ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

گائے ڈی موپاساںGuy De Maupassant

Posted by ارتقاءِ حيات on September 11, 2011

انگریزی ادب میں یہ جدّت طراز اور منفرد اسلوب رکھنے والا فرانسیسی ادیب 1850؁ میں دینا میں آیا اور 1893؁ میں رخصت ہوا۔ اپنی 20 سالہ ادبی زندگی میں گائے ڈی موپاساںGuy De Maupassant نے انگریزی ادب کے شائقین کو بیسیوں ناقابل فراموش کہانیاں دائمی تحفے میں دیں۔ا س کا شمار اعلٰی ترین مختصر کہانی نویسوں میں ہوتا ہے۔اس کی کہانیاں انسانی  فطرت سے قریب ہوتی ہیں۔اس میں بذلہ سنجی کے ساتھ ساتھ منطق بھی ہوتی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ طنز برائے طنز کا قائل نہیں ہے۔کہانی برائے کہانی نہیں ہوتی۔وہ کسی بھی کہانی میں اپنے قلم کاری کے معیار سے نیچے نہیں اترتا۔ تحریریں کاٹ دار ہوتی ہیں۔اس کی کوئی کوئی کہانی حقیقت پسند ی کے باعث حقائق سے گریز کرنے والوں کو بڑی شاق گزرتی ہے۔ ناولوں میں بھی لب و لہجے کی لپک مختصر کہانیوں کی طرح نمایاں رہتی ہے۔مضبوط جسم کا مالک ہونے کے باوجود اعصابی مریض بن گیا تھا۔

2 Responses to “گائے ڈی موپاساںGuy De Maupassant”

  1. موپساں انگریز نهیں فرانسیسی تھا اور اس
    نے فرانسیس میں لکھا تھا
    هاں اس کی کہانیوں کے انگریزی تراجم نے اس کو دنیا مين شهرت دلائی
    اس لیے هو سکتا ہے که اپ اس کو انگریزی والا سمجھی هوں

    • تحریم said

      جناب خاور صاحب تشریف آوری کا شکریہ
      آپ بالکل بجا فرما راہے ہیں فرانسسی مختصر کہانیوں کا مشہور تخلیق کار تھا
      آپ کی تصحیح کا شکریہ

      آتے جاتے رہا کیجئے

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers