ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

طالب علم اور عالم دین کی بات چیت

Posted by ارتقاءِ حيات on September 28, 2011

ایک جگہ کچھ مسلمان بیٹھے ہوئے جن میں ایک طالب علم اور ایک عالم دین کے درمیان اس طرح مذاکرہ ہوا۔
طالب عالم: ”قرآن میں چند جگہوں
[سورہ ٴ بقرہ آیت ۵۵۔۵۶سورہٴ نساء آیت ۱۵۳ سورہٴ اعراف آیت ۱۵۵کی طرف رجوع فرمائیں۔] میں منجملہ سورہٴ اعراف کی ۱۴۳ویں آیت میں ہم پڑھتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے خدا سے عرض کیا:
 اور جب موسٰی (علیہ السلام) ہمارے (مقرر کردہ) وقت پر حاضر ہوا اور اس کے رب نے اس سے کلام فرمایا تو (کلامِ ربانی کی لذت پا کر دیدار کا آرزو مند ہوا اور) عرض کرنے لگا: اے رب! مجھے (اپنا جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار کرلوں، ارشاد ہوا: تم مجھے (براہِ راست) ہرگز دیکھ نہ سکوگے مگر پہاڑ کی طرف نگاہ کرو پس اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو عنقریب تم میرا جلوہ کرلوگے۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر (اپنے حسن کا) جلوہ فرمایا تو (شدّتِ اَنوار سے) اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسٰی (علیہ السلام) بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ پھر جب اسے افاقہ ہوا تو عرض کیا: تیری ذات پاک ہے میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں۔
میرا سوال یہ ہے کہ اللہ تعالٰی  نہ جسم رکھتا ہے نہ کوئی مکان رکھتا ہے اور نہ دیکھنے والی چیز ہےحضرت موسیٰ علیہ السلام نے اولو العزم پیغمبر ہوتے ہوئے بھی کیسے اس طرح کا سوال کیا جب کہ اگر کوئی عام آدمی بھی اس طرح کا سوال کرے تو لوگ اسے اچھا نہیں کہیں گے ؟ “
عالم دین: ”احتمال پایا جاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا یہ سوال دل کی آنکھوں سے دیکھنے کے لئے ہونہ کہ ان ظاہری آنکھوں سے ،جناب موسیٰ علیہ السلام اپنے دل کے ذریعہ روحی اور فکری شہود تک پہنچنا چاہتے تھے یعنی ”خدا یا مجھے ایسا بنا دے کہ میرے قلب میں تیرا یقین کوٹ کوٹ کر بھر جائے گویا میں تجھے دیکھ رہا ہوں“[
جیسا کہ جناب ابراہیم علیہ السلام نے قیامت کے سلسلہ میں اسی طرح کا سوال کیا تھا سورہٴ بقرہ آیت ۲۶۰۔] اور بہت سی جگہوں پر لفظ رویت“اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مثلاًہم کہتے ہیں ”میں اپنے اندر ایسی طاقت دیکھ رہا ہوں کہ میں یہ کام باآسانی انجام دے سکتا ہوں: جب کہ قدرت دیکھنے والی چیز نہیں ہے“۔
طالب علم: ”اس طرح کی تفسیر آیت کے ظاہری لفظ کے خلاف ہے کیونکہ ظاہر لفظ ”ارنی“ اپنے کو مجھے دکھا،آنکھ سے دیکھنے پر دلالت کرتاہے جیسے خدا کے جواب ”لن ترانی“سے سمجھا جا سکتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا سوال انھیں آنکھوں سے دیکھنے کے لئے تھا اور اگر رویت اور شہود سے مراد فکری، روحی اور باطنی رویت ہوتی تو اللہ تعالٰی  ہر گز منفی جواب نہ دیتا اس طرح کا شہود اللہ تعالٰی  اپنے خاص بندوں کو یقینی طور پر عطا کر تا ہے“۔
عالم دین: ”فرض کریں کہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے خدا کو دیکھنے کی خواہش کی تھی جیسا کہ ظاہری الفاظ سے سمجھا جا سکتا ہے لیکن اگر ہم تاریخ میں اس واقعہ کی تحقیق کریں تو ہمیں ملتا ہے کہ یہ سوال ان کی قوم کی طرف سے تھا جسے جناب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی زبان سے ادا کیا تھا کیونکہ ان کی قوم والے اس بات پراصرار کر رہے تھے کہ وہ خدا کو دیکھیں گے اس لئے انھیں مجبور اً یہ جملہ ادا کرنا پڑا“۔
تو ضیح کے طور پر یہ عرض کیا جائے کہ فرعونیوں کی ہلاکت اور بنی اسرائیل کی نجات کے بعد جناب موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے درمیان دوسری بہت سی باتیں وجود میں آئیں ان میں سے ایک یہ کہ بنی اسرائیل کے کچھ افراد جناب موسیٰ علیہ السلام سے ضد کررہے تھے کہ ہم خدا کو دیکھیں گے بغیر دیکھے خدا پر ایمان نہیں لاسکتے۔جناب موسیٰ علیہ السلام آخر میں مجبور ہو کر بنی اسرائیل کے
۷۰ افراد کو لے کر کوہ طور پر گئے اور وہاں پہنچ کر آپ نے کی خداکی بارگاہ میں ان کے سوال کو بیان کیا، اللہ تعالٰی  نے جناب موسی علیہ السلام کو وحی کی ”لن ترانی۔۔۔“ تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے، (سورہ اعراف، آیت ۱۴۳) ، جواب نے اس بارے میں بنی اسرائیل کے لئے تمام چیزوں کو روشن کردیا۔
لہٰذا موسی علیہ السلام نے سوال رویت کواپنی قوم کی زبان سے کیا تھا کیونکہ
آپ نے اپنی قوم کی ضد پر خدا سے اس طرح کا سوال کرنے پر مجبور تھے، لیکن جب زلزلہ آیا تو جناب موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ تمام
۷۰ افراد ہلاک ہوگئے اور جناب موسیٰ علیہ السلام نے خدا سے عرض کیا:
” اے رب! اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے ہی ان لوگوں کو اور مجھے ہلاک فرما دیتا، کیا تو ہمیں اس (خطا) کے سبب ہلاک فرمائے گا جو ہم میں سے بیوقوف لوگوں نے انجام دی ہے ؟ “

جس کے بعد اللہ تعالٰی نے جناب موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا
: تم مجھے (براہِ راست) ہرگز دیکھ نہ سکوگے مگر پہاڑ کی طرف نگاہ کرو پس اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو عنقریب تم میرا جلوہ کرلوگے۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر (اپنے حسن کا) جلوہ فرمایا تو (شدّتِ اَنوار سے) اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسٰی (علیہ السلام) بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ پھر جب اسے افاقہ ہوا تو عرض کیا: تیری ذات پاک ہے میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں۔سورہٴ اعراف آیت ۱۴۳
پہاڑ پرالٰہی جلوہ (جیسے گرج، چمک اوربجلی) کے ظاہر ہونا اپنے آثار ظاہر کرنے کے مترادف ہے جس کی وجہ سے پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو اللہ تعالٰی  نے اپنی قدرت نمائی سے ایسا بے ہوش کیا کہ تم لوگ سمجھ لو کہ جب خدا کی ایک قدرت کا اثر کا تحمل نہیں کر سکتے تو اس کے پورے وجود کو سمجھنے کی کوشش کیوں کرتے ہو؟ تم ہر گز اپنی ان مادی آنکھوں سے اللہ تعالٰی کے مجرد وجود کو نہیں دیکھ سکتے ہو اس طرح جناب موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں نے اللہ تعالٰی کو قلب کی آنکھوں سے دیکھا اور ساتھ ساتھ انھیں یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اسے ان ظاہری آنکھوں سے ہر گز نہیں دیکھا جا سکتا ہے“۔
طالب علم: ”آپ کے اس مفصل بیان کا بہت شکریہ میں اس موضوع پر مطمئن ہو گیا اور اس چیز کی امید رکھتا ہوں کہ اسی طرح آپ منطقی استدلال سے میرے باقی دوسرے شبہات کوبھی جنھیں میں انشاء اللہ کسی دوسرے وقت بیان کروں گا بیان فرمائیں گے“۔

5 Responses to “طالب علم اور عالم دین کی بات چیت”

  1. ہمم مم م م م م م م مم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔واقعی ایک اچھا نکتہ بیان کیا ہے۔شکریہ

  2. بڑی گہری باتيں کرتی ہيں آپ ۔ مجھ جيسے دو جماعت پاس ناتجربہ کار کے سر کے اُوپر سے گذر جاتی ہيں ۔ آپ کی شاگردی اختيار کرنا پڑے گی بيچ اس بڑھاپے کے اگر موت نے مُہلت دی

  3. کيا کہا “ساری زندگی ؟” ارے ابھی زندگی ميں آپ نے ديکھا ہی کيا ہے ۔ 70 سال سے زيادہ گذار چکا ہوں پڑھتے اور سيکھتے اور يوں محسوس ہوتا ہے کہ ابھی بہت کچھ مجھ سے بہت دُور پڑا ہے جہاں تک پہنچنا ہے

    • تحریم said

      ٹھیک کہہ رہے ہیں چچا جان
      پر پیچھے مڑ کر دیکھیں تو لگتا ہے ابھی کل ہی کی تو بات تھی جب ہم نوجوان تھے
      اب ہمارے بچے ہیں
      اور ان کا نکلتا قد ہیں اپنے جانے کا جلد احساس کرواتا رہتا ہے

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers