ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

قریش سے حضرت محمدﷺکا مذاکرہ (1)

Posted by ارتقاءِ حيات on September 8, 2011

عجیب و غریب واقعات میں ایک واقعہ حضرت محمدﷺاور قریش کے سرداروں کے درمیان ہونے والا درج ذیل مذاکرہ ہے:
قرآن مجید میں مندرجہ ذیل سورتوں میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہوا ہے۔
اور وہ (کفّارِ مکّہ) کہتے ہیں کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری کر دیں
 یا آپ کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو تو آپ اس کے اندر بہتی ہوئی نہریں جاری کردی
 یا جیسا کہ آپ کا خیال ہے ہم پر (ابھی) آسمان کے چند ٹکڑے گرا دیں یا آپ اﷲ کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آئیں
یا آپ کا کوئی سونے کا گھر ہو (جس میں آپ خوب عیش سے رہیں) یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں، پھر بھی ہم آپ کے (آسمان میں) چڑھ جانے پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ (وہاں سے) ہمارے اوپر کوئی کتاب اتار لائیں جسے ہم (خود) پڑھ سکیں، فرما دیجئے: میرا رب (ان خرافات میں الجھنے سے) پاک ہے میں تو ایک انسان (اور) اﷲ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں
اور (ان) لوگوں کو ایمان لانے سے اور کوئی چیز مانع نہ ہوئی جبکہ ان کے پاس ہدایت (بھی) آچکی تھی سوائے اس کے کہ وہ کہنے لگے: کیا اﷲ نے (ایک) بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے
فرما دیجئے: اگر زمین میں (انسانوں کی بجائے) فرشتے چلتے پھرتے سکونت پذیر ہوتے تو یقیناً ہم (بھی) ان پر آسمان سے کسی فرشتہ کو رسول بنا کر اتارتے
سورہ اسراء، آیت ۹۰ تا ۹۵
اور وہ کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہوا ہے، یہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا کہ وہ اس کے ساتھ (مل کر) ڈر سنانے والا ہوتا
سورہ فرقان، آیت ۷
اور کہنے لگے: یہ قرآن (مکّہ اور طائف کی) دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی (یعنی کسی وڈیرے، سردار اور مال دار) پر کیوں نہیں اتارا گیا
سورہ زخرف، آیت ۳۱
ایک روز حضرت محمدﷺچند اصحاب کے ساتھ خانہ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اور قرآنی آیات اور اسلامی احکام کی تعلیم میں مشغول تھے، اس موقع پر قریش کے چند مشرک اور بت پرست سردار جیسے: ولید بن مغیرہ، ابو البختری ، ابو جہل ، عاص بن وائل، عبد اللہ بن حذیفہ، عبد اللہ مخزومی، ابوسفیان، عتبہ اور شیبہ وغیرہ، تمام لوگ جمع ہوکرکہنے لگے کہ روز بروز محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کا کام ترقی پر ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ان کے پاس جاکر پہلے ان کی سرزنش اور ملامت کریں اور پھر ان سے بحث و جدل کریں اور ان کی باتوں کو ردّ کرتے ہوئے ان کے کھوکھلے پن اور بے بنیاد ہونے کو ان کے اصحاب اور دوستوں کے سامنے واضح کریں، اگر انھوں نے ہماری باتیں سمجھ لیں اور اس انحراف اور کج روی سے باز آگئے تو ہم اپنے ہدف میں کامیاب ہوگئے، ورنہ تلوار کے ذریعہ ان کا کام تمام کردیں گے۔
ابوجہل نے کہا: ہم میں سے کون ایسا شخص ہے جو ہماری طرف سے ان کے ساتھ جدل اور بحث و مذاکرہ کرے؟
عبد اللہ مخزومی نے کہا: میں ان سے بحث کرنے کے لئے تیار ہوں، اگر مجھے کافی سمجھتے ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
ابو جہل نے بھی اس کو پسند کیا، اور سب لوگ وہاں سے اٹھے اور حضرت محمدﷺکے پاس گئے۔
عبد اللہ مخزومی نے گفتگو کا آغار کیا اور اپنی گفتگو میں اعتراض بیان کرنے شروع کئے، ہر دفعہ میں آنحضرت ﷺفرماتے جاتے تھے: ”کیا ابھی تمہاری گفتگو باقی ہے؟“، اور وہ کہتا تھا: ہاں، اور اپنی باتیں بیان کرتا جاتا تھا، یہاں تک کہ اس نے کہا: ہاں بس اتنا کافی ہے، اگر آپ کے پاس کوئی جواب ہے تو ہم سننے کے لئے تیار ہیں۔
اس کی گفتگو میں دس عدد اعتراض درج ذیل ترتیب سے تھے:
۱۔ تم دوسرے لوگوں کی طرح کھانا کھاتے ہو، پیغمبر کو دوسرے لوگوں کی طرح کوئی چیز نہیں کھانا چاہئے۔
۲۔ تمہارے پاس کیوںمال و دولت نہیں ہے، حالانکہ تمہیں خدا کے نمائندے اور ایک طاقتور بادشاہ کی طرح صاحب جاہ و ثروت ہونا چاہئے۔
۳۔ تمہارے ساتھ ایک فرشتہ ہونا چاہئے جو تمہاری تصدیق کرے، اور وہ فرشتہ ہمیں بھی دکھائی دے بلکہ مناسب ہے کہ پیغمبر کو بھی ملائکہ کی جنس سے ہو۔
۴۔ تم پر جادو کا اثر ہے، اور تم جادو ہوئے افراد کی طرح ہو۔
۵۔ قرآن کریم کسی مشہور و معروف شخص جیسے ”ولید بن مغیرہ مکّی“ یا ”عروہٴ طائفی“پرکیوں نازل نہیں ہوا۔
۶۔ ہم اس وقت تک آپ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک آپ سخت اور پتھریلی زمین سے پانی کا چشمہ جاری نہ کردیں! اور خرما اور انگور کا باغ تیار نہ کردیں تاکہ ہم لوگ اس چشمہ سے پانی پئےں اور اس باغ کے پھل کھائیں۔
۷۔ یا آسمان کو سیاہ بادلوں کی طرح ہمارے سروں پر نیچے لے آئیں۔
۸۔ یا خدا اور فرشتوں کو ہمیں اپنی آنکھوں سے دکھائیں۔
۹۔ یا سونے سے بھرا ہوا گھر آپ کے پاس ہو!
۱۰۔ یا آپ آسمان پر جائیں اور خدا کی طرف سے کوئی خط لے کرآئیں تاکہ ہم اس کو پڑھیں (یعنی خدا مشرکین کے لئے خط لکھے کہ محمد(ص) میرے پیغمبر ہیں لہٰذاان کی اطاعت کرو)
ان دس چیزوں کو انجام دینے کے بعد بھی ہم وعدہ نہیں کرتے کہ ہمارے دل کو اطمینان حاصل ہوجائے کہ آپ پیغمبر ہیں، کیونکہ ممکن ہے کہ یہ تمام کام آپ جادو اور چشم بندی کے ذریعہ انجام دیں۔
جاری ہے۔۔۔۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers