حکیم ہمام
Posted by ارتقاءِ حيات on September 18, 2011
حکیم ہمام شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے انتہائی من بھاتے رتن تھے۔ حکیم ابو الفتح سے چھوٹے اور حکیم نور الدین قراری سے بڑےتھے۔یہ تینوں حکیم بھائی اپنے اپنے ہنر میں ممتاز تھے۔تینوں بھائی اکھٹے ہی دربار اکبری کی زینت بنے۔
حکیم ہمام کا اصل نام ہمایوں تھا چونکہ ہمایوں نام شہنشاہ اکبر کے والد نصیر الدین ہمایوں کا بھی تھا اس لئے دربار اکبری میں یہ نام لینا ادب کے خلاف تھا لہٰذا اسے ترک کر کے ہمایوں قلی کے نام سے پکارا اور مخاطب کیا گیا۔مہابلی نے خود ہی ہمام نام رکھا ، یوں ہمایوں نام چھوڑ کر حکیم ہمام نام پایا اسی نام پر باقی عمر بسر کی۔ تاریخ میں بھی اسی نام سے پہچان بنی۔ حکیم ہمام کو دربار اکبری مین وہ ناموری اور شہرت نہ مل سکی جس کے وہ بجا طور پر حق دار تھے۔مگر شہنشاہ اکبر کے دل میں ان کا بلند مقام تھا ۔ انتہائی قریبی مصاحب تھے۔ بقول شخصی حکیم ابو الفتح وزارت کے شایان تھے تو حکیم ہمام مصاحبت کے لائق تھے۔یہی وجہ ہے کہ شہنشاہ اکبر کا ذاتی دسترخوان حکیم ہمام کی تحویل میں تھا، یہی سب سے بڑی قربت ، وفا داری اور اعتماد کا ثبوت تھا۔ حکیم ہمام جب تک شاہی سفارت کاری کے لئے توران میں رہے شہنشاہ اکبر اکثر کہتے کہ”جب سے حکیم ہمام گئے ہیں کھانے کا مزہ نہیں رہا”۔ دیگر امور مملکت میں حکیم ہمام کے درست ٹھوس اور مدلل مشورے سن کر مہا بلی بے اختیار کہہ اٹھتے تھے کہ:حکیم ہمام جیسا مشیر کہاں پیدا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ آخر کار مغل اعظم نے بھی انہیں اپنے نورتنوں میں شامل کیا یو ں حکیم ہمام کی صلاحیتوں کا املی اعتراف بھی کیا۔علامہ فیضی کی انشا میں حکیم ہمام کے نام کے بہت سے خطوط ہیں، جن سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ بڑے جیّد عالم، اہل ادب ،ذہین و فطین ،مگر ساتھ ساتھ بڑے زندہ دل اور عجب شگفتہ مزاج دوست تھے۔ حکیم ہمام کا منصب شش صدی تھی ایک روز حکیم ہمام نے شہنشاہ کے حضور معجم البدان پیش کی اور عرض پیرا ہوئے کہ: عالم پناہ، اس کتاب کا فارسی میں ترجمہ ہو جائے تو عام آدمی بھی مستفید اور محظوظ ہو سکے گا ۔ چنانچہ شہنشاہ اکبر نے اس علمی تجویز کو عملی جامہ پہنانے کا حکم دیا۔ حکیم ہمام بڑے خوش قیافہ اور فصیح زبان تھے 1594 میں بیمار ہوئے 2ماہ تک دق کے مرض میں رہے بالآخر لاہور میں داعئ اجل کو لبیک کہا اور حسن ابدال میں بڑے بھائی حکیم ابو الفتح کے پاس جا سوئے۔



