ستیہ نارائن سائیں راجو پتا پرتھی
Posted by ارتقاءِ حيات on September 29, 2011
1926 میں بھارتی ریاست آندھرا پردیش جو اس وقت سلطنت عثمانیہ “دکن”کہلاتا تھا۔اس کے ایک گاؤں پتا پرتھی میں ایک بچے نے جنم لیا ۔ پیدائش کے چھٹے دن نام کرن کی پوجا پر اس کا نام ستیہ نارائن راجو پتا پرتھی رکھا گیا۔بچہ بڑا ہوتا گیا ساتھ ساتھ عادات و اطوار عام بچوں کے برخلاف ہوتی چلی گئیں۔ بعض اوقات ایسی گہری باتیں کہہ جاتا کہ عقل حیران رہ جاتی۔ لوگ کہتے یہ سنکی ہے۔ لوگوں کے طعنوں سے والدین بہت پریشان تھے۔گاؤں کے پنڈت وید نرائن ویبھونی شرن نے علاج تجویز کیا کہ سر کی ٹنڈ کرا کر اس پر استرے سے زخم بنائیں اور اس پر لیموں کا رس نچوڑا جائے۔ اس سے دماغ کا خناس نکل جائے گا۔بس جیسے ہی یہ علاج شروع ہوا ان عجیب و غریب حرکات میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا۔پھر وہ وقت بھی اگیا کہ پنڈت وید نرائن ویبھونی شرن کے مندر کا خاص کرتا دھرتا بن گیا۔پجاری تو وید نرائن کا بیٹا ہی تھا مگر ستیہ نارائن راجو پتا پرتھی وہا کا “تانترک”(عامل)بن کر وہاں “آسن”(جادو ٹونے کی محفل)لگانے لگا۔لوگ وہاں اپنی مشکلات کا حل دریافت کرنے آنے لگے۔ اس کی باتیں سچی نکلتیں،مستقبل کا حال درست نکلتا۔
شہرت دور دراز تک پہنچ گئی۔اس کا سب سے بڑا “چمتکار “یہ تھا وہ سائل کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر کچھ دیر بدبداتا پھر سائل کی پھیلی ہتھیلی پر شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کو رگڑتے ہوئے کہتا “لے تیرا علاج ہوگیا”اس کی چٹکی سے راکھ جھڑنا شروع ہو جاتی۔پوجا کے لئے جلائی گئی آگ “ہون”کی راکھ “وبیھونی”کو لوگ چاٹتے اور مرض دور ہوجاتا۔اندرا گاندھی نے اسے اپنا گرو بنا لیا تھا۔ہندو ایک خاص قسم کا بیج (رودارکھچ)جو چھوارے کے برابر ہوا کرتا ہےگلے میں دھاگے کے سہارے پہنا کرتے ہیں اس پر لکیریں سی بنی ہوتی ہیں سب سے اہم اس میں ایک لکیر (ایک مکھی)والا ہوتا ہے۔یہ ستیہ نرائن نے اندرا گاندھی کو بطور تحفہ دیا جسے ہر وقت وہ پہنے رہا کرتی۔
کیونکہ یہ مشہور ہے کہ جس کے گلے میں یہ ہو وہ سے حادثہ پیش نہیں آسکتا۔ مہاراشٹر کے شہر شری ڈی میں ایک مجذوب رہا کرتا تھا جسے ہندو مسلمان سب ہی مانتے تھے اور اس کے حالات زندگی پر بے شمار کتابیں لکھی ،ڈرامے فلمیں بنیں۔اسی شری ڈی کے سائیں بابا کے نام پرستیہ نرائن نے خود کو ستیہ سائیں بابا متعارف کروانا شروع کر دیا۔ وہ “چمتکار” دکھانے کی وجہ سے مشہور ہوتا چلا جا رہا تھا۔السر، ٹی بی،یا کسی اور پیچیدہ امراض کے مریض آتے تو وہ ہوا میں ہاتھ لہراتا،جس سے قینچی یا چھری ہاتھ میں آجاتی،جسے وہ مریض کےپیٹ یا زخم پر پھیر کر کہتا کہ میں نے آپریشن کر دیا ہے۔حیرت انگیز طور پر مرض میں افاقہ بھی ہوجاتا ۔ وہ ہاتھ ہوا میں لہراکر دوا بھی برآمد کرتا اور مریض کو دے دیتا۔ایسے ہی جنتر(تعویز )بھی برآمد کیا کرتا۔ایسے چمتکاروں کے خلاف شعبدہ بازوں نے بھرپورمہم بھی چلائی۔اور ایسے چمتکار کرنے کا طریقہ بھی بتایااور اس کی فلمیں بھی بنائیں ،جسے آج بھی یو ٹیوب پر دیکھا جا سکتا ہے۔لیکن اس کا سحر نہ ٹوٹ سکا لوگ اسی طرح اسکے آشرم کے بھریے نظر آتے۔چڑھاوے کے طور پر ہر روز بہت بڑی رقم آتی۔اس نے اس رقم سے فلاحی کام بھی کئے اپنے گاؤں”پتاپرتھی”کے نزدیک آشرم کے گرد ایک نیا شہر بسایا۔ایک ائرپورٹ ،دو اسپورٹس کمپلیکس ، ایک جدید ہسپتال اور اعلٰی درجے کے اسکول و کالج بنوائے۔بھارت بھر میں پرئمری تک مفت تعلیم کا انتظام کیا۔بنگلور میں اعلٰی مشینوں سے مزیّن اسپتال بتعمیر کروایا،جہاں مفت علاج کیا جاتا ہے۔کرشن ندی سے مدراس تک پانی پہنچانے اور اسے پینے کے قابل بنانے کے لئے پائپ لائن بچھوائی۔5ارب ڈالر کا امدادی ٹرسٹ فنڈ قائم کیا جس کی نظیر ایشیا بھر میں نہیں ملتی۔24اپریل 2011 کو 85سال کی عمر میں وہ طبعی موت مرا۔ اس کے مرنے کے بعد اس کے آشرم کے ایک کمرے سے 103کلو سونا،403کلو چاندی،ڈھائی کروڑ کے جواہرات اور 11 کروڑ نقد برآمد ہوئے۔ تادم تحریر بھارتی حکومت اس کے مجموعی اثاثے کی قیمت نہیں لگا پائی۔بھارت اور دیگر ممالک میں اس کے 7کروڑ سے زائدبھگت (مرید)ہیں پھر بھی یہ فیصلہ نہیں ہو پا یا کہ واقعی اس کے پاس کوئی آلوکک شکتی (روحانی قوت)تھی یا وہ ایک شعبدے باز تھا۔






Saad said
دلچسپ
تحریم said
شکریہ
سعد