے ساتھ نکل کر خوراک تلاش کرتے ہیں اور صبح واپس پہنچ جاتے ہیں مادہ بلی بچوں کو شکار کرنا بھی سکھاتی ہے۔
تاجر اس بلی کی مختلف اقسام کو فروخت بھی کرتے ہیں بلی کے بچے کی قیمت لگ بھگ 20ڈالر فی کس ہوتی ہے بالوں کے بغیر بلی کی کھال 20 ڈالر جبکہ چوڑی سفید دھاری دار کھال کے 50ڈالر تک مل جاتے ہیں۔
سوتی ہیں،اس موقع پر شکاری ان کی تاک میں رہتے ہیں۔Hibernationسردیوں میں بلیاں عموماً لمبی نیند
یہ لوگ موسم سرما کی آمد سے قبل بلیوں کے بلوں کے آس پاس نشان لگا لیتے ہیں پھر کسی روز اچانک سوئی ہوئی بلی کو نرم مٹی ہٹا کر ہلکی بندوق سے شکار کر لیتے ہیں۔
اور بدبودار گیس و مادہ چھوڑنے کے باعث قدیم فرانسیسی اور کینیڈین محاورے کے طور پر Skunkامریکہ میں اس کو سکنک
اسے “شیطان کی بچی”کہا جاتا ہے




