قبلہ کی تبدیلی
Posted by ارتقاءِ حيات on September 28, 2011
قبلہ کی تبدیلی چند مصلحتیں
۱۔عرب کے قبیلےکعبہ کو پسند کرتے تھے لہٰذا وہ اس کی وجہ سے اسلام کی طرف راغب ہوئے۔
۲۔کعبہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا کے حکم سے بنایاتھا حضرت ابراہیم علیہ السلام تقریبا ًتمام مذاہب میں محترم تھے لہٰذا تمام مذاہب اسلام کی طرف مائل ہوئے ۔
۳۔یہودیوں کا اعتراض کہ مسلمانوں کا الگ قبلہ نہیں ہے بلکہ وہ ہمارے قبلہ ہی کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں اس تبدیلی سے بر طرف ہوگیا۔
۴۔مکہ مسلمانوں کے لئے نزدیک تھا اس کو قبلہ بنانا اس بات کا سبب بنا کہ مسلمان کعبہ اور مکہ کو بت پرستوں سے پاک کریں اور اپنے قبلہ کو اسلام کے پرچم تلے لے آئیں۔
۵۔اس تبدیلی سے پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کا احترام بھی مقصود تھا کیونکہ مکہ آپ کی جائے پیدائش تھا۔
[۶۔ایک مقصد مومن اور غیر مومن کی شناخت تھا جیسا کہ آپ اس مذاکرہ کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں گے
اور تم سے میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا تم سنیچر کے دن اپنے تمام کا موں کی چھٹی نہیں کرتے ہو اور پھر اتوار سے اپنے کاموں میںمشغول ہوجاتے ہواس میں سے تمہارا کون ساعمل صحیح ہے کیا پہلا درست ہے اور دوسرا باطل ہے یا دوسرا صحیح ہے اور پہلا باطل یا دونوں صحیح یا دونوں باطل ؟
گروہ یہود: ”دونوں صحیح ہیں“۔
حضرت محمدﷺ: ”میں بھی اسی طرح کہتا ہوں کہ دونوں حق ہیں چند ماہ اور چند سال پہلے بیت المقدس کی طرف قبلہ قرار دینا صحیح تھا لیکن آج کعبہ کو قبلہ سمجھنا صحیح ہے۔
تم لوگ بیماروں کی طرح ہو اور تمہارا طبیب حاذق خدا ہے اور بیماروں کی صحت اور عافیت اس میں ہے کہ وہ طبیب حاذق کی پیروی کرےں اور اس کے حکم کو اپنے ہواو ھوس پر مقدم کریں“۔
روز اول سے ہی کعبہ مسلمانوں کا قبلہ کیوں نہیں ہوا؟“
”اللہ تعالٰی نے قرآن میں سورہٴ بقرہ کی ۱۴۳ ویں آیت میں اس کا جواب دیا ہے :
” اور (اے مسلمانو!) اسی طرح ہم نے تمہیں (اعتدال والی) بہتر امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور (ہمارا یہ برگزیدہ) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر گواہ ہو، اور آپ پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم (پرکھ کر) ظاہر کر دیں کہ کون (ہمارے) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کرتا ہے (اور) کون اپنے الٹے پاؤں پھر جاتا ہے، اور بیشک یہ (قبلہ کا بدلنا) بڑی بھاری بات تھی مگر ان پر نہیں جنہیں اﷲ نے ہدایت (و معرفت) سے نوازا، اور اﷲ کی یہ شان نہیں کہ تمہارا ایمان (یونہی) ضائع کردے، بیشک اﷲ لوگوں پر بڑی شفقت فرمانے والا مہربان ہے “
اس آیت میں مسلمان کے لئے یہ حکم آیا ہے کہ ہم مشرکین سے مسلمان کو جدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ پہچانے جائیں اور ان کی صفیں جدا اور الگ ہوں، اللہ تعالٰی نے بیت المقدس کو مسلمانوں کا قبلہ اس لئے قرار دیا تھا کیونکہ اس زمانہ میں خانہ کعبہ مشرکین کے بتوں کا مرکز تھا اور مشرکین جاکران کے سامنے سجدہ کرتے تھے لیکن پیغمبراسلام محمد ﷺنے جب مدینہ ہجرت فرمائی اور وہاں ایک مستقل حکومت کی تشکیل دی تو مسلمانوں کی صفیں خود بخود مشرکوں سے الگ تھلگ ہوگئیں۔[ یہ حکم یہودیوں کو اپنی طرف مائل کر سکتا تھا جیسا کہ منصف مزاج یہودی مائل ہوئے] اور اب اس چیز کی ضرورت نہیں رہی کہ مسلمان بیت المقدس کی طرف سر جھکائیں، لہٰذا مسلمانوں نے کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا شروع کردیا، یہ بات بھی واضح ہے کہ بیت المقدس کی طرف اللہ تعالٰی نے سجدہ کرنے کا حکم اس لئے دیا تھا کہ نئے نئے مشرک جو مسلمان ہوئے تھے ان کے لئے اپنی عادتیں چھوڑنا ایک بہت ہی مشکل کام تھا کیونکہ ابھی ان میں پرانے رسوم باقی تھے اور جب تک انسان میں یہ قوت وصلاحیت نہ پیدا ہو کہ وہ اپنی عادت اور خرافات کو باآسانی ترک کرسکے وہ حق کی طرف مائل نہیں ہو سکتا لہٰذا جب انھیں پوری طرح آزمالیا گیا تو انھیں بیت المقدس کی طرف سے ہٹا کر کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ،اور در حقیقت شروع شروع میں بیت المقدس کو قبلہ قرار دینا اسلام کی ایک فکری اور معنوی تحریک تھی جس کے ذریعہ اسلام نے مشرکین کی پرانی عادتوں کو ختم کر دیا ،لیکن مدینہ میں اس طرح کی مصلحتیں نہیں پائی جاتی تھیں یا کعبہ کی طرف رخ کرنے میں زیادہ مصلحتیں تھیں۔[یہاں پر یہ بات بھی یادرہے کہ سمت قبلہ کی تبدیلی ایک طرح کی آزمائش تھی تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ تمام مسلمان اسلامی قوانین کے پوری طرح پابند ہیں یا نہیں؟ اوریہ بات بھی واضح ہے کہ خصوصاً ایسے مقامات پر منافقین غیر محسوس طریقہ اور نادانستگی کے عالم میں اپنے آپ کو پہچنوا دیتے ہیں ،ایسے ہی مواقع پر مسلمان اور کمزور ایمان والے اشخاص کے درمیان ممتاز ہو جاتے ہیں اور ان کی شناخت نہایت آسان ہو جاتی ہے۔ ]
۱۔عرب کے قبیلےکعبہ کو پسند کرتے تھے لہٰذا وہ اس کی وجہ سے اسلام کی طرف راغب ہوئے۔
۲۔کعبہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا کے حکم سے بنایاتھا حضرت ابراہیم علیہ السلام تقریبا ًتمام مذاہب میں محترم تھے لہٰذا تمام مذاہب اسلام کی طرف مائل ہوئے ۔
۳۔یہودیوں کا اعتراض کہ مسلمانوں کا الگ قبلہ نہیں ہے بلکہ وہ ہمارے قبلہ ہی کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں اس تبدیلی سے بر طرف ہوگیا۔
۴۔مکہ مسلمانوں کے لئے نزدیک تھا اس کو قبلہ بنانا اس بات کا سبب بنا کہ مسلمان کعبہ اور مکہ کو بت پرستوں سے پاک کریں اور اپنے قبلہ کو اسلام کے پرچم تلے لے آئیں۔
۵۔اس تبدیلی سے پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کا احترام بھی مقصود تھا کیونکہ مکہ آپ کی جائے پیدائش تھا۔
[۶۔ایک مقصد مومن اور غیر مومن کی شناخت تھا جیسا کہ آپ اس مذاکرہ کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں گے
اور تم سے میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا تم سنیچر کے دن اپنے تمام کا موں کی چھٹی نہیں کرتے ہو اور پھر اتوار سے اپنے کاموں میںمشغول ہوجاتے ہواس میں سے تمہارا کون ساعمل صحیح ہے کیا پہلا درست ہے اور دوسرا باطل ہے یا دوسرا صحیح ہے اور پہلا باطل یا دونوں صحیح یا دونوں باطل ؟
گروہ یہود: ”دونوں صحیح ہیں“۔
حضرت محمدﷺ: ”میں بھی اسی طرح کہتا ہوں کہ دونوں حق ہیں چند ماہ اور چند سال پہلے بیت المقدس کی طرف قبلہ قرار دینا صحیح تھا لیکن آج کعبہ کو قبلہ سمجھنا صحیح ہے۔
تم لوگ بیماروں کی طرح ہو اور تمہارا طبیب حاذق خدا ہے اور بیماروں کی صحت اور عافیت اس میں ہے کہ وہ طبیب حاذق کی پیروی کرےں اور اس کے حکم کو اپنے ہواو ھوس پر مقدم کریں“۔
روز اول سے ہی کعبہ مسلمانوں کا قبلہ کیوں نہیں ہوا؟“
”اللہ تعالٰی نے قرآن میں سورہٴ بقرہ کی ۱۴۳ ویں آیت میں اس کا جواب دیا ہے :
” اور (اے مسلمانو!) اسی طرح ہم نے تمہیں (اعتدال والی) بہتر امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور (ہمارا یہ برگزیدہ) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر گواہ ہو، اور آپ پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم (پرکھ کر) ظاہر کر دیں کہ کون (ہمارے) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کرتا ہے (اور) کون اپنے الٹے پاؤں پھر جاتا ہے، اور بیشک یہ (قبلہ کا بدلنا) بڑی بھاری بات تھی مگر ان پر نہیں جنہیں اﷲ نے ہدایت (و معرفت) سے نوازا، اور اﷲ کی یہ شان نہیں کہ تمہارا ایمان (یونہی) ضائع کردے، بیشک اﷲ لوگوں پر بڑی شفقت فرمانے والا مہربان ہے “
اس آیت میں مسلمان کے لئے یہ حکم آیا ہے کہ ہم مشرکین سے مسلمان کو جدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ پہچانے جائیں اور ان کی صفیں جدا اور الگ ہوں، اللہ تعالٰی نے بیت المقدس کو مسلمانوں کا قبلہ اس لئے قرار دیا تھا کیونکہ اس زمانہ میں خانہ کعبہ مشرکین کے بتوں کا مرکز تھا اور مشرکین جاکران کے سامنے سجدہ کرتے تھے لیکن پیغمبراسلام محمد ﷺنے جب مدینہ ہجرت فرمائی اور وہاں ایک مستقل حکومت کی تشکیل دی تو مسلمانوں کی صفیں خود بخود مشرکوں سے الگ تھلگ ہوگئیں۔[ یہ حکم یہودیوں کو اپنی طرف مائل کر سکتا تھا جیسا کہ منصف مزاج یہودی مائل ہوئے] اور اب اس چیز کی ضرورت نہیں رہی کہ مسلمان بیت المقدس کی طرف سر جھکائیں، لہٰذا مسلمانوں نے کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا شروع کردیا، یہ بات بھی واضح ہے کہ بیت المقدس کی طرف اللہ تعالٰی نے سجدہ کرنے کا حکم اس لئے دیا تھا کہ نئے نئے مشرک جو مسلمان ہوئے تھے ان کے لئے اپنی عادتیں چھوڑنا ایک بہت ہی مشکل کام تھا کیونکہ ابھی ان میں پرانے رسوم باقی تھے اور جب تک انسان میں یہ قوت وصلاحیت نہ پیدا ہو کہ وہ اپنی عادت اور خرافات کو باآسانی ترک کرسکے وہ حق کی طرف مائل نہیں ہو سکتا لہٰذا جب انھیں پوری طرح آزمالیا گیا تو انھیں بیت المقدس کی طرف سے ہٹا کر کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ،اور در حقیقت شروع شروع میں بیت المقدس کو قبلہ قرار دینا اسلام کی ایک فکری اور معنوی تحریک تھی جس کے ذریعہ اسلام نے مشرکین کی پرانی عادتوں کو ختم کر دیا ،لیکن مدینہ میں اس طرح کی مصلحتیں نہیں پائی جاتی تھیں یا کعبہ کی طرف رخ کرنے میں زیادہ مصلحتیں تھیں۔[یہاں پر یہ بات بھی یادرہے کہ سمت قبلہ کی تبدیلی ایک طرح کی آزمائش تھی تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ تمام مسلمان اسلامی قوانین کے پوری طرح پابند ہیں یا نہیں؟ اوریہ بات بھی واضح ہے کہ خصوصاً ایسے مقامات پر منافقین غیر محسوس طریقہ اور نادانستگی کے عالم میں اپنے آپ کو پہچنوا دیتے ہیں ،ایسے ہی مواقع پر مسلمان اور کمزور ایمان والے اشخاص کے درمیان ممتاز ہو جاتے ہیں اور ان کی شناخت نہایت آسان ہو جاتی ہے۔ ]




كاشف جعفرى said
پر إس مين آية كا تو ذكر هى نهين جس مين رسول ص كا حواله ديا گيا
اور يه بهى كه كس ني دوران نماز رخ بدله اور كس ني نهين
ادهورى بات تاريخ سي خيانت هي