رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اوریہودی دانشور (2)
Posted by ارتقاءِ حيات on September 22, 2011
قبلہ کے سلسلہ میں پیغمبرمحمد ﷺکایہودیوں سے مذاکرہ
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ رسول خدا ﷺمکہ میں بیت المقدس (یہودیوں کے قبلہ) کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے اور ہجرت کے بعد مدینہ میں بھی آپ ۱۶ مہینے تک بیت المقدس ہی کی طرف رخ
کر کے نماز پڑھتے رہے۔
کر کے نماز پڑھتے رہے۔ اسلام دشمن ،یہودیوں نے اسلام کو بُرا بھلا کہنے اور اسے بے اہمیت کر نے کے لئے ایک اچھا بہانہ تلاش کر لیا اور کہنے لگے: ”محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس بات کو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مستقل شریعت لائے ہیں جبکہ ان کا وہی قبلہ ہے جو یہودیوں کا قبلہ ہے“۔
اس طرح کے اعتراضات سے پیغمبراسلام محمد ﷺرنجیدہ خاطر ہوئے آنحضرت راتوں کو گھر سے باہر آتے اور آسمان کی طرف نگاہ کرکے وحی کے منتظر رہتے تھے یہاں تک کہ سورہٴ بقرہ کی ۱۴۴ ویں آیت نازل ہوئی جس میں قبلہ کی جہت بیت المقدس سے بدل کر خانہ کعبہ کی طرف کردی گئی۔
ہجرت کے ۱۶ ماہ بعد 15 رجب میں پیغمبر ﷺاپنے چند صحابیوں کے ساتھ مسجد بنی سلمہ (جو مسجد احزاب سے ایک کلو میٹر شمال کی طرف واقع ہے)میں ظہر کی نماز ادا کر رہے تھے ،دو رکعت نماز تمام ہونے کے بعد جبرئیل سورہٴ بقرہ کی ۱۴۴ ویں آیت لے کر نازل ہوئے:
(اے حبیب!) ہم بار بار آپ کے رُخِ انور کا آسمان کی طرف پلٹنا دیکھ رہے ہیں، سو ہم ضرور بالضرور آپ کو اسی قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس پر آپ راضی ہیں، پس آپ اپنا رخ ابھی مسجدِ حرام کی طرف پھیر لیجئے، اور (اے مسلمانو!) تم جہاں کہیں بھی ہو پس اپنے چہرے اسی کی طرف پھیر لو، اور وہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی ہے ضرور جانتے ہیں کہ یہ (تحویلِ قبلہ کا حکم) ان کے رب کی طرف سے حق ہے، اور اﷲ ان کاموں سے بے خبر نہیں جو وہ انجام دے رہے ہیں۔
اس طرح کے اعتراضات سے پیغمبراسلام محمد ﷺرنجیدہ خاطر ہوئے آنحضرت راتوں کو گھر سے باہر آتے اور آسمان کی طرف نگاہ کرکے وحی کے منتظر رہتے تھے یہاں تک کہ سورہٴ بقرہ کی ۱۴۴ ویں آیت نازل ہوئی جس میں قبلہ کی جہت بیت المقدس سے بدل کر خانہ کعبہ کی طرف کردی گئی۔
ہجرت کے ۱۶ ماہ بعد 15 رجب میں پیغمبر ﷺاپنے چند صحابیوں کے ساتھ مسجد بنی سلمہ (جو مسجد احزاب سے ایک کلو میٹر شمال کی طرف واقع ہے)میں ظہر کی نماز ادا کر رہے تھے ،دو رکعت نماز تمام ہونے کے بعد جبرئیل سورہٴ بقرہ کی ۱۴۴ ویں آیت لے کر نازل ہوئے:
(اے حبیب!) ہم بار بار آپ کے رُخِ انور کا آسمان کی طرف پلٹنا دیکھ رہے ہیں، سو ہم ضرور بالضرور آپ کو اسی قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس پر آپ راضی ہیں، پس آپ اپنا رخ ابھی مسجدِ حرام کی طرف پھیر لیجئے، اور (اے مسلمانو!) تم جہاں کہیں بھی ہو پس اپنے چہرے اسی کی طرف پھیر لو، اور وہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی ہے ضرور جانتے ہیں کہ یہ (تحویلِ قبلہ کا حکم) ان کے رب کی طرف سے حق ہے، اور اﷲ ان کاموں سے بے خبر نہیں جو وہ انجام دے رہے ہیں۔
تو آپ حالت نماز ہی میں کعبہ کی طرف پلٹے اور دو رکعت نماز کعبہ کی طرف رخ کر کے پڑھی، اسی طرح آپ کی اقتداء کرنے والوں نے بھی کیا ،اور اسی نماز کی وجہ سے مسجد بنی سلمہ کو مسجد ”ذو قبلتین“ کہا جانے لگا“۔
اس واقعہ کے بعد یہودی ہر جگہ قبلہ بدلنے کے سلسلہ میں اعتراض اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے ،پیغمبراسلام محمد ﷺاور یہودیوں کے درمیان طے پایا کہ وہ ایک جلسے میں اس موضوع پر آزاد انہ طور پر بحث کریں ،اس جلسہ میں چند یہودیوں نے شرکت کی اور جلسہ کی شروعات یہودیوں نے کی اور سوال کی صورت میں انھوں نے اس طرح کہا:”آپ کو مدینہ آئے اور بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے ہوئے ایک سال سے زیادہ ہو گیا لیکن اب آپ بیت المقدس سے رخ موڑ کر کعبہ کی طرف نماز پڑ ھ رہے ہیں آپ ہمیں اس کا جواب دیں کہ آپ نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے جو نمازیں پڑھی ہیں وہ درست تھیں یا باطل؟ اگر وہ درست تھیں تو لا محالہ آپ کا دوسرا عمل باطل ہے اور اگر باطل تھیں تو ہم کس طرح آپ کے دوسرے اعمال (جو بدلنے کی صورت میں ہیں)پر مطمئن ہوں کہ اس طرح آپ کا یہ قبلہ بھی باطل نہ ہو؟“
پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم : ”دونوں قبلے اپنے موقع کے لحاظ سے درست اور حق ہیں ان چند مہینوں میں بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنا حق تھا اور اب ہم خدا کی طرف سے اس بات پر مامور کئے گئے ہیں کہ خانہ کعبہ کو اپنا قبلہ قرار دیں“
اس واقعہ کے بعد یہودی ہر جگہ قبلہ بدلنے کے سلسلہ میں اعتراض اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے ،پیغمبراسلام محمد ﷺاور یہودیوں کے درمیان طے پایا کہ وہ ایک جلسے میں اس موضوع پر آزاد انہ طور پر بحث کریں ،اس جلسہ میں چند یہودیوں نے شرکت کی اور جلسہ کی شروعات یہودیوں نے کی اور سوال کی صورت میں انھوں نے اس طرح کہا:”آپ کو مدینہ آئے اور بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے ہوئے ایک سال سے زیادہ ہو گیا لیکن اب آپ بیت المقدس سے رخ موڑ کر کعبہ کی طرف نماز پڑ ھ رہے ہیں آپ ہمیں اس کا جواب دیں کہ آپ نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے جو نمازیں پڑھی ہیں وہ درست تھیں یا باطل؟ اگر وہ درست تھیں تو لا محالہ آپ کا دوسرا عمل باطل ہے اور اگر باطل تھیں تو ہم کس طرح آپ کے دوسرے اعمال (جو بدلنے کی صورت میں ہیں)پر مطمئن ہوں کہ اس طرح آپ کا یہ قبلہ بھی باطل نہ ہو؟“
پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم : ”دونوں قبلے اپنے موقع کے لحاظ سے درست اور حق ہیں ان چند مہینوں میں بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنا حق تھا اور اب ہم خدا کی طرف سے اس بات پر مامور کئے گئے ہیں کہ خانہ کعبہ کو اپنا قبلہ قرار دیں“
،اور مشرق و مغرب (سب) اللہ ہی کا ہے، پس تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کی توجہ ہے (یعنی ہر سمت ہی اللہ کی ذات جلوہ گر ہے)، بیشک اللہ بڑی وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے
(سورہ بقرہ، آیت ۱۱۵)
گروہ یہود: ”اے محمد ! کیا خدا کے لئے بداء واقع ہوا؟(یعنی ایک کام گذشتہ زمانہ میں اس پر مخفی تھا اور اب ظاہر ہوگیا اور اس نے اپنے پہلے حکم سے پشیمان ہو کر ددوسرا حکم دیا ہے)اور اس بنا پر اس نے تمہارے لئے نیا قبلہ معین کیا؟اگر اس طرح کی بات کرتے ہو تو گویا تم نے اللہ تعالٰی کو عام انسانوں کی طرح نادان تصور کر لیا“۔
پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم :خدا کے یہاں بداء اس معنی میں نہیں پایا جاتا ہے ،خدا ہر چیز سے آگاہ اور قادر مطلق ہے اس سے کوئی بھی چھوٹی سے چھوٹی غلطی سرزد نہیں ہو سکتی جسکی وجہ سے وہ پشیمان ہو اور تجدید نظر کرے نیز اس کے راستہ میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی جس کی وجہ سے وہ اوقات میں تبدیلی کرے،میں تم سے سوال کرتا ہوں کہ ”کیا مریض صحت یاب نہیں ہوتا یا تندرست آدمی غمگین اور مریض نہیں ہوتا؟ یا زندہ مرتا نہیں اور موسم گرما موسم سرما میں تبدیل نہیں ہوتا؟ کیا اللہ تعالٰی اس
طرح کے تمام امور میں تبدیلی لاتا رہتا ہے تو اس کے یہاں بداء واقع ہوتا ہے؟ “
پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم : قبلہ کی تبدیل بھی انھیں چیزوں میں سے ہے اللہ تعالٰی ہمیشہ اور ہر زمانہ میں اپنے بندوں کی فلاح وبہبود کے لئے خاص حکم رکھتا ہے جو شخص بھی اطاعت کرے گا جزاکا مستحق ہوگا ورنہ اسے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا،اس کی تدبیر اور مصلحت میں کسی کو مخالفت کرنے کا حق نہیں۔
گروہ یہود: ”اے محمد ! کیا خدا کے لئے بداء واقع ہوا؟(یعنی ایک کام گذشتہ زمانہ میں اس پر مخفی تھا اور اب ظاہر ہوگیا اور اس نے اپنے پہلے حکم سے پشیمان ہو کر ددوسرا حکم دیا ہے)اور اس بنا پر اس نے تمہارے لئے نیا قبلہ معین کیا؟اگر اس طرح کی بات کرتے ہو تو گویا تم نے اللہ تعالٰی کو عام انسانوں کی طرح نادان تصور کر لیا“۔
پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم :خدا کے یہاں بداء اس معنی میں نہیں پایا جاتا ہے ،خدا ہر چیز سے آگاہ اور قادر مطلق ہے اس سے کوئی بھی چھوٹی سے چھوٹی غلطی سرزد نہیں ہو سکتی جسکی وجہ سے وہ پشیمان ہو اور تجدید نظر کرے نیز اس کے راستہ میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی جس کی وجہ سے وہ اوقات میں تبدیلی کرے،میں تم سے سوال کرتا ہوں کہ ”کیا مریض صحت یاب نہیں ہوتا یا تندرست آدمی غمگین اور مریض نہیں ہوتا؟ یا زندہ مرتا نہیں اور موسم گرما موسم سرما میں تبدیل نہیں ہوتا؟ کیا اللہ تعالٰی اس
طرح کے تمام امور میں تبدیلی لاتا رہتا ہے تو اس کے یہاں بداء واقع ہوتا ہے؟ “
پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم : قبلہ کی تبدیل بھی انھیں چیزوں میں سے ہے اللہ تعالٰی ہمیشہ اور ہر زمانہ میں اپنے بندوں کی فلاح وبہبود کے لئے خاص حکم رکھتا ہے جو شخص بھی اطاعت کرے گا جزاکا مستحق ہوگا ورنہ اسے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا،اس کی تدبیر اور مصلحت میں کسی کو مخالفت کرنے کا حق نہیں۔




درویش خُراسانی said
ماشاءاللہ کافی معلوماتی تحریر ہے۔
تحریم said
شکر ہے کسی کو تو کچھ علم حاصل ہوا