ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

“جسم مثالی”یاAura حصہ دوم

Posted by ارتقاءِ حيات on October 1, 2011

1967 میں ماسکو اور لینن گراڈ(پیٹرزبرگ)کے درمیان “ٹیلی پیتھی”کا کامیاب تجربہ کیا گیا اس تجربہ میں خلائی نوردی کے جدید ترین آلات استعمال کئے گئےاور کمپیوٹرز کی مد ست پیغام بھیجنے والے  اور وصول کرنے والے کی دماغی لہروں کو ریکارڈ کیا گیا۔روسی سائنسدانوں کا بیان ہے کہ ٹیلی پیتھی کے ذریعے بھیجنے والے اشارات کو  ڈی کوڈ کیا گیا
اور 400 میل کے فاصلے (ماسکو سے لینن گراڈ)پر ذہن کا ذہن سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔اس کے ساتھ روس کے فنی رسالوں(ٹیکنیکل میگزینز)کو اور روسی یونیورسٹیوں نے کمپیوٹرازڈ ٹیلی پیتھی سے کہیں زیادہ حیرت انگیز حقیقت کا انکشاف کیا کہ”انسانی جسم کے گرد ایک ہالہ نور پایا جاتا ہے ۔ انہوں نے انسانی جسم کے ہالہ نور کی  رنگین و روشن تصاویر شائع کیں ۔کیا ہے جس کا تذکرہ بار با رپراسرار علوم کی کتابوں میں کیا گیا ہے؟AURAیہی وہ دائرہ روشن
انسانی جسم سے برقی لہریں سی نکلتی ہیں نہایت تیز کبھی ان کا رنگ نارنجی ہوتا ہے اور کبھی نیلا ۔ روسی سائنسدانوں کے اس انکشاف نے سائنسی دنیا کو غرق حیرت کر دیا ہے۔

10 Responses to ““جسم مثالی”یاAura حصہ دوم”

  1. اطلاع دی جاتی ہے کہ آپ کا تبصرہ ميرے زندہ بلاگ پر منتقل کر ديا گيا ہے ۔ يہاں ديکھ ليجئے
    http://www.theajmals.com/blog/2005/06/sixth-sense-or-telepathy-%DA%86%DA%BE%D9%B9%DB%8C-%D8%AD%D8%B3-%DB%8C%D8%A7-%D9%B9%DB%8C%D9%84%DB%8C-%D9%BE%DB%8C%D8%AA%DA%BE%DB%8C-%D8%9F/comment-page-1/#comment-24660

    مُردوں کے پاس جانے سے احتراز کيجئے :lol:

  2. Saad said

    ان برقی لہروں سے کسی ساتھ والے کو کبھی کرنٹ تو نہیں لگا آج تک

  3. mdnoor7m said

    محترمہ تحریم صاحبہ لگتا ہے آپ کو مافوق الفطرت باتوں سے life before life دلچسپی ہے ۔ اس سلسلے کی ایک کتاب
    کے نام سے امریکہ میں چھپی تھی جو تھوڑی سی کوشش سے نیٹ پر آپ کو مل جائے گی ۔ اس کتاب میں ماہِر نفسیات ڈاکٹر ہیلن ویمبیچ نے اپنے تجربات کا نچوڑپیش کیا ہے جو کافی دلچسپ ہے۔۔۔ ۔ مافوق الفطرت باتوں میں دلچسپی لینے کیلئے میرا خیال ایسا ہے کہ دماغ اور عقیدہ دونوں کو کافی مظبوط ہونے چاہئیں کہ انکو نقصان پہنچنے کا اندیشہ رہتا ہے ۔ شکریہ( ایم ۔ ڈی )۔

  4. mdnoor7m said

    ۔ ” تصحیح “۔ دماغ کے بجائے ذہن پڑھا جائے۔ شُکریہ۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers