ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

حضرو

Posted by ارتقاءِ حيات on September 7, 2011

دریائے سندھ یوں تو خاموشی سے بہا جا رہا ہے لیکن اگر اس کے منہ میں زبان ہوتی تو یہ رات دن تاریخ کی داستانیں سنایا کرتا۔ یہ بتایا کرتا کہ کیسی کیسی افواج اس کے کنارے آپس میں ٹکرائیں اور کب کب اس کا پانی سرخ ہوا۔
دریائے  سندھ کے دو کناروں پر دو مقامات  بہت اہم ہیں۔ پشاور کی جانب ہنڈ اور راولپنڈی کی طرف حضرو۔
شمال سے جو لشکر ہندوستان آیا کرتے تھے ان کے گھوڑے اسی ہنڈ کے مقام پر دریا میں اترتے تھے اور احتیاط سے قدم اٹھاتے ہوئے اس حضرو کے قریب دوسرے کناروں پر چڑھتے تھے یہی کنارہ چھچھ کہلاتا ہے۔
کہتے ہیں 24 میل چوڑا اور 12 میل لمبا یہ علاقہ پیالے کی شکل کا اور پان کے پتے سے مشابہ ہے۔ اس کے 3 کنارے اونچے اور چوتھا کنارہ نیچا ہے بالکل  جیسے اپنی طرف دانے پھٹکنے کا چھاج ہوتا  ہے۔ پرانی روایاتوں کے مطابق اس علاقے کا پرانا نام چھج تھا۔
حضرت عیسٰی     سے 327 سال پہلے سکندر اعظم اسی چھچھ کے گاؤں ملاح میں داخل ہوا تھا۔ 1000؁ کے ذرا بعد راجا آنند پال اور محمود غزنوی کی لڑائی یہیں حضرو کے مقام پر ہوئی اور سید احمد شہید  نے یہیں سکھوں سے ٹکر لی اور مولانا ظفر علی خان کو یہیں حضرو میں مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے قید کا حکم سنایا گیا تھا۔
http://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/6/66/Pakistan_location_map.svg

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers