سورج کا انجانی منزل کو سفر
Posted by ارتقاءِ حيات on September 25, 2011
قرآن مجید میں ارشا د ہوتا ہے :
(وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّھَا ط ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ)
اور سورج اپنے ٹھکانے کی سمت دوڑا چلا جا رہا ہے۔ یہ بہت زبردست خوب جاننے والے اللہ کا متعین کردہ راستہ ہے۔
(سورۂ یسٰین،38:36)
سولہویں صدی عیسوی میں پولینڈ کے ماہر نجوم نکولاس کوپر نیکس نے یہ اعلان کیا کہ سورج ساکن ہے اور زمین اس کے گرد چکر لگاتی ہے تو دنیائے علم میں ایک بھونچال آگیا جب کوپر کے اس نظریئے کو حقیقت سمجھ لیا گیاتو عالم اسلام میں ایک اضطراب کی سی کیفیت پیدا ہو گئی اس لئے کہ قرآن مجید سورج کو متحرک قرار دیتا ہے۔پھر اس کے بعد اٹھاوریں صدی عیسوی میں سر فریڈرک ولیم ہرشل نے یہ اعلان کیا کہ
"سورج متحرک ہے اس نے کہا کہ سورج خلا میں سفرکر رہا ہے "یہ کہہ کر اس نے قرآنی بیان کی تصدیق کر دی۔




افتخار اجمل بھوپال said
اسی پہ کيا بس ہے ابھی آگے آگے ديکھيئے ہوتا ہے کيا
آپ کی يہ والی تحرير ميری حِس کی طرح کچھ زيادہ ہی موٹی نہيں ہو گئی ؟
اگر بوڑھا آدمی ساتھ ليجانے کی اجازت نہ ہو تو لوگ صندوق ميں بند کر کے لے جاتے تھے کہ نصيحت کی ضرورت پڑے گی
تحریم said
جی اتنی عمر ہی کہاں رہی ہے
900 سال کے لوگ ہوا کرتے تھے
زندگی تو شائد تب تھی
اب تو 5 سال میں شائد 5 دن بغیر کسی فکر کے گذرتے ہیں