ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

3دنیائیں

Posted by ارتقاءِ حيات on October 5, 2011

بے شمار دنیاؤں میں سے صرف 3 سے بحث کرنا کافی ہےیعنی کرۂ ارض یا خاکی دنیا، جذباتی دنیا، اور ذہنی دنیا۔
ان میں سے ہر ایک دنیا ایسی ہستیوں سے آباد ہے جو اپنے اپنے ماحول میں بسنے کے لئے موزوں ہیں۔ اس کرۂ ارض پر بنی نوع انسان، حیوانات، نباتات، معدنیات وغیرہ ہیں اور ان میں سے ہر نوع ایک نوعی شعور رکھتی ہے۔معدنیات میں پست درجے کا شعور ہے۔اس کے بعد نباتات کا پھر حیوانات کا اور پھر انسان کا درجہ ہے۔انسان میں شعور کی تکمیل ہو جاتی ہے۔شعور کا قانون ہے کہوہ پستی سے بلندی کی جانب حرکت کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ معدنیات، نباتات اور حیوانات انسان کی طرف ارتقا کرتے رہتے ہیں۔انسان قبل اس کے کہ فوق الانسان بنے اپنی حیات میں ارتقا کی نجانے کتنی منزلیں طے کرسکتا ہے۔اور طے کر لیتا ہے۔اس وقت انسان کو نہ صرف اپنے خیالات و جذبات بلکہ کرۂ ارض سے نکل کر جذباتی دنیا اور دوسری دنیاؤں پر بھی قابو حاصل ہو جاتا ہے ۔عام طور پر انسان کو صرف اپنی جسمانی دنیا اور ذہنی دنیا اور اس کے گردو پیش کا ادراک ہوتا ہے، اس لئے کہ انسان کی جسمانی ہستی اپنی پوری ترقی کر چکی ہوتی ہے۔ہم کو جذتی دنیا اور دوسری دنیاؤں کا کہاں تک علم ہے ،یہ موقوف ہے اس پر کہ ہم نے اپنی دوسری ہستیوں کو کہاں تک ترقی دی ہے۔ اور اس ترقی کا انحصار ہماری قوت ارادی پر ہے۔جتنا ہمارا ارادہ قوی اور پختہ ہوگا اتنا ہی زیادہ ہمیں اپنے مختلف وجودوں (جذباتی وجود ،ذہنی وجود اور روھانی وجود)پر تصرف حاصل ہوگا، اور جتنا میں اپنے وجودوں پر اختیار ہو گا اتنا ہی زیادہ ہم دوسری دنیاؤں (برزخ کے مختلف طبقات)میں مداخلت کا اختیار ہوگا۔ریاضت نفس کرنے والوں کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے، اس لئے کہ انہیں اپنے جذبات پر مکمل قابو حاصل ہوتا ہے۔اس انسان کی قوت ارادی اس ارادہ کل کا کرشمہ ہے جو کل کائنات میں جاری و ساری ہے۔ اس قوت ارادی کے بل پر انسان نہ صرف اپنی زندگی کی مختلف تہوں کی تہذیب و ترتیب کرتا ہے بلکہ اپنے گردو پیش کی دنیاؤں اور وہاں کی ذی شعور ہستیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ہندو فلسفے میں انسان کوترلوکی (تین دنیاؤں میں کام کرنے والا)کہا گیا ہے۔یعنی انسان (ہندو نظریہ کے مطابق)3دنیاؤں کا باشندہ ہے۔جسم کی نیا ، ذہن کی دنا اور روح کی دنیا۔
انسان کے شعور کا بیشتر حصہ عموماً جسم کی دنیا میں صرف ہو جاتا ہے۔جب وہ سو جاتا ہے تو اس کا شعور جسمانی دنیا کی حدود سے بلند تر ہو کر توفیق و استعداد کے مطابق برزخ کی جذباتی دنیا یا ذہنی دنیا میں پہنچ جاتا ہے اور وہاں پوری قوت سے کام کرنے لگتا ہے۔اس بیان سے یہ نتیجہ نہ نکالا جائے کہ انسانی ہستی کی صرف 3 تہیں ہیں، نہیں انگنت ہیں جو ہنوز مکمل نہیں ہوئیں۔ عموماً انسانی ہستی کی صرف 3 تہیں ہی مکمل ہوئی ہیں جن کے ذریعے انسان 3 دنیاؤں کی سیر کر سکتا ہے، لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ یہ تینوں ہستیاں ایک دوسرے کے اندر موجود ہیں اور ایک ساتھ کام کرتی ہیں البتہ ان میں سے ایک ہستی  دوسرے پر غالب رہتی ہے۔بعض لوگوں کی جذباتی اور ذہنی ہستی دوسرے پر غالب رہتی ہے اور بعض لوگوں کی جذباتی و ذہنی ہستی اس قدر کمزور ہوتی ہے کہ وہ جسمانی ہستی سے آزاد ہونے کے بعد بھی اپنے جسمانی وجود کے ماحول میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ لیکن بعض تربیت یافتہ افراد میں ان کے ذہنی و جذباتی وجود اس قدر مکمل اور پختہ ہوتے ہیں کہ وہ جسمانی زندگی ہی میں نہ صرف دوسری دنیاؤں کی سیر کر سکتے ہیں بلکہ ان دنیاؤں میں رہنے والی مخلوق کے ارتعاشات بھی قبول کرتے اور اپنے وجود کے ارتعاشات(لہروں)کے ذریعے جواب بھی دیتے ہیں یعنی ان نا دیدہ مخلوق سے مکمل رابطہ بھی قائم ہوتا ہے۔خواب کی حالت میں عام طور پر یہ روابط بڑھ جاتے ہیں ہم خواب میں نہ صرف ان ہستیوں سے ملتے ہیں بلکہ ان کے پیغامات بھی وصول کرتے ہیں۔خوب میں نہ صرف عالم برزخ کے باسیوں سے ملاقات ہوتی ہے بلکہ اس دنیائے آب و خاک کے ان باشندوں سے بھی ملنا ہو جاتا ہے ، جن کا شعور عالم  خواب مین کارفرما ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

One Response to “3دنیائیں”

  1. [...] 3دنیائیں [...]

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers