تین دنیائیں
Posted by ارتقاءِ حيات on September 17, 2011
عالم مادی یہی اینٹ پتھر کیا دنیا ہے جہا ں ہم پیدا ہوتے اور مر جاتے ہیں۔یہ ٹھوس مادے کی دنیا ہے۔ اس دنیا کے دوش بدوش عالم مثال اور عالم امر واقع ہیں۔عالم مثال اور عالم امر کرۂ ہوااور کرۂ حرارت کی طرح ہمارے ساتھ ہیں۔ ہم اس اکا اداراک نہیں کر سکتے ان کو چھو نہیں سکتے ، دیکھ نہیں سکتے
، سونگھ نہیں سکتے ، چکھ نہیں سکتے،البتہ سمجھ سکتے ہیں۔عالم مثال اور عالم امر ۔۔۔۔۔فضا میں اس طرح جگہ علم مادی جگہ گھیرتا ہے۔ عالم مثال اور عالم امر روشنی اور خوشبو اور حسن کی دنیاؤں کی طرح موجود ہے۔ حواس خمسہ کے ذریعے کوئی شخص عالم مثال اور
اور عالم امر تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا ، صرف ارتکاز ، توجہ اور مراقبہ کے ذریعے ہم عالم غیب(عالم مثال اور عالم امر ،عالم غیب ہی تو ہے)میں دریچہ وا کر کے اس کا نظارہ کر سکتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طرح ہم عالم غیب کی مخلوق کی ہمسائیگی سے بے خبر رہتے ہیں اسی طرح وہ بھی ہمارے وجود کا احساس نہیں کر سکتے۔جنات بھی عالم مثال ہی کی مخلوق ہیں۔





Iftikhar Ajmal Bhopal said
بی بی جی ۔ آپ ايک سے ايک بڑھ کر فلسفيانہ تحارير لکھ رہی ہيں اور اُوپر سے تحارير کی بوچھاڑ شرع کی ہوئی ہے ۔ مجھے ابھی ايک تحرير سمجھ نہيں آتی کہ دو تين اور آ جاتی ہيں ۔ ميں تو مارا گيا بيچ اس دنيا کے اور وہ بھی بغير گواہ کے ۔
اس تحرير کو سمجھنے پر دماغ کا کچھ حصہ خرچ کيا ہے مگر ميرے دماغ ميں گھُسا ہوا خيال ۔ عالمِ دنيا ۔ عالمِ خواب ۔ عالمِ برزخ ۔ عالمِ ارواح ۔ وغيرہ اس خيال سے ٹکر لے رہا ہے اور پِس ميں رہا ہوں ۔
تھوڑی سی وضاحت کر ديجئے کہ عالمِ امر اور مثال ہوتے کيا ہيں اور مراقبہ کس طرح کيا جاتا ہے ۔ ميں نے پڑھ رکھا ہے کہ علامہ اقبال مراقبے ميں تھے اور اُنہيں کسی آنے جانے والے آدمی کا احساس نہيں تھا ۔ اس سے زيادہ ميں کچھ نہيں جانتا
ڈاکٹر جواد احمد خان said
مراقبہ ، حسیات (حواس خمسہ ) سے ماورائی دنیا میں لاگ ان ہونے کا طریقہ ہے. اسکا اصول صرف اور صرف مراقبہ یا دوسرے لفظوں میں ذہن کا ارتکاز ہے. یہ ارتکاز ان ساری رکاوٹوں کو کسی قدر دور کردیتا ہے جس کی وجہ سے انسانی علم حواس خمسہ کے تابع رہتا ہے. دوسرے لفظوں میں اسے کائنات کے مین فریم کمپوٹر میں لاگ ان ہونے کا طریقہ کہہ سکتے ہیں. بدقسمتی سے یہ علم ابھی تک ابتدائی صورت میں ہے اور اسے سائنس کا درجہ حاصل نہیں ہے.
تحریم said
مراقبہ کے بارے میں جاننے کے لئے اس لنک پر جائیے
http://tehreemtariq.wordpress.com/2011/09/18/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%82%d8%a8%db%81/
امید ہے تشفی ہوگی
ڈاکٹر جواد احمد خان said
نہایت دلچسپ ….عالم مثال اور عالم مادی تو سمجھ میں آتا ہے یہ عالم امر کیا ہے ؟