نواب حیدر علی
Posted by ارتقاءِ حيات on September 4, 2011

سترہ سو سات میں حضرت عالمگیرؒ کی وفات کے بعد سلطنت مغلیہ کا شیرازہ بکھرتا چلا گیا، متحدہ ہندوستان میں طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا، اس پرآشوب دور میں جبکہ انگریز نت نئی پالیسیوں اور سازشوں سے ملک کے چپے چپے پر قابض ہورہے تھے اور تمام ملک ہمالیہ سے لے کر راس کماری تک قتل ، غارتگری اور لوٹ مار کا جولان گاہ بنا ہوا تھا، دریں اثناء جنوبی ہند کی ریاست میسور میں ضلع کولار کے بودی کوٹہ نامی مقام پر ایک بچے نے ۱۷۲۲ء میں ولادت پائی۔ جس کا نام ’’حیدر علی‘‘ رکھا گیا،والد کا نام فتح محمد اور والدہ کا نام بی بی مجیدہ تھا۔ اس وقت حیدر علی کے والد شیخ فتح محمد صوبہ دار سراؔعابد خان کے ماتحت منصب دوہزار پیادہ اور پانچسو سوار مع فیل و نقارہ و علم سے سرفراز تھے، اس لئے حیدرعلی کا بچپن نہایت آرام و آسائش سے گذرا لیکن اچانک وقت نے کروٹ لی ۔ حیدر علی کی عمر لگ بھگ ۵برس کی ہوگی کہ یہاں صوبیداری کے لئے عبدالرسول خان بن عابد خان اور نواب طاہر محمد خان کے درمیان اقتدار کی جنگ چھڑ گئی۔ حیدر علی کے والد محمد عبدالرسول کے طرفدار تھے، اس لڑائی میں عبدالرسول خان کو شکست ہوگئی اور شیخ فتح محمد اس لڑائی میں مارے گئے ، اس وقت حیدرعلی کی والدہ دو کمسن بچوں حیدرعلی اور شہباز کے ساتھ بالاپور میں مقیم تھیں۔ وہاں کا حاکم فتح محمد کا شدید مخالف تھا، اس نے حیدرعلی کی والدہ سے ایک خطیر رقم کا مطالبہ بطور سرکاری قرض کیا ، رقم کی عدم ادائیگی پر اس نے فتح محمد کے گھر کا تمام اثاثہ لوٹ لیا حتیٰ کہ کپڑے اور اناج تک نہ چھوڑا غرض بمشکل ان حالات سے ان کو چھٹکارا ملا۔ حیدر علی اور ان کی والدہ کو ان کے ایک عزیز نے سرنگا پٹم بلالیا اور بچوں کی روایتی تعلیم فنون سپہ گری، تیغ زنی، کمندافگنی، اسپ تازی اور تفنگ اندازی وغیرہ اعلیٰ پیمانے پر کی گئی۔ وقت گذرا حیدرعلی نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو ایک بہترین فوجی افسر بن چکا تھا جس کی برق دم شمشیر سے ہندوستان کی ایک نئی تاریخ رقم ہونے والی تھی۔ وہ اپنے اعلیٰ کردار اور خوش عادات و اطوار کی بنا پر عوام و خواص کا گردیدہ ہوگیا، اس وقت ریاست میسور کی باگ ڈور دیوراج اور نندراج کے ہاتھوں میں تھی۔ ریاستی امور پر ان کا مکمل قبضہ تھا، نیز ایک مصلحت کے تحت کرشنا راج کو برائے نام وہاں کا حاکم بنا رکھا تھا، جس کی حیثیت ایک کٹھ پتلی سے زیادہ نہ تھی۔ حیدرعلی راجہ میسور کی فوج میں ایک فوجی افسر کے عہدے پر تعینات تھا، چنانچہ ریاست کے علاقہ پائین گھاٹ میں شورش بپا ہوئی تو حیدرعلی نے اپنی قابلیت اور شجاعت سے اس کا قلع قمع کردیا۔ ان معرکوں میں حیدرعلی کے بہادرانہ جوہر دیکھ کر میسور کے وزیر نے ان کو ڈنڈی گل کا گورنر بنادیا۔ مختلف شورشوں اور بغاوتوں سے نبرد آزما ہوتا ہو ا یہ سپوت ہند برتری پاکر میسور کی فوج کا سپہ سالار مقرر ہوگیا اور ’فتح حیدربہادر‘کے اعزاز سے نوازا گیا۔ حیدر علی کی قدم قدم پرکامرانی اور کامیابی نے آزمائشیں بھی بڑھا دی تھیں، اس وقت انگریزوں کے ساتھ ایک بڑی طاقت مراٹھوں کی سر اٹھا رہی تھی، حیدر علی نے ان کا بھی مردانہ وار مقابلہ کیا اور ان کو جگہ جگہ شکست فاش دی۔ حیدر علی کا عہد آزمائشوں اور سازشوں سے پر ہے، ایک طرف انگریز اور دوسری جانب مراٹھوں اور تیسری سمت نظام حیدرآباد کی دوغلی پالیسی نے حیدرعلی کو کبھی سکون کی سانس نہ لینے دی۔ حیدرعلی نے مصلحتاً میسور کے برائے نام راجہ کو ایک بڑی جاگیر دے کر عنان حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی، حیدری تلوار کی جھنکار اب ریاست میسور سے نکل کر ایوان ایسٹ انڈیا کمپنی تک پہنچ گئی تھی، جس سے برطانوی خواب چکنا چور ہو رہے تھے۔ کتاب ’’نظام علی خان‘‘ کا مصنف لکھتا ہے:
’’چونکہ اس زمانے میں کمپنی کو حیدرعلی خان کی روزافزوں قوت سے اندیشہ تھا اور وہ آئے دن کرناٹک اور انگریز کمپنی کے علاقے پر حملہ کرتے رہتے تھے، اس بات سے کمپنی کو یہ لازم تھا کہ اس کا کوئی معقول بندوبست کرتی اور ساتھ ساتھ اس امر کا انتظام بھی ضروری تھا کہ دکن کے ان رئیسوں کو فراہم کرلے جن کے ساتھ متفق ہوکر حیدرعلی خان اپنی قوت میں اضافہ کرسکتے تھے۔ ان امور پر نظر کرتے ہوئے کمپنی نے بندگان عالی (نظام علی خان) کو حیدرعلی خان کے خلاف کھڑا کردیا۔۔‘‘
حیدرعلی کی اعلیٰ بصیرت ،سطوت اور حکمت نے دشمنان ملک و وطن کو ہرمحاذ پر مات دی جس سے انگریز اور اس کے اتحادی بوکھلا اٹھے تھے۔ مثلاً منگلور کے محاصرے کے بارے میں مؤرخین لکھتے ہیں یہاں حیدرعلی نے آٹھ ہزار چوبیں بندوقیں تیار کرکے آٹھ ہزار سپاہیوں کا ایک دستہ اتحادی فوج سے لڑائی کے لئے بھیجا، جس وقت انگریزی سپہ سالار نے یہ دیکھا کہ بیشمار فوج اس کے مد مقابل آرہی ہے تووہ قلعہ چھوڑ کر بھاگنے کی تیاری کرنے لگا، بالآخر حیدری جانبازوں نے قلعے پر توپوں کے منھ کھول دیے، جس سے برٹش فوج کے سورما نہایت بے سراسیمگی کی حالات میں اپنا تمام سامان چھوڑکر بمبئی بھاگ گئے۔ حیدرعلی اور اس کے جانشین شیر میسور ٹیپو سلطان نے ہندوستان میں ابھرتی بغاوتیں اور انگریزی سیلاب کو روکنے کے لئے جن تدابیر اور جانفشانی کی مثالیں قائم کیں۔ مورخ ایسی تاریخ رقم کرنے سے قاصر ہے۔ حیدرعلی کی شجاعت اور بہادری، اعلیٰ نظم و نسق اور بے نظیر حکمت عملی کا اعتراف بعض ایماندار مغربی تاریخ نگاروں نے بھی کیا ہے۔ مدراس کے متعلق ایک معاہدے کے ضمن میں مشہور مؤرخ بورنگ اپنی تاریخ میںلکھتا ہے:
’’کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا کہ اپنی نقل و حرکت سے جو صلح اس سے قبل عمل میں آئی میسور کے سردار حیدر علی نے اپنی سلیقہ شعاری اور مادر زاد تدبیر و ذکاوت کے اعلیٰ صفات کا اظہار کیا ہے۔ برخلاف اس کے مدراس کی گورنمنٹ نے کم فہمی اور اپنے بودے پن کا ثبوت دیا اور نادانی سے دغاباز محمد علی پر بھروسہ کیا مگر حیدر علی نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس نے محمد علی کی فریب دہی کا پورا پورا اندازہ کرلیا تھا۔ ‘‘
حیدرعلی کے لئے اس وقت جنگوںکی نوعیت اتنی الجھی ہوئی تھی کہ دوست اور دشمن کی تمیز کرنا دشوار تھا، مگر اس جانباز ہند نے اپنی حسن فہم و فکر سے ہر محاذ کا سامنا کیا اور ان کو زیر کرتا ہوا آگے بڑھتا رہا، جنوبی ہند کی سرزمین کو بدامنی اور غارتگری سے نجات دلانے میں حیدرعلی نے جو کارہائے نمایاں انجام دئیے اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ انگریزوں کے گڑھ میں گھس کر اس کی سرکوبی اور ملک کی آزادی ہی اس کا نصب العین تھا۔ خوش نصیبی سے اس کے ہونہار فرزند نے بھی اپنے وطن کی عزت و ناموس پر جان دینا فخر سمجھا۔ جن حالات اور زمانے میں حیدر علی اور ٹیپو سلطان ملک کی آبرو بچانے میں مصروف تھے وہ ان کے جوش و جذبہ کا ہی نتیجہ تھا۔ ورنہ پوراہندوستان آویزشوں اور فتنوں کے پورے پورے نرغے میں تھا۔ اس نازک دور میں ہندوستان کی سلامتی کے لئے صف آرائی خود میں ایک مثال ہے۔ 7دسمبر1782ء کو ہندوستان کی آزادی کا یہ عظیم جرنیل فرشتہ ٔ اجل سے شکست کھاکر اپنے خالق حقیقی سے جا ملا اور اپنے پیچھے ایک ایسا مرد مجاہد اپنا جانشین چھوڑ گیا جس پر رہتی دنیا تک رشک کیا جاتا رہے گا۔ حیدرعلی کی بے وقت موت ہندوستان کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان اور صدمۂ جانکاہ ثابت ہوئی۔ انگریزوں کے شل ہوتے حوصلے اور اکھڑتے اقدام پھر سے جمنے لگے۔ نواب حیدر علی کس ممتاز شخصیت کے مالک تھے، ا س کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ پونہ میں جو مراٹھے نانا فرنویس کے تحت انگریزوں سے لڑ رہے تھے اور باجود فاتح ہونے کے حیدر علی کی وفات کی خبر پاکر انہوں نے صلح نامہ ’’سالبی‘‘ پر جس کو وہ پہلے ٹھکرا چکے تھے، اب سراطاعت خم کرکے قبول کرلیا۔ حیدر علی کی وفات کے وقت انگریزوں کی ہندوستان میں جو حالت تھی وہ انگریزی مؤرخین کی زبانی سنئے۔ نامور مؤرخ سنکلیر لکھتا ہے:
’’ہندوستان میں انگریزوں کی حالت اس سے زیادہ خطرے میں کبھی نہیں تھی، بنگال پر ناگپور کا راجہ حملہ کرنے والا تھا، وسطی ہندوستان میں نانا فرنویس کے تحت مراٹھے انگریزوں سے ایک کامیاب جنگ میں مصروف تھے، جنوب میں انگریزی فوجیں جہازوں کی پناہ لئے ہوئے ساحل مدراس پر مقیم تھیں، معلوم تو یہ ہورہا تھا کہ انگریز ملک میں کوئی دم کے مہمان ہیں۔‘ـ‘
نواب حیدر علی نہایت دوراندیش اور وسیع النظر شخصیت کے حامل تھے۔ انہوں نے وقت کو بھانپ کر ہندوستان کی منتشر قوتوں کو یکجا کرنے کی بھرپور کوششیں کیں، حیدرعلی کے کارناموں میں یقینا سب سے بڑا اور نمایاں کارنامہ یہ ہے کہ فتح منگلور کے بعد یہاں جہاز ات بنانے کا ایک بڑا کارخانہ قائم کیا جو ہندوستانی فوج کی ایک بڑی کامیابی تھی، مگر مسلسل جنگوں میں مصروفیت کی وجہ سے اس شعبے میں خاص ترقی نہیں ہوپائی تاہم حیدرعلی کی وفات کے وقت ایک بڑا اور ساٹھ چھوٹے جہاز بحری فوج کی شکل میں تعینات تھے، نواب حیدر علی سیرت کے ساتھ اعلیٰ صورت و سراپے کے مالک تھے۔وہ پورے گرانڈیل جوان تھے، قد چھ فٹ، رنگ گندمی، چہرہ مرعوب جس سے درشتی،چستی اور چالاکی کے آثا رنمایاں تھے۔ لباس ہندوستانی سفید ململ یا منتزیب کا، جس کی آستین چست اور دامن فراخ تھا، حیدر علی کی گفتگو نہایت شیریں اور نرم تھی۔ دوران بات چیت مذاق کی عادت تھی۔ جس کی شہرت عرصہ تک میسور میں ضرب المثل رہی۔ مادری زبان فارسی تھی اس کے علاوہ جنوبی ہند کی مروجہ زبانوں دکنی، اردو، کنڑی، تمل ، مراٹھی اور تلنگی بھی بولتے تھے علاوہ ازیں فرانسیسی زبان سے بھی معمولی واقفیت تھی۔ عدل و انصاف بھی نواب حیدر علی کا مثالی تھا ، امیر غریب، سپاہی اور افسران سب برابر تھے۔ یہاں تک کہ ایک بار کسی جرم پر شہزادہ ٹیپو سلطان کو بھی حیدر علی نے اپنے ہاتھوں سے کوڑے لگائے تھے۔ الغرض سلاطین ہند ہی نہیں سلاطین عالم میں ایسے حکمرانوں کی نظیر بمشکل نظر آئے گی۔ کیا عجب ہے کہ سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد اہل ہند کو سنبھلنے اور انگریزی جبر واستبداد سے نجات کے لئے ایک سنہری موقع تھا کہ وہ حیدرعلی اور ٹیپو سلطان کی غیرمعمولی صلاحیتوں سے متمتع ہوتے ، مگر یہ اہل ملک کی بدقسمتی رہی کہ انہوں نے فطرت کے اس عطیہ سے مستفید ہونے کے بجائے اپنے اپنے مفادات کو مقدم رکھا۔ حیدرعلی اور سلطان شہید جیسے عظیم المرتبت، بے لوث اور وطن پرست تاجداروں سے تاریخ عالم کے اوراق خالی خالی سے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے چند سالہ دور حکومت میں جس پر ہر سو خطرات کے بادل یورش کرتے رہے، ہندوستان کو کیا دیا اور کیا دینا چاہا یہ ایک مکمل اور جامع موضوع ہے جس کے مطالعہ کے بغیر ہندوستان کی تاریخ ادھوری رہے گی۔ بلاشبہ ان بلندپایہ شخصیات کی قربانیوں اور جدوجہد نے برصغیر میں اس عالمگیر قوم (انگریز) کے خلاف ۱۹۴۷ء تک نمبردآزماہونے کا عزم اور جذبہ عطا کیا تھا۔ ہندوستان کی آزادی کی تاریخ میں حیدرعلی اور ٹیپوسلطان کے نام سدا زندہ ٔ جاوید رہیں گے۔
’’چونکہ اس زمانے میں کمپنی کو حیدرعلی خان کی روزافزوں قوت سے اندیشہ تھا اور وہ آئے دن کرناٹک اور انگریز کمپنی کے علاقے پر حملہ کرتے رہتے تھے، اس بات سے کمپنی کو یہ لازم تھا کہ اس کا کوئی معقول بندوبست کرتی اور ساتھ ساتھ اس امر کا انتظام بھی ضروری تھا کہ دکن کے ان رئیسوں کو فراہم کرلے جن کے ساتھ متفق ہوکر حیدرعلی خان اپنی قوت میں اضافہ کرسکتے تھے۔ ان امور پر نظر کرتے ہوئے کمپنی نے بندگان عالی (نظام علی خان) کو حیدرعلی خان کے خلاف کھڑا کردیا۔۔‘‘
حیدرعلی کی اعلیٰ بصیرت ،سطوت اور حکمت نے دشمنان ملک و وطن کو ہرمحاذ پر مات دی جس سے انگریز اور اس کے اتحادی بوکھلا اٹھے تھے۔ مثلاً منگلور کے محاصرے کے بارے میں مؤرخین لکھتے ہیں یہاں حیدرعلی نے آٹھ ہزار چوبیں بندوقیں تیار کرکے آٹھ ہزار سپاہیوں کا ایک دستہ اتحادی فوج سے لڑائی کے لئے بھیجا، جس وقت انگریزی سپہ سالار نے یہ دیکھا کہ بیشمار فوج اس کے مد مقابل آرہی ہے تووہ قلعہ چھوڑ کر بھاگنے کی تیاری کرنے لگا، بالآخر حیدری جانبازوں نے قلعے پر توپوں کے منھ کھول دیے، جس سے برٹش فوج کے سورما نہایت بے سراسیمگی کی حالات میں اپنا تمام سامان چھوڑکر بمبئی بھاگ گئے۔ حیدرعلی اور اس کے جانشین شیر میسور ٹیپو سلطان نے ہندوستان میں ابھرتی بغاوتیں اور انگریزی سیلاب کو روکنے کے لئے جن تدابیر اور جانفشانی کی مثالیں قائم کیں۔ مورخ ایسی تاریخ رقم کرنے سے قاصر ہے۔ حیدرعلی کی شجاعت اور بہادری، اعلیٰ نظم و نسق اور بے نظیر حکمت عملی کا اعتراف بعض ایماندار مغربی تاریخ نگاروں نے بھی کیا ہے۔ مدراس کے متعلق ایک معاہدے کے ضمن میں مشہور مؤرخ بورنگ اپنی تاریخ میںلکھتا ہے:
’’کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا کہ اپنی نقل و حرکت سے جو صلح اس سے قبل عمل میں آئی میسور کے سردار حیدر علی نے اپنی سلیقہ شعاری اور مادر زاد تدبیر و ذکاوت کے اعلیٰ صفات کا اظہار کیا ہے۔ برخلاف اس کے مدراس کی گورنمنٹ نے کم فہمی اور اپنے بودے پن کا ثبوت دیا اور نادانی سے دغاباز محمد علی پر بھروسہ کیا مگر حیدر علی نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس نے محمد علی کی فریب دہی کا پورا پورا اندازہ کرلیا تھا۔ ‘‘
حیدرعلی کے لئے اس وقت جنگوںکی نوعیت اتنی الجھی ہوئی تھی کہ دوست اور دشمن کی تمیز کرنا دشوار تھا، مگر اس جانباز ہند نے اپنی حسن فہم و فکر سے ہر محاذ کا سامنا کیا اور ان کو زیر کرتا ہوا آگے بڑھتا رہا، جنوبی ہند کی سرزمین کو بدامنی اور غارتگری سے نجات دلانے میں حیدرعلی نے جو کارہائے نمایاں انجام دئیے اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ انگریزوں کے گڑھ میں گھس کر اس کی سرکوبی اور ملک کی آزادی ہی اس کا نصب العین تھا۔ خوش نصیبی سے اس کے ہونہار فرزند نے بھی اپنے وطن کی عزت و ناموس پر جان دینا فخر سمجھا۔ جن حالات اور زمانے میں حیدر علی اور ٹیپو سلطان ملک کی آبرو بچانے میں مصروف تھے وہ ان کے جوش و جذبہ کا ہی نتیجہ تھا۔ ورنہ پوراہندوستان آویزشوں اور فتنوں کے پورے پورے نرغے میں تھا۔ اس نازک دور میں ہندوستان کی سلامتی کے لئے صف آرائی خود میں ایک مثال ہے۔ 7دسمبر1782ء کو ہندوستان کی آزادی کا یہ عظیم جرنیل فرشتہ ٔ اجل سے شکست کھاکر اپنے خالق حقیقی سے جا ملا اور اپنے پیچھے ایک ایسا مرد مجاہد اپنا جانشین چھوڑ گیا جس پر رہتی دنیا تک رشک کیا جاتا رہے گا۔ حیدرعلی کی بے وقت موت ہندوستان کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان اور صدمۂ جانکاہ ثابت ہوئی۔ انگریزوں کے شل ہوتے حوصلے اور اکھڑتے اقدام پھر سے جمنے لگے۔ نواب حیدر علی کس ممتاز شخصیت کے مالک تھے، ا س کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ پونہ میں جو مراٹھے نانا فرنویس کے تحت انگریزوں سے لڑ رہے تھے اور باجود فاتح ہونے کے حیدر علی کی وفات کی خبر پاکر انہوں نے صلح نامہ ’’سالبی‘‘ پر جس کو وہ پہلے ٹھکرا چکے تھے، اب سراطاعت خم کرکے قبول کرلیا۔ حیدر علی کی وفات کے وقت انگریزوں کی ہندوستان میں جو حالت تھی وہ انگریزی مؤرخین کی زبانی سنئے۔ نامور مؤرخ سنکلیر لکھتا ہے:
’’ہندوستان میں انگریزوں کی حالت اس سے زیادہ خطرے میں کبھی نہیں تھی، بنگال پر ناگپور کا راجہ حملہ کرنے والا تھا، وسطی ہندوستان میں نانا فرنویس کے تحت مراٹھے انگریزوں سے ایک کامیاب جنگ میں مصروف تھے، جنوب میں انگریزی فوجیں جہازوں کی پناہ لئے ہوئے ساحل مدراس پر مقیم تھیں، معلوم تو یہ ہورہا تھا کہ انگریز ملک میں کوئی دم کے مہمان ہیں۔‘ـ‘
نواب حیدر علی نہایت دوراندیش اور وسیع النظر شخصیت کے حامل تھے۔ انہوں نے وقت کو بھانپ کر ہندوستان کی منتشر قوتوں کو یکجا کرنے کی بھرپور کوششیں کیں، حیدرعلی کے کارناموں میں یقینا سب سے بڑا اور نمایاں کارنامہ یہ ہے کہ فتح منگلور کے بعد یہاں جہاز ات بنانے کا ایک بڑا کارخانہ قائم کیا جو ہندوستانی فوج کی ایک بڑی کامیابی تھی، مگر مسلسل جنگوں میں مصروفیت کی وجہ سے اس شعبے میں خاص ترقی نہیں ہوپائی تاہم حیدرعلی کی وفات کے وقت ایک بڑا اور ساٹھ چھوٹے جہاز بحری فوج کی شکل میں تعینات تھے، نواب حیدر علی سیرت کے ساتھ اعلیٰ صورت و سراپے کے مالک تھے۔وہ پورے گرانڈیل جوان تھے، قد چھ فٹ، رنگ گندمی، چہرہ مرعوب جس سے درشتی،چستی اور چالاکی کے آثا رنمایاں تھے۔ لباس ہندوستانی سفید ململ یا منتزیب کا، جس کی آستین چست اور دامن فراخ تھا، حیدر علی کی گفتگو نہایت شیریں اور نرم تھی۔ دوران بات چیت مذاق کی عادت تھی۔ جس کی شہرت عرصہ تک میسور میں ضرب المثل رہی۔ مادری زبان فارسی تھی اس کے علاوہ جنوبی ہند کی مروجہ زبانوں دکنی، اردو، کنڑی، تمل ، مراٹھی اور تلنگی بھی بولتے تھے علاوہ ازیں فرانسیسی زبان سے بھی معمولی واقفیت تھی۔ عدل و انصاف بھی نواب حیدر علی کا مثالی تھا ، امیر غریب، سپاہی اور افسران سب برابر تھے۔ یہاں تک کہ ایک بار کسی جرم پر شہزادہ ٹیپو سلطان کو بھی حیدر علی نے اپنے ہاتھوں سے کوڑے لگائے تھے۔ الغرض سلاطین ہند ہی نہیں سلاطین عالم میں ایسے حکمرانوں کی نظیر بمشکل نظر آئے گی۔ کیا عجب ہے کہ سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد اہل ہند کو سنبھلنے اور انگریزی جبر واستبداد سے نجات کے لئے ایک سنہری موقع تھا کہ وہ حیدرعلی اور ٹیپو سلطان کی غیرمعمولی صلاحیتوں سے متمتع ہوتے ، مگر یہ اہل ملک کی بدقسمتی رہی کہ انہوں نے فطرت کے اس عطیہ سے مستفید ہونے کے بجائے اپنے اپنے مفادات کو مقدم رکھا۔ حیدرعلی اور سلطان شہید جیسے عظیم المرتبت، بے لوث اور وطن پرست تاجداروں سے تاریخ عالم کے اوراق خالی خالی سے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے چند سالہ دور حکومت میں جس پر ہر سو خطرات کے بادل یورش کرتے رہے، ہندوستان کو کیا دیا اور کیا دینا چاہا یہ ایک مکمل اور جامع موضوع ہے جس کے مطالعہ کے بغیر ہندوستان کی تاریخ ادھوری رہے گی۔ بلاشبہ ان بلندپایہ شخصیات کی قربانیوں اور جدوجہد نے برصغیر میں اس عالمگیر قوم (انگریز) کے خلاف ۱۹۴۷ء تک نمبردآزماہونے کا عزم اور جذبہ عطا کیا تھا۔ ہندوستان کی آزادی کی تاریخ میں حیدرعلی اور ٹیپوسلطان کے نام سدا زندہ ٔ جاوید رہیں گے۔




محمد ریاض شاہد said
تحریم بہت اچھے ۔ بہت مفصل معلومات ہیں ۔ میں ذاتی طور ریاست میسور کو اس دور کی سب سے زیادہ دور اندیش اور جدید ریاست سمجھتا ہوں جس نے جدید اسلحہ سازی ، جنگی فنون، ڈپلومیسی اور ناقابل یقن حد تک جرات کے باب میں نئے رحجانات متعارف کرائے ۔ راکٹ سازی ، فرانسیسی انجنیر اور سپاہیوں کی مدد کو کام میں لانا ، فرانس اور خلافت ترکی سے سفارتی تعلقات قائم کرنا وغیرہ ان کا نمایاں کارنامہ ہیں ۔ امریکیوں نے اس دور میں اپنے ایک جہاز کا نام بھی یو ایس ایس حیدر علی رکھا تھا اور ہاں ناسا کے میوزیم میں سلطان ٹیپو کی تصویر آج بھی آویزاں ہے ۔ سلطان کی نسل سے اور ان سے شدید محبت کرنے والے ایک شیدائی میجر ریائرڈ محمد ابراہیم ہیں جنہوں نے سلطان کی نسل سے ایک شہزادی سے شادی کی اور آجکل کیولری گراونڈ لاہور میں رہائش پذیر ہیں ۔ کبھی موقع ملے تو ان سے ضرور ملاقات کیجئے گا وہ اس موضوع پر معلومات کا ایک خزانہ ہیں ۔
ارتقاءِ حيات said
جی ضرور ہمین بھی ان تاریخی شخصیات سے ملنے کا شوق رہا ہے
ایسے ملاقات تو اب ممکن نہیں سو مطالعہ کر کر یہ خواہش پوری کرتی ہوں
یقین جانیئے یہ بھی ایک نشہ ہی ہے
مجھے تو سب یہی کہتے ہیں جی
نواب حیدر علی | Tea Break said
[...] نواب حیدر علی [...]
عمیر ملک said
ایک درخواست ہے آپ سے کہ آپ اپنے بلاگ کا فونٹ نستعلیق کر دیں۔ اس فونٹ میں پڑھنے میں دشواری کے ساتھ ساتھ خوبصورتی میں بھی کمی آجاتی ہے۔ آپ معلوماتی اور طویل تحاریر لکھتی ہین، اس لئے فونٹ کا بہتر ہونا بہت ضروری ہے میرے خیال میں۔
ارتقاءِ حيات said
بھائی جتنا کوشش کر سکتی ہو اچھا کرنے کی کوشش کر رہی ہوں
ب اپنا ڈومن لوں گی کبھی تو بسب کی فرمائش ممکن ہو کہ پوری کر سکوں