ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

حیات ثانی

Posted by ارتقاءِ حيات on September 29, 2011

”ڈاکٹرریمنڈموڈی نے ایسے150افراد کے جو مرکر زندہ ہو گئے تھے کے بیانات پر مشتمل ایک کتاب چھاپی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
پچھلے 12 سالوں میں ایسے بہت سے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا جو موت کی وادی سے پلٹ آئے ہیں۔ ایسے پہلے آدمی سے میری ملاقات 1965؁ میں ہوئی جب ورجینیا یورنیوسٹی میں فلسفہ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ یہ صاحب طبی اسکولوں میں نفسیاتی امراج کے معالج اور معلم تھے ان کی باتیں میرے دل میں ترازو ہو گئیں، کیونکہ مجھے ایسے تجربات کو جانچنے اور پرکھنے کاموقع پہلے کبھی نہیں ملا تھااس لئے میں نے ان کے بیانات کو ٹیپ ریکارڈر میں محفوظ کر لیا تھا۔چند سال بعد جب میں ڈاکٹریٹ کی سند لے کر مشرقی نارتھ کیرولینا یورنیورسٹی میں فلسفہ کی تعلیم دیتا تھا تو ایک طالب علم نے تجویز پیش کی کہ آئیے “حیات ابد”پر گفتگو کریں۔ اس طالب علم کو حیات ابدی میں اس لئے دلچسپی تھی کہ اس کی دادی جان ایک آپریشن میں بظاہر فوت ہو گئیں تھین مگر ڈاکٹروں نے مریضہ کو بچا لیا تھا،۔مریضہ نے دوبارہ جسمانی زندگی حاصل کرنے کے بعد وہی تجربہ بیان کیا جو کئی سال قبل استاد نفسیات نے بتایا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کے میں نے فلسفے کے نصاب میں حیاتیاتی موت کے بعد بقائے انسانی کے مطالعہ کو بھی شامل کر لیا تھا۔1972؁ کا ذکر ہے میں کالج میں طبعی تعلیم کے لئے داخل ہوا ،اس وقت تک میں نے تجربہ مرگ کے کافی واقعات جمع کر لئے تھے میرے ایک دوست نے کہا کہ میں اسے ایک رپورٹ کی شکل میں میڈیکل سوسائٹی کے سامنے پیش کروں ۔ ان واقعات کو 3 نمایاں قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
1:ایسے لوگوں کے تجربات کہ جن کو میڈیکل سے متعلق ڈاکٹروں نے اعلان کر دیا کہ وہ طبعی نقطہ نظر سے مر چکے ہیں مگر انہیں بعد میں بچا لیا گیا۔
2:ایسے لوگوں کے تجربات کہ جو مختلف بیماریوں یا شدید ضرب کے دوران طبعی موت کے قریب پہنچ گئے تھے۔
3:ایسے لوگوں کے بیانات جنہوں نے حالت نزع میں اپنی کیفیت بیان کی،بتایا کہ موت کی وادی سے وہ کس طرح گزرے۔
اگر چہ وہ لوگ جو ان تجربات سے دوچار ہوئے وہ زندگی کی مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے تھے اور جس وقت پیام مرگ آیا تو اس وقت بھی ان کے گردو پیش کے حالات بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے ۔تاہم ان کے تاثرات و تجربات میں حیرت انگیز مشابہت پائی جاتی ہے۔ان درجہ ذیل نکات کی بنا پر میں ایک تجربہ بیان کرتا ہوں کہ:
ایک آدمی مر رہا ہے جب جسمانی تکلیف نقطہ عروج پر پہنچ جاتی ہے تو مرنےوالا ڈکٹر کو کہتے سنتا ہے کہ “یہ شخص مر چکا ہے”(اس کے بعد مرنے والے کا بیان ہے کہ)مجھے ایک پریشان کن شور سنائی دیا۔بلند گونچ یا بھنبھناہٹ سی۔اسی شور کے ساتھ یہ احساس ہوا کہ میں ایک طویل و تاریک سرنگ سے گزر رہا ہوںاس کے بعد میں نے دیکھا کہ میں اپنے جسم سے باہر ہوں۔عجیب بات تھی کہ میرا جسم میرے سامنے تھا اور میں ایک دوسرے جسم میں ملبوس تھا ۔ البتہ اس جسم کی صلاحیتیں اور نوعیت مختلف تھی۔ان کابیان یہ بھی ہے کہ وہ جب موت سے ہمکنار ہوئے تو ان کی ملاقات اپنے مرحوم اقربا و اعزا سے بھی ہوئی۔ وہ اجنبی مسافر کے استقبال کے لئے آئے تھے۔اچانک ایک محبت اور خلوص سے معمور پرنور ہستی رونما ہوتی ہے ۔ یہ مجسمہ نور زبان کے توسط کے بغیر آنے والے سے سوال و جواب کرتا ہے اور ہدایت دیتا ہے کہ اپنی زندگی کا جائزہ لے پھر وہ فرشتہ غیب ایک جانب اشارہ کرتا ہے جب مہبوت و متاثر مسافر عدم اس جانب دیکھتا ہے تو وہ اپنی زندگی کو فلم کی طرح تمام جزئیات کی طرح روں دیکھتا ہے۔
قارئین اس مضمون کا اصل مقصد بیان آپ لوگوں سے یہ جاننا ہے کیا آُپ کی زندگی کے لمحات میں یا آپ کے مشاہدے میں ایس کوئی واقعہ موجود ہے جو اس مضمون سے متعلق ہو جسے آپ یہاں ہم سے شیئر کرنا چاہیں
آپ کے جواب کے منتظر ہیں۔۔۔
…………………………………………………..

2 Responses to “حیات ثانی”

  1. يہ باتيں صرف کرنے کی ہيں ۔ اصليت صرف اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی جانتا ہے

    ميں اپنے جنم دن اور اپنی اپنے سے بڑی بہن کی شادی کے دن يعنی 6 اگست 1964ء کو ايک ٹريفک کے حادثہ ميں بظاہر ہلاک ہوا اور پھر زندہ ہو گيا

    اس نام نہاد موت کے دوران مجھے ایک پریشان کُن اور بلند شور سنائی دیا ۔ بلند گونچ يا بھنبھناہٹ سی تھی جو کبھی نہ سُنی تھی اور نہ سمجھ ميں آئی

    پھر مجھے اسی شور ميں سے کلمہ شہادت کی آواز آنا شروع ہوئی جو بہت سی آوازيں بن گئی اور شور پر چھا گئيں

    پھر سب آوازيں بند ہوگئيں ۔ پھر کچھ دير بعد جو کچھ منٹ سے ايک گھنٹہ ہو سکتی ہے ميں نے آنکھيں کھوليں تو ارد گرد کھڑے لوگ انتہائی پريشان نظر آئے ۔ چند منٹ وہ سب بُت بنے کھڑے رہے پھر ايک شخص نے جھک کر کہا “کيسی طبيعت ہے ؟”

    دوسرے دن ميرا ايک دوست اُس مقام پر صورتِ حال پتہ کرنے گيا تو جس ہوٹل والے نے مجھے اُٹھا کر چارپائی پر ڈالا تھا اور پھر ہوش ميں آنے کے بعد گرم دودھ کی ايک پيالی پلائی تھی نے بتايا

    “کمال ہے جی ۔ اللہ نے معجزہ دکھايا ۔ سڑک يک طرفہ ہے ۔ جوان موٹر سائيکل پر تيز جا رہا تھا ۔ بازو کی سڑک سے دو ٹيکسياں ٹريفک کی خلاف ورزی کرتی ہوئی آئيں ۔ جوان نے بچنے کی بہت کوشش کی مگر ٹيکسی کی سائيڈ لگنے سے دور جا گرا ۔ گر کر اُٹھا اور پھر گر گيا ۔ جب ميں نے اُسے اُٹھايا تو سانسيں ختم ہو چکی تھيں ۔ گھنٹہ ڈیڑھ بعد وہ زندہ ہو گيا”۔

  2. افتخار انکل یہ تو کمال ہوگیا ہے

    موت کے بعد دوبارہ زندگی۔۔۔

    تحریم (انٹی)یہ آپ نے کہاں سے اس موضوع کوڈھوند نکالا ہے۔۔۔۔۔؟

    آج کل تو نایاب نایاب موضوعات چھیڑ رہی ہیں

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers