ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

قریش سے حضرت محمدﷺکا مذاکرہ (آخری حصہ)

Posted by ارتقاءِ حيات on September 18, 2011

ابو جہل کا سوال
ابو جہل نے کہا: ”کیا تم یہ نہیں کہتے کہ جب قوم موسیٰ نے اس بات کی خواہش کی کہ موسیٰ انھیں اپنا خدا دکھائیں تو خداوند عالم ان پر غضبناک ہو ااور بجلی کے ذریعہ انھیں خاکستر کردیا۔؟“
حضرت محمدﷺ: ”کیوں نہیں، ایسا ہی ہے“۔
ابو جہل: ”ہم قوم موسیٰ سے بلند اور بڑی خواہش رکھتے ہیں ہم ہر گز اس وقت تک نہیں ا یمان نہیں لائیں گے جب تک تم اپنے خدا اور فرشتوں کو ہمارے سامنے حاضر نہیں کروگے ،اب تم ہماری اس خواہش کی بنا پر اپنے خدا سے کہو کہ وہ ہمیں جلادے یا نابود کردے“۔
حضرت محمدﷺ: ”کیا تم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی داستان میں یہ نہیں سنا ہے کہ وہ مقام وعظمت میں بہت ہی بلند تھے اور اللہ تعالٰی نے انھیں خاص بصیرت عطا کی تھی کہ وہ زمین پر لوگوں کے ظاہری اور باطنی اعمال کا مشاہدہ کرتے تھے ،اسی دوران جناب ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک مرد اور عورت زنا کر رہے ہیں، آپ نے ان کے لئے بددعا کی وہ ہلاک ہو گئے، پھر دیکھا کہ دوسرے مر د و عورت زنا کر رہے ہیں ان کے لئے بھی بددعا کی وہ بھی ہلاک ہو پھر تیسرے مرد و عورت کو یکھا کہ یہ بھی زنا میں مشغول ہیں ان کے لئے بھی بددعا کی وہ بھی ہلاک ہوگئے ،اس کے بعد
خداوند عالم نے ان پر وحی کی کہ اے ابراہیم ! بددعا نہ کرودنیا ہمارے اختیار میں ہے تمہارے اختیار میں نہیں۔
گنہگار بندوں کی تین حالتوں سے زیادہ چوتھی حالت نہیں ہوتی ہے،یا توبہ کرتے ہیں اور میں انھیں بخش دیتا ہوں یا ان کی آئندہ آنے والی نسلوں میں کوئی بندہ مومن ہوتا ہے جس کی وجہ سے میں انھیں مہلت دے دیتا ہوںاور پھر میرا عذاب انھیں گھیرلیتا ہے اور ان دوصورتوں کے علاوہ جتنے بڑے عذاب کا تم تصور کر سکتے ہو اسے میں نے ان کے لئے مہیا کر رکھا ہے“۔
اے ابو جہل !اسی وجہ سے خداوند عالم نے تجھے مہلت دی ہے کہ تیری نسل میں ایک مومن پیدا ہوگا جس کانام عکرمہ ہوگا۔
عکرمہ ابن ابو جہل شروع میں پیغمبر اسلام کا بہت سخت دشمن تھا،فتح مکہ کے وقت وہ بھاگ گیا تھالیکن آخر کارمدینہ میں وہ آپ کے ہاتھوں ایمان لایا اور اس نے اتنا بڑا مقام حاصل کر لیا تھا کہ آپ نے اسے قبیلہ ہوازن کے صدقات وزکات حاصل کرنے کے لئے اپنا نمائندہ مقرر کر دیا تھا،وہ ابوبکر کی خلافت کے زمانے میں جنگ ”اجنادین“ یا ”یرموک“میں شہید ہوا،
قارئین کرام! جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا کہ حضرت محمدﷺسے مذاکرہ کرنے والے اسلام کے سخت ترین دشمن تھے، لیکن اس کے باوجود حضرت محمدﷺنے مکمل صبر و حوصلہ سے ان کی تمام باتیں سنیں اور نہایت سنجیدگی اور متانت کے ساتھ ان کا جواب دیا اور ایک تفصیلی اور استدلالی بحث کے ساتھ اپنی حجت تمام کر کے اسلام کی منطقی اور اخلاقی روش کا ثبوت دیا۔

4 Responses to “قریش سے حضرت محمدﷺکا مذاکرہ (آخری حصہ)”

  1. Farigh said

    Would you please also link the source for these debates?

  2. بہت ہی زبردست معلومات پیش کرنے پر آپ کا بے حد شکریہ

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers