ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

بیربل (بیربر)

Posted by ارتقاءِ حيات on September 25, 2011


بیربل کا اصل نا م راجا مہیش داس تھا اور قوم برہمن۔ اکثر روایات میں یہ بھی ہے کہ نام برہم داس تھا اور قوم کے بھاٹ(مسخرے)تھے۔ برہیہ تخلص رکھتے تھے۔کالپسی کے رہنے والے تھے،ادھر ادھر شہروں میں گھوم پھر کر کبت اور دوہے گایا کرتے تھے۔شہنشاہ اکبر کا لڑکپن ہی سے برہمنوں بھاٹو ں اور ہندوطوائفوں کی طرف میلان خاطر بلکہ التفات خاص تھا لہٰذامہیش داس مغل اعظم کے دربار سے وابستہ ہوا تو بڑی تیزی سے بادشاہ کا قرب حاصل کر لیا۔ شہنشاہ نے راجا بیربل یا بیربر (شہہ زور راج،پہلوان راجا )کا خطاب عنایت کیا ۔ بیربل ویدانت کے موحدانہ اشعار خوب سمجھتے اور صوفیانہ مشرب رکھتے تھے۔ جودت طبع ، مزاج دانی، رمز شناسی، خوش بیانی، سخن فہمی ، بزلہ سنجی اور ظرافت طبع میں کمال رکھتے تھے۔ بادشاہ کے اس قدر منہ چڑھے تھے کہ مغل اعظم آرام کے وقت بھی انہیں حرم میں اندر بلا لیا کرتے تھے۔یعنی بیربل رتن خاص تھے، جو تخلیئے میں بھی بادشاہ کے آگے خوش گفتایوں کے پھول کھلاتے تھے۔ملا دو پیازہ اور بیربل کے آپس میں خوب نوک جھوک رہتی تھی۔ مہابلی خود بھی ان خوش مزاجوں کو چھیڑ دیا کرتے تھے، اور لطف اندوز ہوتے تھے۔ سوات اور باجوڑ (پشاور)کی مہم پیش آئی تو بیربل اس لڑائی میں کام آگئے۔ تلاش بسیار کے با وجود لاش نہ مل سکی۔مہابلی اس قدر رنجیدہ ہوئے کہ کئی روز تک دربار نہ کیااور گوشہ نشین رہے۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers