تھامس شیو کر
Posted by ارتقاءِ حيات on September 10, 2011
تھامس شیو کر جرمنی کا ایک مشہور خوش نویس گزرا ہے اس کا زمانہ 1440 سے 1502تک تھا۔ وہ پیدا ہوا تھا تو اس کے ہاتھ نہیں تھے۔ اس پیدائشئ معذروری کے علاوہ اس کا جسم بھی ناقص تھا۔ وہ سیدھا کھڑا نہیں ہو سکتا تھا نہ ہی بیٹھ سکتا تھا۔ اس کی حالت ہمیشہ ایسی رہتی تھی کہ جیسے کسی کام سے جھکا ہوا ہو۔اس کے باوجود اس نے اس کی کوئی پروا نہ کی ، کسی احساس کمتری مبتلا نہ ہوا، او ر خوش نویسی کے فن میں کمال حاصل کیا۔ وہ قلم پیر کے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی کے درمیان دباتا تھا۔ اس طرح لکھنے میں اسے کوئی دقت نہیں ہوا کرتی تھی۔وہ اتنی خوبصورتی سے لکھا کرتا تھا کہ ہر شخص کہ منہ سے بے اختیارداد نکلا کرتی تھی۔ یورپ کے بڑے بڑے لوگ اس کی خطاطی کے مداح تھے۔




افتخار اجمل بھوپال said
کسی پاکستانی ٹی وی نے چند سال قبل ايک پاکستانی شخص دکھايا تھا جس جے دونوں بازو نہيں تھے وہ بھی پاؤں کے انگوٹھے اور ساتھ والی اُنگلی کے درميان قلم پکڑ کر لکھتا تھا ۔ بائيساکل چلاتا تھا ايک پاؤں پيڈل پر اور دوسرا ہينڈل پر ۔ پاؤں سے روٹياں پکاتا اور پاؤں ہی سے کھاتا تھا ۔ اس شخص کی ہمت اور استقلال نے نے مجھے بہت رُلايا تھا
ہم سب کچھ ہوتے ہوئے ہر لمحہ اللہ کا شُکر کيوں ادا نہيں کرتے
تحریم said
رمضان مین جیو سے بھی ایک ایسی ہی ویڈیو دکھائی گئی تھی
وہ صاحب پاؤں سے وضو کر رہے تھے پھر نماز پڑھ رہے تھے اور ہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
عطاء رفیع said
میرے ایک دوست ہیں، ان کے والد صاحب آرمی میں ملازم تھے، ریٹائر منٹ کے بعد فالج کا حملہ ہوا تقریباً بائیس سال سے دونوں ٹانگوں نے کام چھوڑا ہوا ہے، جب بھی وقت ملے تو ان سے ملاقات کے لیے چلا جاتا ہوں، ان سے مل کر عزم تازہ ہوجاتے ہیں، عجیب فرحت محسوس ہوتی ہے۔ وہ اچیک اچھے باڈی بلڈر ہیں۔ اب بھی تن سازی کرتے ہیں، صرف اوپرے دھڑ کی۔ اس طرح گفتگو کرتے ہیں جیسے وہ نارمل انسان ہیں۔ ان کے چہرے پر ہمیشہ ایک نوجوان چہرے کی سی تازگی ہوتی ہے۔ اللہ ان کی عمر دراز کرے۔
تحریم said
اللہ ہم سب مسلمانوں کو آخیر دم تک اپنے حفظ و امان میں رکھے