معدنی تیل کا خاتمہ
Posted by ارتقاءِ حيات on September 30, 2011
یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہےکہ دنیا کا تیل بتدریج ختم ہو رہا ہے،کیونکہ اس کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔دنیا کے خاتمے تیل کے خاتمے کے ساتھ وابسطہ کرنے والے لوگوں کے مطابق تیل کی طلب اور رسد میں فرق بڑھتا چلا جائے گااور پھر وہ لمحہ آجائے گا کہ جب تیل کی طلب اس کی رسد سے بہت بڑھ جائے گی۔کچھ لوگوں کے خیال میں یہ فرق رونما ہو چکا ہے،جبکہ بعض لوگوں کے مطابق یہ واقعہ 2020 میں رونما ہو گا۔ تیل کے خاتمہ یا اس کی بہت زیادہ کمی ہوجانے کی وجہ سے دنیا بھر میں صنعتیں اور زراعت کے شعبے شدید متاثر ہوں گے۔ بہت بڑا معاشی بحران جنم لے گا ۔کھادیں، کیڑے مار ادوایات اور زمینی پانی کی کمی کی وجہ سے فصلیں تباہ ہو جائیں گی یا زرعی پیداوار انتہائی کم ہو جائے گی۔ جس کی وجہ سے معاشرتی نظام زندگی درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔
تیل یقیناً ایک دن ختم ہو جائے گا لیکن اہم سوال یہ کہ ایسا کب ہو گایا؟ اس کے خاتمے سے قبل انسان اس کا متبادل ایندھن تلاش کر سکے گا یا نہیں؟
ایم کنگ ہوبرٹ نے 1956 میں یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ 1965سے 1970 کے درمیانی عرصہ میں امریکہ کے تیل کی پیداوار اپنے عروج پر پہنچنے کے بعد روبہتنزل ہو جائے گی، اور ان کا یہ نظریہ درست ثابت ہوااور اس کے بعد عالمی اقتصادی بحران کے دوران تیل کے کاروبار سے بہت بڑی مقدار میں سرمایہ نکال لیا گیااو راب نئے تیل کے کنوؤں کی تلاش کا کام تقریباً ٹھپ ہی ہو گیا ہے۔ماہرین کے اندازوں کے مطابق تیل کے خاتمے کے ساتھ دنیا میں ہونے والی معاشرتی تباہی کا امکان 10 میں سے 4فیصد ہے۔




محمد ریاض شاہد said
اگر آپ اس موضوع پر تفصیل سے پڑھنا چاہتی ہیں تو لیگٹ جرمی کی کتاب Half Gone ایک عمدہ کاوش ہے
افتخار اجمل بھوپال said
پھر بھی ہماری حکومت عوام اور مُلک کی جڑوں ميں تيل ديئے جا رہی ہے