اندرا گاندھی کا قتل
Posted by ارتقاءِ حيات on September 13, 2011
ہندوستان کی سابق وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی کو ان کی نئی دہلی رہائش گاہ میں 31اکتوبر 1984 کو قتل کر دیا گیا اس قتل میں 4 آدمی ملوث تھے۔ حفاظتی دستے کے بیانت سنگھ اور ستونت سنگھ۔ان دونوں نے وزیر اعظم پر گولیاں چلائیں۔ بیانت سنگھ کو حفاظتی دستے نے اسی وقت گولی مارکرہلاک کر دیااور ستونت سنگھ کو گرفتار کر لیا گیا۔دوسرے 2 اشخاص کبیر سنگھ اور بلیر سنگھ جن کو قتل کی سازش کرنے اور اس کا منصوبہ بنانے کا مجرم قرار دیا گیا ۔
ان تینوں پر مقدمہ چلا ۔ دہلی کے اڈیشنل جج مہیش چندرنے22جنوری1986 کو اپنا فیصلہ سنایا جس میں ستونت سنگھ، بلیر سنگھ اور کبیر سنگھ کو موت کی سزا دی گئی۔اس کے بعد مقدمہ ہائی کورٹ میں لایا گیا ۔دہلی ہائی کورٹ نے3دسمبر 1986 کو ان کی موت کی سزا کی توثیق کر
دی۔ اس کے بعد ملزمان اس مقدمے کو سپریم کورٹ لے گئے،جہاں3اگست1988کو مسٹر جسٹس جی ایل اوزا، مسٹر جسٹس سیٹی، مسٹر جسٹس بی سی رائے پر مشتمل ایک ڈیویژنل بینچ نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔
دی۔ اس کے بعد ملزمان اس مقدمے کو سپریم کورٹ لے گئے،جہاں3اگست1988کو مسٹر جسٹس جی ایل اوزا، مسٹر جسٹس سیٹی، مسٹر جسٹس بی سی رائے پر مشتمل ایک ڈیویژنل بینچ نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ستونت سنگھ اور کبیر سنگھ کی سزائے موت بحال رکھی مگر بلیر سنگھ کو مکمل طور پر بری کر دیا گیا۔بلیر سنگھ کے خلاف قتل میں ملوث ہونے کی براہ راست کوئی ٹھوس شہادت نہ مل سکی، مثلاً استغاثہ کی جانب سے ایک بات یہ کہی گئی تھی کہ مسز اندرا گاندھی کا قتل اس لئے ہوا کہ آپریشن بلیواسٹار کی وجہ سے سکھ ان سے بگڑ گئے تھے،اور خود بلیر سنگھ کی زبان سے انتقام کی بات سنی گئی تھی۔اس دلیل کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس اوزا نے لکھا اگر بلیو اسٹار آپریشن پر غصّہ یا احتجاج کے اظہار کو ملز م کے خلاف شہادت یا قرینہ کے طور پر استعمال کیا جائے تو سکھ فرقے کے تمام افراد جو بلیو اسٹار آپریشن پر برہم ہو گئے تھے ان سب کو قتل کی سازش میں شریک کرنا پڑے گا۔جسٹس اوزا نے مزید کہا کہ بلیر سنگھ کو چھوڑنے کی غلطی کرنا اس کو سزا دینے کی غلطی سے بہتر ہے۔



