کہکشاؤ ں کی دوریاں
Posted by ارتقاءِ حيات on September 10, 2011
اس وقت یہ تصور نہات مستحکم ہو چکا ہے کہ ہر کہکشاں دوسری کہکشاؤ ں سے دورہٹتی جارہی ہےاور اس طرح کائنات کی جسامت مسلسل
بڑھ رہی ہے، اور جس قدر کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہٹتی جاتی ہیں خالی جگہ نئی کہکشائیں بن جاتی ہیں۔
کس قدر حیرت کا مقام ہے کہ آج سے ڈیڑھ ہزار سال قبل جبکہ عربوں کے پاس کوئی بھی فلک بینی کا آلہ موجود نہیں تھا، قرآن نے ایک ایسی بات کہہ دی جس کا انکشاف 1948 کے بعد کوہ پلومر (امریکہ)کی ایک بڑی دوربین نے کیا اور وہ یہ کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔
قرآن مجید میں آتا ہے کہ:
ہم نے آسمان کو قوت سے بنایا اور ہم اس کی توسیع کرتے رہیں گے۔
سورت :الذاریات47:51




عطاء رفیع said
jzakallah
تحریم said
شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
javed said
دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
افتخار اجمل بھوپال said
تعريف اُس اللہ کی جس نے جہاں بنايا
۔
۔،
۔
۔
۔
۔
۔
اور آپ کو بھی
تحریم said
شکریہ چچا جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی بات بری لگی ہو تو معذرت چاہوں گی
javed said
رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا
مقیم کون ہوا مقام کس کا تھا
ارتقاءِ حيات said
یہاں شاعری سے شغف کس کو ہے؟
Dr Jawwad Khan said
عمدہ اور دلچسپ مضمون ہے مگر تشنگی کا احساس ہو رہا ہے مضمون میں اگر طوالت ہوتی تو زیادہ مزہ آتا …
ارتقاءِ حيات said
اکثر طویل مضامین پر لوگ بوریت کا شکار ہو جاتے ہیں
سو کچھ تحریریں مختصر لکھنا پسند ہے