شمسی توانائی
Posted by ارتقاءِ حيات on September 17, 2011
صدیوں قبل پہلے ایک چینی مفکر نے ک
ہا تھا “ہم روشنی کی اولاد ہیں”اگر ہم اس کی مذہبی اور فلسفیانہ تشریح نہ بھی کریں اور عام سائنسی اصولوں کی روشنی میں ہی دیکھیں تو یہ بات بالکل درست ثابت ہوتی ہے۔سورج کی روشنی نہ ہوتی تو کرۂ ارض پر یہ انسان ہی کیا زندگی کی کوئی علامت نہ ہوتی۔ پھر یہ کرۂ بھی دوسرے فلکی سیاروں کی طرح ٹھنڈا اور خاموش ویرانے کی طرح کائنات بیکراں وسعتوں میں تیرتا رہتا۔آج یہی سورج کی روشنی اور گرمی ہے جس کے ذریعے ہمیں زندگی کی گونا گوں نعمتیں ہمہ وقت میّسر ہیں۔
ہا تھا “ہم روشنی کی اولاد ہیں”اگر ہم اس کی مذہبی اور فلسفیانہ تشریح نہ بھی کریں اور عام سائنسی اصولوں کی روشنی میں ہی دیکھیں تو یہ بات بالکل درست ثابت ہوتی ہے۔سورج کی روشنی نہ ہوتی تو کرۂ ارض پر یہ انسان ہی کیا زندگی کی کوئی علامت نہ ہوتی۔ پھر یہ کرۂ بھی دوسرے فلکی سیاروں کی طرح ٹھنڈا اور خاموش ویرانے کی طرح کائنات بیکراں وسعتوں میں تیرتا رہتا۔آج یہی سورج کی روشنی اور گرمی ہے جس کے ذریعے ہمیں زندگی کی گونا گوں نعمتیں ہمہ وقت میّسر ہیں۔آپ نے وہ قدیم کہانی تو ضرور سنی ہو گی جب یونانی موجد اور ریاضی دان ارشمیدس نے شمسی حرارت مرتکز کر کے رومی بحری جہازوں میں آگ لگا دی تھی۔یہ واقعہ 200قبل مسیح پیش آیا تھا۔رومی سسلی کے شہر سائراکیوز پر حملہ کرنے آئے تھے جو یونانیوں کے ملکیت تھی۔یونانی جنرل ہیرن نے ارشمیدس سے کہا کہ وہ فوری طور پر کوئی ایسی مشین ایجاد کرے جس سے شہر کا دفاع کیا جا سکے۔ ارشمیدس نے ایک ایسا شمسی عکس انداز بنایا جس میں چھوٹے بڑے بہت سے دھاتی آئینے کروی فریم میں نصب کئے گئے تھے، اس عکس انداز سے جب سورج کی شعاعیں منعکس کر کے رومی بحری جہازوں پر مرتکز کی گئیں تو ان کے بادبانوں سے آگ کے شعلے اٹھنے لگے اور وسیع نیلگوں سمندر ان کا قبرستان بن گیا۔ ارشمیدس کا یہ حیران کن معرکہ شمسی توانائی کا مرہون منت تھا۔




غلام عباس مرزا said
جی بالکل ہماری زندگی کی تمام تر حرکت سورج ہی کی دین ہے تمام گاڑیاں، موٹریں بتیاں مشینیں،ہوایں زلزے، دریا اسی کی توانائی سے چلتے ہیں یہاں تک کہ خلیہ کے اندر موجود مائٹوکانڈریا میں پیدا ہونے والی توانائی بھی سورج ہی کی ہے۔
ارتقاءِ حيات said
جیتقریباً درست ہی فرمایا
اور نجانے کیا کچھ موجود ہے اس کائنات میں جس کی دریافتیں ابھی باقی ہیں
اللہ ہمیں کئی نشانیاں دکھاتا ہے
پر ہم غور نہین کرتے
zubairee said
Bijli to aani nai….. ab suraj say he umeed hy
ارتقاءِ حيات said
ہی بحران بھی پیدا کردہ ہے