حکیم ابو الفتح
Posted by ارتقاءِ حيات on September 16, 2011
حکیم ابو الفتح کا پورا نام حکیم مسیح الدین ابوالفتح گیلانی تھا۔یہ تین بھائی شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے درباری مصاحب تھے۔ حکیم ابو الفتح، حکیم ہمام اور حکیم نورالدین قراری۔ والد کا نام مولانا حکیم عبدالرزاق گیلانی تھا۔ بنیادی تعلق لاہجان علاقہ گیلان(ایران)سے تھا۔چونکہ ان کے والد گیلان کے نامور فاضل اور فضائل صوت و معنی سے آراستہ تھے،خصوصاً حکمت عملی اور الہٰیات میں بلند نظر رکھتے تھے۔ صدرالصدور(اعلٰی درچے کا منصف)بھی تھےلہٰذا ان کے تینوں صاحبزادے (حکیم ابو الفتح، حکیم ہمام اور حکیم نورالدین قراری)صوت و معنی میں باپ کے خلف الرشید(جانشین)تھے۔حکیم نور الدین شاعر بھی تھے۔ قراری تخلص کیا کرتے تھے۔تینوں جودت طبع،تیزئ فہم ، علوم رسمی اور کمالات انسانی میں صاحب کمال تھے۔ ان کے چوتھے بھائی حکیم لطف اللہ زیادہ عرصہ نہ جئے اور ایران میں ہی منصب دار ہو کر انتقال کر گئے۔1574 تینوں بھائی ایران سے ہندوستان آئے۔اور آتے ہی دربار اکبری میں داخل ہوگئے۔حکیم ابو الفتح کی طبیعت میں شائستگی اور لیاقت کا اور ہی عالم تھا۔زمانے کے مزاج سے واقف تھے اور اسی طرح اہل زمانہ کی نبض کو خوب پہچانتے تھے۔سو دربار اکبری میں بڑی تیزی سے ترقی کی اور شہنشاہ اکبر کے نورتنوں میں جگہ پا لی۔بنگال کی لڑائیوں اور مہمان میں شامل رہےگو کہ لشکر کشی اور میدان جنگ کے آدمی نہ تھے۔ 1582 کو لاہور شہر میں تجویز قرار پائی کہ امراء کو عطاکردہ جاگیروں کی درست تحقیق ہو لہٰذا کئی کئی صوبوں پر ایک با امانت اور اعلٰی دماغ شخص کا تقرر ہوا۔ چنانچہ دہلی مالوہ اور گجرات کی صدارت حکیم ابو الفتح کے نام ہوئی۔1585 میں شہنشاہ اکبر نے حکیم ابو الفتح کو ہشت صدی کا منصب عطا کیا ۔ حکیم ابو الفتح رزم سے زیادہ بزم کے شہریار تھے۔ نکتہ دانی کے کے باغباں، شبستان ضمائر کے لئے بےدار ول، انجمن نہفتہ دانی کے ہشیار، دقیقہ شناس دوربیں اور ذہین شخصیت تھے۔کسی بھی حاجت مند، اہل ضرورت اور سائل کا کام اس تندہی سے کرتے گویا اسی آدمی کے لئے دربار اکبری میں منصب دار موجود ہیں، جوکماتے تھے کھلے دل سے خرچ کردیتے بلکہ لٹاتے تھے۔علامہ فیضی اور علامہ ابو الفضل اور خان خانان کے قریبی ہم جلیس (دوست)تھے۔ شاعرتو نہ تھے، مگر شعرائے زمانہ کے بے حد مداح اور قدردان تھے۔ ملاٗظہوری نے دکن سے حکیم ابو الفتح کی مدح میں قصیدے لکھ لکھ کر بھیجے تو جواباً ہر قصیدے کا خاطرخواہ صلہ حکیم صاحب نے وہیں دکن میں بھیجا ۔ حکیم ابو الفتح کی زیرکی ، تیزئ فہم ، رمز شناسی، مصلحت بینی اور نکتہ دانی پر شہنشاہ اکبر کو بہت بھروسہ تھا۔اکبر ی سلطنت میں کہیں بھی کسی ذہنی افتاد یا دماغی الجھن نے سر اٹھایا تو شہنشاہ اکبر نے اکثر حکیم ابو الفتح کو ہی معاملہ سلجھانے کے لئے بھیجا اور حکیم صاحب ہر بار ہی کامیاب و کامران واپس آئے۔ حکیم ابو الفتح کی گراں قدر تصانیف یہ ہیں:1- فتاحی:
شرح قانونچہ۔ شیخ بو علی سینا کے فلسفہ اور فکر و فن کی بلیغ شرح لکھی ہے گویا شیخ سینا کے علم کو پھر سے چلا بخش دی۔تقریباً450صفحات کی کتاب ہے
2- قیاسہ:
یہ کتاب اخلاق ناصری کی ہلکی پھلکی تشریح ہے ا س میں دلائل فلسفہ کو دلائل نقلی سے ثابت کیا ہے، ایک ایک مسئلہ کو فرداً فرداًقلم بند کیا ہے۔آیتوں اور حدیثوں سے انہیں مطابقت دی گئی ہے ۔تقریباً1400صفحات کی کتاب ہے۔
3- چار باغ:
اس کتاب میں نثری مضامین اور خطوط شامل ہیں زیادہ تر خطوط اپنے بھائی حکیم ہمام ،علامہ فیضی ، علامہ ابو الفضل ، خان خانان، میر شمس الدین خاں خانی اور دیگر اہل کمال کے نام لکھے ہیں جبکہ نثری مضامین میں اکثر مسائل حکمت پر اظہار خیال کیا ہے یا بعض اچھی کتابوں پر تبصرہ عمدہ عبارت میں ادا کیا ہے۔ شاعرانہ انداز میں فلسفہ و حکمت کے پھول برسائے ہیں۔اور یہ گل افشائی صرف زبانی جمع خرچ ہی نہیں عملی طور پر بھی وہ ادیبوں اور اہل سخن کی سرپرستی کیا کرتے تھے۔علم و ادب کے شیدائی تھے ۔ مشہور شاعر عرفی نے ان کی تعریف میں کئی قصیدے کہے ہیں اور بڑی سج دھج سے کہے ہیں۔
1588 میں شہنشاہ اکبر کشمیر سے واپس آرہے تھے کہ دوران سفر راستے میں حکیم ابو الفتح درد شکم اور اسہال کے مرض میں گرفتار ہوئے۔مہابلی اس قدر فکر مند ہوئے کہ 2،3بار خود جا کر عیادت کی۔بالآخر دھمتوڑ (ہزارہ)کے مقام پر حکیم صاحب ملک عدم راہی ہوئے۔ انہیں حسن ابدال میں سپرد خاک کیا گیا۔




محمد وارث said
آپ اپنے بلاگ پر بہت معلوماتی تحاریر پیش کر رہی ہیں، جزاک اللہ۔
حکیم ابوافتح گیلانی کی ایک اور کتاب ًرقعاتِ ابوالفتحً کے نام سے چھپ چکی ہے جو کہ ان کے خطوط ہیں، جامع پنجاب نے کوئی نصف صدی قبل شائع کی تھی لیکن افسوس فارسی متن کا اردو ترجمہ اس میں نہیں ہے۔
حکیم صاحب کے متعلق تفصیلی معلومات محمد حسین آزاد کی دربارِ اکبری میں بھی ملتی ہیں۔
امید ہے ان فراموش شدہ موضوعات پر لکھتی رہیں گی۔
والسلام
تحریم said
وارث بھائی ٓپ لوگوں کی بھرپور تحسین سے دل خوش ہوجاتا ہے
ایسے ہی آتے جاتے رہا کیجئے
تو ہم ایسے ہی لکھتے رہیں گے