شہد کی مکھیوں کا خاتمہ یعنی زمین کا خاتمہ
Posted by ارتقاءِ حيات on September 25, 2011
2008 کے موسم سرما میں امریکہ میں شہد کی مکھیوں کے بے شمار چھتے کسی پراسرار بیماری کے باعث ختم ہو گئے تھے۔ اس پراسرار بیماری کو“سی سی ڈی “کا نام دیا گیا اس بیماری کا شکار ہونےوالے چھتوں میں کارکن مکھیاں اچانک ہلاک ہو گئیں تھیں۔اور ملکہ مکھی تن تنہا رہ گئی تھی۔جلد ہی یہ بیماری امریکہ سےنکل کر یورپ کے کئی ممالک میں بھی پھیل گئی۔اس بیماری کی وجوہات
کے متعلق بہت کچھ کہا گیا ،لیکن حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکا ۔اس بیماری کا ابھی تک کوئی علاج نہیں مل سکااور گاہے بگاہے نئے ملکوں میں یہ بیماری خاصی تباہی پھیلا تی رہتی ہے۔جس کی وجہ سے یہ خطرہ حقیقت کا روپ دھارتا دکھائی دیتا ہے کہ جلد ہی کرۂ ارض سے شہد کی مکھیاںناپید ہو جائیں گی۔
کے متعلق بہت کچھ کہا گیا ،لیکن حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکا ۔اس بیماری کا ابھی تک کوئی علاج نہیں مل سکااور گاہے بگاہے نئے ملکوں میں یہ بیماری خاصی تباہی پھیلا تی رہتی ہے۔جس کی وجہ سے یہ خطرہ حقیقت کا روپ دھارتا دکھائی دیتا ہے کہ جلد ہی کرۂ ارض سے شہد کی مکھیاںناپید ہو جائیں گی۔قیامت کے منتظر افراد اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں شہد کی مکھیوں کی نسل معدوم ہونے سے ایک طرف شہد کا حصول ناممکن ہو جائے گا تو دوسری جانب انسانوں کےاستعمال میں آنے والی کئی فصلیں بھی ختم ہو جائیں گیجن میں سویابین ، کپاس ، برا سیکا ، برازیل نٹ ، بادام ، انگور ، سیب اور سورج مکھی جیسی اہم فصلیں بھی شامل ہیں۔نباتاتی ذرائع سے حاصل ہونے والی خوراک کا تقریباً ایک تہائی حصہ ان مکھیوں سے ہی حاصل ہوتا ہے۔کیونکہ ان فصلوں کا زردانہ ان مکھیوں کے ذریعے ہی نر پودے سے مادہ پودے تک پہنچتا ہے اگر شہد کی مکھیاں ختم ہو گئیں تو بہت سی فصلیں ناپید ہو جائیں گی۔ خوراک کی کمی، قحت، اور قتل و غارت گری کے واقعات اس کا لازمی نتیجہ ہوں گےجنہیں پھیلنے ے روکنا ناممکن ہوگا۔





محمد سلیم said
اتنی خطرناک معلومات!
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا فضل و کرم کرے ہم سب پر۔
آپ نے میرے بلاگ کا لنک اپنے صفحے پر دیا جس کیلئے میں انتہائی مشکور ہوں، تاہم اگر اس کو اپڈیٹ کر دین تو اور بھی اچھا ہوگا۔ میرے موجودہ بلاگ کا لنک یہ ہے
http://www.hajisahb.com/blog/
آپ کیلئے ایک مشورہ ہے کہ اپنے مضامین کو آفس ۲۰۰۷ کے ورڈز میں لکھین۔ جس فونٹ اور جس رنگ اور سٹائل میں چاہیں۔ ویسے فونٹ کس سائز ۱۴ رکھیں جو کہ انتہائی خوبصورت دکھائی دیتا ہے۔
مضمون کو لکھنے کے بعد پبلش کا ایک آپشن ہوتا ہے۔ چاہیں تو اُسے ڈائریکٹ پبلش کر دیں یا پھر ڈرافٹ کے طور پر پبلش کریں۔ ڈرافٹ کے طور پر پبلش کرنے سے ایک آپشن یہ بھی رہے گا کہ آپ اپنے ورد پریس پر جا کر ایک بار پھر بھی دیکھ لیں گی کہ یہ مضمون پبلش ہو کر کس طرح نظر آئے گا۔
یہ طریقہ بہت ہی آسان ہے۔ اس طریقہ سے ورڈز میں انسرٹ کی ہوئی تصویر بھی خود بخود بلاگ پر ہوسٹ اور شائع ہوجاتی ہے۔
اگر ان سب معلومات کا آپکو پہلے سے علم ہو تو ناراضگی معاف۔
اچھا میں آفس ۲۰۰۷ کا کیوں ذکر کیا، اسلئے کہ میرے پاس یہی ہے اور مجھے اس سے زیادہ کی معلومات نہیں ہے۔
تحریم said
آپ جیسے بزرگوں کے نسخوں پر پی تو یہ بلاگ چل رہا ہے
جلد ہی تمام تحریروں کو دوبارہ سے ٹھیک کرنے کی کوشش کروں گی
آپ کے وجٹس تو ورڈپریس کے کافی جچ رہے ہیں ماشاء اللہ
امید ہے لنک کی شکایت دور ہو گئی ہو گی