سحر
Posted by ارتقاءِ حيات on September 21, 2011
سحر کے معنی لغت میں امر مخفی اور پوشیدہ چیز کے ہیں اور علمی اصطلاح میں ایسے عجیب و غریب امور کا نام ہے جن کے وجود میں آنے کےاسباب ،نظر سے پوشیدہ ہوں۔
تفسیر کیبیر میں امام رازی نے فرمایا ہے کہ: لفظ سحر اصلاح شریعت میں ایسے امر کے لئے مخصوص ہے جس کا سبب مخفی ہو اور وہ اصل حقیقت کے خلاف خیال میں آنے لگے۔
علماء کی رائے ہے کہ سحر واقعی ایک حقیقت ہے اور مضر رساں اثرات رکھتا ہے۔ حق تعالٰی نے اپنی حکمت اور مصلحت کاملہ کے پیش نظر اس میں اس طرح مضر اثرات رکھ دیئے ہیں جس طرح زہر اور دوسری نقصا ن دہ ادوایات میں موجود ہیں ۔ یہ بات نہیں کہ سحربذات خود قدرت الہٰی سے بےنیاز ہو کر موثر بلذات ہے،سحر کو موثر بلذات سمجھنا کفر خالص ہے۔
علامہ حماد الدین اب کثیر نے لکھا ہے:
وزیر مظفر یحیٰ بن محمد بن ہسبیرہ نے اپنی کتاب الاشراف فی المذاہب الاشراف میں ایک باب سحر سے متعلق بھی لکھا ہے اس میں انہوں نے بیان کیا ہے کہ علما کا اس پر اتفاق ہے کہ سحر کی بھی حقائق کی طرح ایک حقیقت ہے۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے: مہلک باتوں سے بچو یعنی شرک اور جادو سے (بخاری)



