بو علی سینا
Posted by ارتقاءِ حيات on September 5, 2011

بو علی حسین بن عبداللہ بن سینا 980 عیسوی بمطابق 370 ہجری قمری کو بخارا میں پیدا ہوۓ ۔ ان کے والد کا نام عبداللہ تھا جو بلخ کے رہنے والے تھے اور نوح بن منصور سامانی کے دور حکومت میں بخارا ہجرت کر گۓ اور یہاں ان کے والد کو انتظامی امور میں ایک اچھے عہدے پر فائز کر دیا گیا ۔
Avicenna ان کی والدہ کا نام ستارہ تھا ۔ آپ ماں اور باپ ، دونوں کی طرف سے ایرانی النسل ہیں ۔ یورپ کے رہنے والے انہں
کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔
انھو ں نے بخا را میں تعلیم پا ئی اور سب سے پہلے قرآن اور ادبیات کی تعلیم حاصل کی اور صرف دس سال کی عمر میں ہی انہوں نے اس قدر ان علوم میں ترقی کی کہ ارد گرد کے لوگوں کو حیران کر دیا ۔
ان کے والد ” اخوان الصفاء ” نامی ایک رسالے کا مطالعہ کیا کرتے تھے ، اپنے والد کو دیکھ کر ابن سینا نے بھی اس رسالے کو پڑھنا شروع کر دیا ۔ ان کے والد انہیں ایک سبزی بیچنے والے کے پاس لے گۓ جس کا نام محمود مساحی تھا اور وہ ہندی حساب کتاب سے آگاہی رکھتا تھا ۔ چنانچہ ابن سینا نے بچپن میں اس سبزی فروش سے یہ فن بھی سیکھ لیا ۔ اسی زمانے میں ایک دانشمند بنام ابو عبداللہ ( حسین بن ابراھیم الطبری ) ناتلی جو فلسفہ کا داعی تھا ، بخارا آیا ۔ ان کے والد نے اس فلسفہ دان کو اپنے گھر میں جگہ دی اور اسی سے فائدہ اٹھاتے ہوۓ ابن سینا نے اس سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی ۔ انہی سے انہوں نے فقہ کی بھی ایک حد تک تعلیم حاصل کی ۔
جب سلطان بخارا نوح ابن منصور بیمار ہوۓ تو ان کے علاج معالجے کے سلسلے میں زمانے کے تجربہ کار حکیموں کی دوائیں استعمال کی گئی ۔ جب کسی بھی حکیم کی دوائی کارگر ثابت نہ ہوئی تب ابن سینا جیسے کم عمر اور غیر معروف طبیب کی دوائی سے سلطان صحت یاب ہو گئے۔ چنانچہ سلطان نے ان کو اپنی لائبریری کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ بو علی کا حافظہ بہت تیز تھا۔ جلد ہی سلطان کا کتب خانہ چھان مارا اور ہمہ گیر معلومات اکٹھی کر لیں۔ اکیس سال کی عمر میں پہلی کتاب لکھی۔ ایک روایت کے مطابق بو علی سینا نے اکیس بڑی اور چوبیس چھوٹی کتابیں لکھی تھیں۔ بعض کے خیال میں اس نے ننانوے کتابیں تصنیف میں لائیں۔
ان کی اہم تصانیف میں کتاب الشفاء ،القانون فی الطب، اشارات شامل ہیں ۔ یورپ میں ان کی بہت سی کتابوں کے ترجمے ہوئے اور وہاں ان کی بہت عزت کی جاتی ہے۔
اسلام کا یہ عظیم فرزند اپنے زما نے میں عظیم حکیم اور عظیم فلسفی اور ماھر طبیعات بن کر ابھرا ۔
آپ ماہر کیمیا دان‘ ماہر طب‘ ماہر طبیعیات اور بہترین دوا ساز تھے۔ آپ وہ پہلے کیمیا دان تھے جنہوں نے اس نظریے کی تردید کی کہ ہر دھات کو سونے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
آپ نے ایک طبیب کی حیثیت سے ناقابل علاج بیماریوں کا علاج دریافت کیا۔ دوا سازی میں آپ نے 760 سے زائد مختلف ادویات خود تیار کیں۔ آپ نے سو سے زائد کتب تحریر کیں جن میں سے 16طب اور 5 سائنس (جنرل) پر تھیں۔ ان تصانیف میں دو کتابیں نہات اہم ہیں پہلی ”قانون فی الطب“ اور دوسری ”الشفا“۔ قانون فی الطب کی 5جلدیں تھیں۔
یہ کتاب آٹھ سو سال تک یورپ کے میڈیکل کالجوں میں بطور درسی کتاب شامل رہی۔ آپ درس و تدریس اور استادوں کے لیے چند اصول بھی لکھے ہیں۔ یورپ کا پہلا تعلیمی ڈھانچہ شیخ بوعلی سینا ہی کے اصولوں پر مبنی تھا۔
اسلامی دنیا کی اس عظیم شخصیت نے سن 1037 ء میں وفات پائی اور ان کا مقبرہ ایران کے شہر ھمدان میں واقع ہے ۔




جاویداقبال said
بہت خوب اجھی معلومات شیئرکیں ہیں۔ ایسی معلومات شیئرکرتےرہیں۔ اللہ تعالی تحریر میں اورترقی دے۔ آمین ثم آمین
بو علی سینا | Tea Break said
[...] بو علی سینا [...]
محمد سلیم said
بہت قیمتی معلومات۔ شکریہ
ارتقاءِ حيات said
شکریہ سلیم بھائی
أبو فارس said
اسلام کے اس عظیم فرزند کو ابن القیم الجوزیہ نے اغاثہ اللہفان میں دہریہ قرار دیا ہے، جبکہ غزالی نے المنقذ من الضلال اور ابن تیمیہ نے کتاب الصفدیہ میں اسے کافر قرار دیا ہے.
دوسروں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر چلاتے رہیں اور موج کریں…
تحریم said
لوگ تو ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی قادیانی کہتے ہیں
مجھے بندوق چلانی آتی ہے آپ کیسے جان گئے بھائی مکّی؟؟
أبو فارس said
آپ کو چلانی نہیں آتی… آپ انجانے میں چلا گئیں..
تحریم said
جی کیا کروں اکثر ایسا ہو ہی جاتا ہے
ڈاکٹر جواد احمد خان said
ڈاکٹر عبدالسلام حقیقت میں قادیانی تھے…
تحریم said
جی یہ ایک مسلم حقیقت ہے وہ قادیانی تھے
مگر تھے تو پاکستانی۔۔۔۔۔
ڈاکٹر جواد احمد خان said
کیا آپ یہ جانتی ہیں کہ ڈاکٹر عبدالسلام کے پاکستان کے بارے میں کیا خیالات تھے؟ یا یہ کہ قادیانی پاکستان کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
ارتقاءِ حيات said
اتنا جانتی نہیں تھی پر آُ سب کے اسرار پر ان پر لکھی گئی کئی کتب کے مطالعے کئے
اور اپنے الفاظ پر نادمہو اور خاص کر اپنی تحریر جو عبدالسلام پر لکھی تھی وہ ان کے ہی 1 حامی کی کتب کا مطالعہ کرنے کے بعد لکھ ڈالی