ملاّ دو پیازہ
Posted by ارتقاءِ حيات on September 23, 2011
ملاّ دو پیازہ کا اصل
نام ابوالحسن بن ابو المحاسن بن ابو المکارم تھا۔ مکّہ معظمہ کے قریب شہر طائف میں (عرب)میں 1540 کو پیدا ہوئے۔فطری طور پر ہنسوڑاورظریف تھے۔ ہنسنا ہنسانا عاد ثانیہ تھی۔ اس کے والد اس کی سوتیلی ماں سے لڑ جھگڑ کر گھر سے نکل گئےتو یہ اپنے والد کی تلاش میں نکلےاور قافلا در قافلہ پھرنے لگے۔آخرکار ایک ایرانی قافلے کے ہمراہ ایران پہنچے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نصیر الدین ہمایوں،شیر شاہ سوری سےشکست کھا کر امداد لینے ایران آیا ہوا تھا۔ہمایوں کے سپہ سالار بخش اللہ خان اور ایرانی سپہ سالار اکبر علی کی آپس میں گہری دوستی ہو گئی تھی۔ابو الحسن کی خوش مزاجی ، لطیفہ گوئی اور حاضر جوابی نے سپہ سالار بخش اللہ خان کو بے حد متاثر کیا۔اس نے سپہ سالار اکبر علی سے ابوالحسن کو بطور یادگار مانگ لیا۔شو مئی قسمت ابو الحسن کا مربی سپہ سالار بخش اللہ خان کابل کے ایک محاصرےمیں مارا گیا، اور ابو الحسن فوج کے ہمراہ ہندوستان پہنچا۔1556میں ماچھی واڑے کی لڑائی کے بعد ابو الحسن دہلی آکر رہنے لگا۔ اس وقت ابو الحسن کی عمر 15،16 برس تھیمگر علم خاصا تھا۔ابو الحسن نے دنیا سے بیزار ہو کر شمس الامراء محمد خان لودھی کی مسجد میں ٹھکانا کر لیا۔علم کے اظہار اور خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کا وصف بھی تھا،لہٰذا سب ابو الحسن کو ملاّ جی ، ملاّ جی کہنے لگے۔رفتہ رفتہ ان کی خوش خلقی اور لطیفہ گوئی نے شہر بھر میں دھوم مچا دی۔ایک روز ملاّ جی ایک امیر کے ہاں دعوت پر گئے،وہاں ان کو ایک قسم کا پلاؤ بہت پسند آیاجو شخص ان کے برابر میں دسترخوان پر بیٹھا تھا اس سے دریافت کیا کہ اس کھانے کا نام کیا ہے؟جواب ملا اسے دوپیازہ پلاؤ کہتے ہیں،کہ اس میں پکاتے وقت دو بار پیاز ڈالی جاتی ہے۔ ملاّ جی اس نام سے بہت خوش ہوئےاور یاد کر لیا،بلکہ عہد کر لیا کہ جب تک دوپیازہ پلاؤ دسترخوان پر نہ ہوگا وہ کسی کی ضیافت قبول نہ کریں گے۔
نام ابوالحسن بن ابو المحاسن بن ابو المکارم تھا۔ مکّہ معظمہ کے قریب شہر طائف میں (عرب)میں 1540 کو پیدا ہوئے۔فطری طور پر ہنسوڑاورظریف تھے۔ ہنسنا ہنسانا عاد ثانیہ تھی۔ اس کے والد اس کی سوتیلی ماں سے لڑ جھگڑ کر گھر سے نکل گئےتو یہ اپنے والد کی تلاش میں نکلےاور قافلا در قافلہ پھرنے لگے۔آخرکار ایک ایرانی قافلے کے ہمراہ ایران پہنچے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نصیر الدین ہمایوں،شیر شاہ سوری سےشکست کھا کر امداد لینے ایران آیا ہوا تھا۔ہمایوں کے سپہ سالار بخش اللہ خان اور ایرانی سپہ سالار اکبر علی کی آپس میں گہری دوستی ہو گئی تھی۔ابو الحسن کی خوش مزاجی ، لطیفہ گوئی اور حاضر جوابی نے سپہ سالار بخش اللہ خان کو بے حد متاثر کیا۔اس نے سپہ سالار اکبر علی سے ابوالحسن کو بطور یادگار مانگ لیا۔شو مئی قسمت ابو الحسن کا مربی سپہ سالار بخش اللہ خان کابل کے ایک محاصرےمیں مارا گیا، اور ابو الحسن فوج کے ہمراہ ہندوستان پہنچا۔1556میں ماچھی واڑے کی لڑائی کے بعد ابو الحسن دہلی آکر رہنے لگا۔ اس وقت ابو الحسن کی عمر 15،16 برس تھیمگر علم خاصا تھا۔ابو الحسن نے دنیا سے بیزار ہو کر شمس الامراء محمد خان لودھی کی مسجد میں ٹھکانا کر لیا۔علم کے اظہار اور خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کا وصف بھی تھا،لہٰذا سب ابو الحسن کو ملاّ جی ، ملاّ جی کہنے لگے۔رفتہ رفتہ ان کی خوش خلقی اور لطیفہ گوئی نے شہر بھر میں دھوم مچا دی۔ایک روز ملاّ جی ایک امیر کے ہاں دعوت پر گئے،وہاں ان کو ایک قسم کا پلاؤ بہت پسند آیاجو شخص ان کے برابر میں دسترخوان پر بیٹھا تھا اس سے دریافت کیا کہ اس کھانے کا نام کیا ہے؟جواب ملا اسے دوپیازہ پلاؤ کہتے ہیں،کہ اس میں پکاتے وقت دو بار پیاز ڈالی جاتی ہے۔ ملاّ جی اس نام سے بہت خوش ہوئےاور یاد کر لیا،بلکہ عہد کر لیا کہ جب تک دوپیازہ پلاؤ دسترخوان پر نہ ہوگا وہ کسی کی ضیافت قبول نہ کریں گے۔ ملاّ جی کی یہ معصوم اور البیلی ادا بھی لوگوں کو بہت پسند آئی،پس لوگوں نے ملاّ جی کی دوپیازہ پلاؤ سے یہ رغبت دیکھ کر ان کا نام ہی ملاّ دوپیازہ رکھ دیا اور یہی نام وجۂشہرت بنا، اور اصل نام ابو الحسن بس پردہ رہ گیا۔علامہ ابو الفیضی(ثم فیاضی)اور علامہ ابو الفضل دونو بھائی ہی ملاّ دوپیازہ کے ہم
جلیس اور مداح تھے۔علامہ فیضی اور ملاّ دوپیازہ کی دوستی تو یہاں تک بڑھی کہعلامہ فیضی نے عبادت خانہ الہٰی کا انتظام و انصرام ملاّ دوپیازہ کے سپرد کر دیا،اور شہنشاہ اکبر تک ان کو پہنچا دیا۔یو ں قدرت نے انہیں ان کے صحیح مقام پر لا کھڑا کیا۔ ملاّ دوپیازہ کی ظرافت دربار میں پھلجھڑی چھوڑتی، باہر کا رخ کرتی تو کیا امیر کیا غریب سبھی سے خراج وصول کرتی۔ابو الحسن عرف ملاّ دوپیازہ نے60برس کی عمر پائی۔مغل اعظم احمد نگر کے محاصرے سے واپس آرہے تھے کہ راستے میں ملاّ دوپیازہ بیمار پڑ گئے، اور مہینہ بھر بیماری کاٹ کر 1600میں قصبہ ہنڈیا میں انتقال کرگئے، چنانچہ کسی ظریف نے اسی وقت کہا کہ”واہ بھئی! ملاّ دوپیازے۔مر کے بھی ہنڈیا کا پیچھا نہ چھوڑا۔ ملاّ دوپیازہ اور لالا بیربل کے چٹکلوں سے مہابلی اکبر کا من خوب بہلتا تھا، سو ملا جی کی وفات پر اکبر کئی دن تک غمگین رہا۔
جلیس اور مداح تھے۔علامہ فیضی اور ملاّ دوپیازہ کی دوستی تو یہاں تک بڑھی کہعلامہ فیضی نے عبادت خانہ الہٰی کا انتظام و انصرام ملاّ دوپیازہ کے سپرد کر دیا،اور شہنشاہ اکبر تک ان کو پہنچا دیا۔یو ں قدرت نے انہیں ان کے صحیح مقام پر لا کھڑا کیا۔ ملاّ دوپیازہ کی ظرافت دربار میں پھلجھڑی چھوڑتی، باہر کا رخ کرتی تو کیا امیر کیا غریب سبھی سے خراج وصول کرتی۔ابو الحسن عرف ملاّ دوپیازہ نے60برس کی عمر پائی۔مغل اعظم احمد نگر کے محاصرے سے واپس آرہے تھے کہ راستے میں ملاّ دوپیازہ بیمار پڑ گئے، اور مہینہ بھر بیماری کاٹ کر 1600میں قصبہ ہنڈیا میں انتقال کرگئے، چنانچہ کسی ظریف نے اسی وقت کہا کہ”واہ بھئی! ملاّ دوپیازے۔مر کے بھی ہنڈیا کا پیچھا نہ چھوڑا۔ ملاّ دوپیازہ اور لالا بیربل کے چٹکلوں سے مہابلی اکبر کا من خوب بہلتا تھا، سو ملا جی کی وفات پر اکبر کئی دن تک غمگین رہا۔…………………………………………………..




ڈاکٹر جواد احمد خان said
معلومات میں اضافہ ہوا۔۔
تحریم said
شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افتخار اجمل بھوپال said
بہت خوب باتيں بتائيں آپ نے ۔ ميری چھٹی حِس کہتی ہے کہ مزاح پيدا کرنے ميں آپ بھی کم نہيں ہيں ۔ اور ہاں اپنا ايی ميلز کا اِن باکس ديکھ ليجئے ۔ اگر کھُل جائے ۔ ہی ہی ہی
تحریم said
آپ کی حسیں اب تک کام کر رہی ہین یہ بھی ایک کرشمہ ہی کہیں گے
اور ہم کسی سے کم ہیں بھی نہیں یہ یاد رکھیئے
یاد دہانی کا شکریہ ابھی کوشش کرتی ہوں دیکھنے کی اان باکس
khalidhameed said
زبردست۔۔۔
آج تک صرف ملا دوپیازہ کے لطائف پڑھے تھے ۔۔
بہترین معلومات ہیں۔۔
شکریہ
تحریم said
پسند کرنے کا شکریہ
Zero G said
اور ملا نصر الدین کے بارے میں بھی بتائیے ناں !
تحریم said
سب کچھ بتا دیں کچھ آپ بھی تلاش کیجئے
درویش خُراسانی said
خوبصورت اورپرلطف تحریر ہے۔پڑھ کر مزہ آگیا۔
آپ نے ایک کالم لکھا تھا ،کٹمل کے نام ،اس وقت تو ہمیں کٹملوں کی تکلیف کا اندازہ نہیں تھا لیکن جب رمضان میں کراچی چلا گیا تو اف۔۔۔بس کیا کہنے ،ہر جگہ کٹمل ہی کٹمل،
لوگوں نے کمرے چھوڑے ہوئے تھے ان کٹملوں کے خوف سے ،ہر کمرے میں دو درجن سے کم نہ تھے۔
پھر اندازہ ہوا کہ واقعی یہ کٹمل کسی عذاب سے کم نہیں ۔
تحریم said
اسے کہتے ہیں کہ جس پر گذرتی ہے وہی جانتاہے
تحریر کی پسندیدگی کا شکریہ
محمد سلیم said
بہت زبردست معلومات۔ یہ مضمون نا پڑھتا تو ملا دو پیازہ کے بارے میں کبھی بھی نہ جان پاتا۔ شکریہ۔
تحریم said
شکر ہے اب تو جان گئے
ورنہ ایسے ہی جہان سے جاتے
سعید said
مآخذ و حوالے بھی ساتھ ساتھ لکھ دیا کریں تو اور بھی اچھا رہے
ارتقاءِ حيات said
آپ کی بات پر عمل ضرور کیا جائے گا
سعید بھائی
افتخار اجمل بھوپال said
تو گويا ميری حسوں کو کام نہيں کرنا چاہيئے تھا ؟ يہ بھی سُننا تھا ميں نے بيچ اس دنيا کے اپنی زندگی کے دوران ۔ يا ميرے پيدا کرنے اور پالنے والے تيرا بڑا کرم ہے کہ ميری حسيں قائم رکھی ہوئی ہے ۔
تحریم said
حس ہونا الگ بات ہے تیز ہونا اچھی بات ہے مگر تیز ترین جو حدسے آے ہو وہ تو ۔۔۔۔اللہ کا شکر کیا یہ بہت اچھی بات ہے