سورج سے نکلنے والا گولا زمین سے ٹکرا سکتا ہے
Posted by ارتقاءِ حيات on September 19, 2011
زمین کی تباہی کا یہ نظریہ ان چند نظریات میں سے ایک ہے جس کی کوئی سائنسی توجیہہ پیش کی جا سکتی ہے۔ اس نظریئے کے مطابق 2012میں دسمبر کے مہینے کے آخر میں سورج کی سطح سے ایک بہت بڑا شعلہ یا گیس کا گولا نکل کر زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لے گااور زمین پر موجود ہر چیز جل کر فنا ہو جائے گی زمین کا ایکو سسٹم تباہ ہو جائے گا اور یوں زندگی پر زندگی نا پید ہو جائے گی تاہم ایسے شواہد موجود نہیں کہ آیا ایس سانحہ رونما ہو چکا ہے یا نہیں۔

مایا گیلنڈر کے مطابق سورج کی ایک گردش کا دورانیہ 11 برس پر محیط ہے، اور ممکن ہے کہ اگر چہ یہ ایک کمزور سی شہادت ہےکہ سورج کی گردش 2012 دسمبر کے اوخر میں کسی ایسی حالت میں ہوجہاں سے زمین براہ راست اس کے مہیب شعلوں کی زد میں آجائے۔اس قسم کے شواہد موجود ہیں کہ سورج کی سطح سے اٹھنے والے شعلوں کے باعث سٹیلائٹ سسٹم میں خرابیاں رونما ہو جاتی ہیں موصلاتی نظام میں خلل واقع ہوتا ہے یا مناسب حفاظتی اقدامات کے بغیر کوئی خلانورد زخمی ہو جائے لیکن یہ امر واقع ہے کہ سورج کی سطح سے کسی ایسے طاقتور شعلے اٹھنے کا امکان کم از کم2012 میں نہیں جو زمین کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھ
تا ہو ، تاہم بعض سائنسدانوں کے مطابق مستقبل میں جب سورج Redgainکا ایندھن ختم ہو جائے گا تو سورج اس وقت ایک بہت بڑے سرخ ستارے کی شکل اختیار ک ر لے گااور زمین کو اپنے اندر کھینچ لے گا لیکن یہ کام 2012ک ے بجائے اب سے 5ارب سا ل بعد رونما ہونے ک ی توقع ہے۔
تا ہو ، تاہم بعض سائنسدانوں کے مطابق مستقبل میں جب سورج Redgainکا ایندھن ختم ہو جائے گا تو سورج اس وقت ایک بہت بڑے سرخ ستارے کی شکل اختیار ک ر لے گااور زمین کو اپنے اندر کھینچ لے گا لیکن یہ کام 2012ک ے بجائے اب سے 5ارب سا ل بعد رونما ہونے ک ی توقع ہے۔




