علم جفر
Posted by ارتقاءِ حيات on September 25, 2011

ایک عددی علم اس میں احوال غیب کا علم معلوم کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس علم میں مخفی معانی کے مدد سے واقعات اور خصوصاً آنے والے واقعات کی تعبیر یا ان کی اطلاع حاصل کی جاتی ہے۔ اس علم کی بنیاد :نیرو مرولوجی “یعنی یونان کے قدیم علم الاعداد پر ہے۔سب سے پہلے عبرانیوں نے اپنے ابجد کے 22 حروف کو اعداد میں منتقل کر کے ان سے طرح طرح کی تاویلات اخذ کرنے کا طریقہ رائج کیا۔عربوں نے ابجد میں 6 حروف کا اضافہ کیا۔
اس طرح عربی ابجد کے کل 28 حروف وضع ہوئے جن کے مساوی اعداد مقرر کر کے عربوں نے ان اعداد کی گنتی کو ہزار تک پورا کر لیا۔ان 28 حروف ابجد کو چاند کی 28 منازل پر منطبق کر کے ہر منزل کا ایک الگ حرد مقرر ہوا اور ہر حرف کی ایک خاص تاثیر متعین کی گئی۔انہی تاثرات کے علم پر جفر کی مشہور و معروف شاخ “علم الآثار کو استوار کیا گیا۔ادر ادونقوش علم الآثار کے اصول و قواعد کے مطابق ہی ترتیب پاتے ہیں۔اور ان میں وہ وضائف بھی شامل ہیں جو کلام پاک کی آیات سے لے کر علم الآثار کے مطابق مختلف تاثیرات پیدا کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح بعض آیات قرآنی کے حروف کی ابجدی قدریں مجمل کر کے نقوش ترتیب دیئے جاتے ہیں اور مختلف مطالب کے حصول اور اخذ کرنے کے کام آتے ہیں۔ انہیں عموماً تعویزات کے نام سے جانا جاتا ہے۔
علم الاخبار علم جفر کی دوسری بڑی اور مشہورشاخ ہے۔اس علم کے اصول و قواعد کے مطابق حروف سوال سے حروف جواب پیدا کر لئے جاتے ہیں اور اسی طرح ماضی، حال اور مستقبل میں ہونے والے واقعات کی خبریں حاصل کی جاتیں ہیں۔
علم جفر کے بارے میں جو تحقیق کی گئی ہے اس سے ہم اس نتیجے میں پہنچتے ہیں کہ اس کی ابتداء عبرانیوں سے ہوئیوہی اس علم کے موجد تھے ۔لیکن جس نوعیت میں یہ موجودہ دور میں رائج ہے اس کے بانی عرب ہیں اور سیدنا امام جعفر صادق سے منسوب کیا جاتا ہے۔
…………………………………………………..




محمد ریاض شاہد said
تحریم یہ علم جفر ہے جعفر نہیں ہے ۔ شکریہ
تحریم said
تصحیح کا شکریہ
دماغ پر کوئی ایک نام چڑھ جائے تو وہی اثر کر جاتاہے
امام جعفر صادق پر دن رات ایک مضمون پڑھ رہی ہوں بائیو گرافی
تو وہی دھن سوار رہی
معذرت خواہ ہوں
درستگی ہو چکی ہے
Zero G said
ایک تو یہ کے آپ کے لکھے بلاگ اچھوتے موضوعات پر لکھے جاتے ہیں جسکے لئے آپ مبارکباد کی مستحق ہیں۔
دوسرا یہ کہ علم غیب پر یقین کی مذہب میں کیا حیثیت ہے واضح کردیتیں تو چار چاند لگ جاتے ،
اب آتے ہیں موضوع کی طرف علم چفر، دست شناسی ،ستاروں کا علم ، ہاتھوں میں پتھر پہننا وغیرہ وغیرہ معزرت کے ساتھ آج تک سمجھ نہیں آیا کہ انسان کی قسمت کا ان سب چیزوں سے کیا تعلق ہے اور اگر ہے تو سمندر کی لہروں سے کیوں نہیں بادلوں کی رفتارسے کیوں نہیں بھیڑوں کے بالوں ، ہرن کے سینگوں کی بناوٹ سے کیوں نہیں ۔ کی بورڈ کی اسپیڈ اور ایل سی ڈی کا وزن ، بیرون ملک ملازمت میں مددگار کیوں نہیں ہوتا سژکوں پہ ٹریفک کی زیادتی یا کمی ساس بہو کے جھگڑے حل کیوں نہیں کراسکتی
(ازراہ مزاح لکہا گیا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا سبب بن جائے تو پیشگی معزرت)
تحریم said
علم غیب۔۔۔۔۔
ٓآپ جانتے ہیں اس موضوع پر قلم اٹھانا کتنا نازک ہے؟
خیر میں تو کلیدی تختہ سے کام کرتی ہوں
پھر بھی علم غیب کا علم کس کو کتنا ہے یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس نے کس کو کتنا شرف بخشا ہے یہ جاننے کا
اور پتھر پہننا اور دیگر جو اقسام آ نے بتائیں اس پر بھی الگ سے ہی لکھا جائے تو کیا ہی اچھا ہے تاکہ ہر موضوع الگ رہ سکے
جلد یہاں بھی آتی ہوں
آتے رہیئے گا
Rehan said
یہ علم امام جعفر صادق ع سے منصوب ہے اور اس کو علم الجفر کہاجاتا ہے
بہت اچھی معلومات ہیں شکریہ
تحریم said
شکریہْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افتخار اجمل بھوپال said
علم جفر کو ميں نے آٹھوين سے بارہويں جماعت تک کے طالب علمی کے زمانہ ميں پڑھا اور اس پر کافی سر دھنا ۔ بالآخر کچھ مثالوں سے اسے غلط ثابت کيا ۔ اس علم کی بنياد محدود آبادی کا مطالعہ ہے ۔ جو عوامل بالعموم مشترک پائے جائيں اُنہيں اصول بنا ليا گيا ہے ۔
اس کے علاوہ ہاتھ کی لکيروں کے علم کا مطالعہ ميں نے نويں جماعت سے لے کر انجنيئرنگ کالج تک کيا تھا اور اس ميں بھی غلطياں نکالنے ميں اللہ کے فضل و کرم سے کامياب ہوا ۔ ہو سکتا ہے کہ ہاتھ کی لکيروں ميں کچھ پنہاں ہو مگر اس کا علم صرف اللہ کو ہے ۔