“جسم مثالی ” یا Aura
Posted by ارتقاءِ حيات on September 24, 2011
Nتھامپسن اسپتال (لندن)کے ماہر برقیات ڈاکٹر والٹر جے کلنز کیلشیم کےفاسورنٹ سلفائد پر
شعاعوں کے بارے میں تجربات کر رہے تھےکہ انہیں یہ خیال آیا کہ جسم انسانی سے جوشعاعیں خارج ہوتی ہیں ان کی چھان بین کی جائے ۔
ڈاکٹر والٹر کو صرف یہ علم تھا کہ حرارت کے علاوہ جسم انسانی سے جو انرجی خارج ہوتی ہے اس کا تعلق پائیں سرخ (انفراریڈ)سے ہے۔انہوں نے ایک ایسا فوٹو گرافی پردہ(فلم)تیار کرنے کی کوشش کی جس کے ذریعے جسم انسانی سے نکلنے والے “ہالہ نور”کا مطالعہ کیا جا سکے۔چنانچہ انہوں نے مختلف کیمیاوئی محلولوں سے فلموں کو رنگا مگر ناکامی ہوئی۔انسانی جسم سے نکلنے والی پائیں سرخ شعائیں کسی پردے پر نظر نہ آسکیں۔آخر انہوں نے کولتار کے
کیمیاوی مواد سےکیمیا کو رنگنے کا ایک کیمیاوی مسالا تیار کیا اور شیشے کی ایک سکرین پر پہلے جے لے ٹن اورکول ڈین نامی مرکباتا کا ایک استر تیار کیا۔ اس کے بعد اپنی مشہور اسکرین کو ایجاد کیا،جسے ما بعد النفسیات مین “آسٹرل باڈی” یوگ میں شکما شریر اور اور تصوف میں جسم مثالی کہا جاتا ہے۔ڈاکٹر والٹر نے اپنی کتاب “ہیومن ایٹماسفیر “ میں نہایت تفصیل کے ساتھ انسان کے ہالہ نور پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کی تحقیقات کا خلاصہ یہ ہے کہ انسانی جسم سے توانائی کا جو اخراج (تابکاری ،ریڈی ایشن)ہوتا ہے وہ ایک دائرےکی طرح انسانی جسم کے گرد نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر نےاپنے اسکرین پر انسانی ہمزاد کو بھی دیکھا ۔ اسے وہ ایتھرک ڈبل کہتے ہیں۔ ہمزاد ایک شفاف سایہ ہے جو انسان کے ٹھوس جسم سے 1 انچ باہر کی طرف ہوتا ہے۔اس ہمزادی جسم یا ہالے کے اندر ایک اور جسم ہوتا ہے جو پہلے جسم کے مقابلے میں لطیف تر ہے، اسے “جسم مثالی “کہتے ہیں۔پھر اس جسم مثالی کے اندر “روحانی وجود “ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کی تحقیقات کا نچو ڑ یہ ہےکہ انسان کے ایتری جسم (ایتھرک ڈبل)کا رنگ بھورا خاکستری ہوتا ہے اور کبھی کبھی اس کا پھیلاؤ 8انچ تک ہو جاتا ہے۔
کیمیاوی مواد سےکیمیا کو رنگنے کا ایک کیمیاوی مسالا تیار کیا اور شیشے کی ایک سکرین پر پہلے جے لے ٹن اورکول ڈین نامی مرکباتا کا ایک استر تیار کیا۔ اس کے بعد اپنی مشہور اسکرین کو ایجاد کیا،جسے ما بعد النفسیات مین “آسٹرل باڈی” یوگ میں شکما شریر اور اور تصوف میں جسم مثالی کہا جاتا ہے۔ڈاکٹر والٹر نے اپنی کتاب “ہیومن ایٹماسفیر “ میں نہایت تفصیل کے ساتھ انسان کے ہالہ نور پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کی تحقیقات کا خلاصہ یہ ہے کہ انسانی جسم سے توانائی کا جو اخراج (تابکاری ،ریڈی ایشن)ہوتا ہے وہ ایک دائرےکی طرح انسانی جسم کے گرد نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر نےاپنے اسکرین پر انسانی ہمزاد کو بھی دیکھا ۔ اسے وہ ایتھرک ڈبل کہتے ہیں۔ ہمزاد ایک شفاف سایہ ہے جو انسان کے ٹھوس جسم سے 1 انچ باہر کی طرف ہوتا ہے۔اس ہمزادی جسم یا ہالے کے اندر ایک اور جسم ہوتا ہے جو پہلے جسم کے مقابلے میں لطیف تر ہے، اسے “جسم مثالی “کہتے ہیں۔پھر اس جسم مثالی کے اندر “روحانی وجود “ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کی تحقیقات کا نچو ڑ یہ ہےکہ انسان کے ایتری جسم (ایتھرک ڈبل)کا رنگ بھورا خاکستری ہوتا ہے اور کبھی کبھی اس کا پھیلاؤ 8انچ تک ہو جاتا ہے۔




افتخار اجمل بھوپال said
اس “عورا” کو ديکھنے کی کبھی کوشش نہ کيجئے گا ۔ يہ نہ پوچھيئے گا ” کيوں ؟”۔
اور ہاں ۔ آپ کی کسی تحرير کے الفاظ موٹے نظر آتے ہيں اور کسی کے باريک ۔ يہ ميرے کمپيوٹر يا ميری بينائی کا قصور ہے يا کچھ اور ؟
تحریم said
آپ کی بینائی تو کافی تیز ہوتی جا رہی ہے و ہ بھی اس عمر میں
اللہ سلامت رکھے آپ کی صحت کو
جی یہ میری پوسٹنگ ہی میں مسئلہ ہوتا جا رہا ہے
Darvesh Khurasani said
سنا ہے ہمزاد کو پانے کیلئے بہت سے لوگ عملیات کرتے ہیں۔کتابوں میں تو ہے کہ اسکو قابو کرنا ممکن ہے لیکن کیسے ؟
میرے خیال میں کئی ان ہمزادوں کو پانے کی چکر میں پاگل ہوگئے ہیں۔
تحریم said
ہمزاد کی کہانیاں میں نے بھی بچپن میں پڑھ رکھی ہیں جن میں سے کچھ شوقین افراد کے لئے لنک بھی درج کئے دیتی ہوں
http://www.urdurasala.com/product_info.php?book_id=243&menuid=2
http://www.megaupload.com/?d=VVIP4W7T
اور اسلام میں ہمزاد کا کیا تصور ہے اس پر ایک الگ تحریر لکھنے کی مکمل کوشش کروں گی
stories1230 said
اگر آپ کہانیاں پڑھنا چاہتے ہو تو سٹوریز ڈات پی کے پر ہر قسم کی اردو انگلش ہندی، پشتو، محبت، سسپنس اور بچوں کے لیے کہانیاں موجود ہیں
Free stories
ارتقاءِ حيات said
اب کہانیاں پڑھنے کا وقت نہیں ہاں سنانے کا وقت رات کا ہوتا ہے
بچے بنا کہانی کے سوتے نہیں
پر جو یاد ہو وہی سنا دیتی ہوں
شکریہ آپ کے دئے ہوئے لنک کا