قرآن کے نام اور صفات
Posted by ارتقاءِ حيات on September 2, 2011

الکتاب
الف، لام، را (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں۔
سورۃ یوسف 12 آیت 01
اس کتاب یعنی قرآن مجید کی یہ آیتیں بہت واضع ، کھلی اور خوب صاف ہیں۔ مبہم چیزوں کی حقیقت کھول دیتی ہیں۔
القرآن
بیشک یہ قرآن اس (منزل) کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے درست ہے اور ان مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری سناتا ہے کہ ان کے لئے بڑا اجر ہے۔
سورہ 17 بنی اسرائیل آیت 9
بہترین راہنما قرآن حکیم ہے ۔اللہ تبارک و تعالٰی اپنی کتاب کی تعریف میں فرماتے ہیں کہ یہ قرآن بہترین راہ کی طرف رہبری کرتا ہے ایماندار جو ایمان کے مطابق فرمان نبویﷺ پر عمل کریں انہیں یہ بشارتیں بھی سناتا ہے کہ ان کے لئے اللہ کے پاس بہت اجر ہے انہیں بے شمار ثواب ملے گا اور جو ایمان سے خالی ہیں انہیں یہ قرآن روز قیامت دردناک عذاب کی خبر دیتا ہے۔
کلام اللہ
اور اگر مشرکوں میں سے کوئی بھی آپ سے پناہ کا خواست گار ہو تو اسے پناہ دے دیں یہاں نک کہ وہ کلام اللہ سنے پھر آپ اسے اس کی جائے امن تک پہنچا دیں، یہ اس لئے کہ وہ لوگ (حق کا) علم نہیں رکھتے۔
سورت 9التوبہ آیت 6
اللہ سبحان و تعالٰی نے اپنے نبی ﷺ کو حکم فرمایا کہ جن کافروں سے آپﷺ کو جہاد کا حکم دیا گیا ہے ان میں سے اگر کوئی آپ ﷺ سے امن طلب کرے تو آپ ﷺ اس کی خواہش کو پورا کردیں اسے امن دیں یہاں تک کہ وہ قرآن سن لے۔ دین کی تعلیم معلوم کر لےتاکہ حجت ربانی پوری ہو جائے پھر اسے اپنے امن میں ہی اس کے وطن پہنچا دو تاکہ جب وہ بے خوفی کے ساتھ اپنے وطن جا پہنچے تو ممکن ہے دل سے خوب سوچ سمجھ کر حق کی دعوت کو قبول کر لے ۔ یہ سب اس لئے ہے کیونکہ یہ بے علم لوگ ہیں انہیں دینی معلومات بہم پہنچاؤ اور اللہ کی دعوت اس کے بندوں کے کانوں تک پہنچا دو
الروح
اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو اتارا ہے
سورت 42 الشوریٰ آیت
روح سے مراد قرآن ہے یعنی جس طرح آپﷺ سے پہلے اور رسولوں پر نازل ہوتی رہی ویسے ہی اللہ نے آپ ﷺ پر بھی قرآن کی وحی بھیجی ہے۔ قرآن کو وحی سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ قرآن سے دلوں کو زندگی حاصل ہوتی ہے جیسے روح میں انسانی زندگی کا راز مضمر ہے۔
التنزیل
اور بیشک یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔
سورت الشعراء آیت192
یہ مبارک کتاب قرآن مجید اللہ سبحان و تعالٰی نے جو تمام کائنات کا اور جہانوں کا رب ہے اس نے اپنے بندے اور نبی حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا ہے۔
الامر
یہ اللہ کا امر ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل فرمایا ہے۔ اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہ اُس کے چھوٹے گناہوں کو اس (کے نامۂ اعمال) سے مٹا دیتا ہے اور اَجر و ثواب کو اُس کے لئے بڑا کر دیتا ہے۔
سورت 65الطلاق آیت5
القول
اور درحقیقت ہم ان کے لئے پے در پے (قرآن کے) فرمان بھیجتے رہے تاکہ وہ نصیحت قبو ل کریں۔
سورت 28القصس آیت 51
یعنی ایک رسول کے بعد دوسرا رسول، ایک کتاب کے بعد کے بعد دوسری کتاب بھیجتے رہے اور مسلسل لگاتار ہم اپنی بات لوگوں تک پہنچاتے رہے ۔ مقصد اس سے یہ تھا کہ یہ لوگ پچھلے لوگوں کے انجام سے ڈر کر اور ہماری باتوں نصیحت حاصل کر کے ایمان لے آئیں۔
الوحی
فرما دیجئے: میں تو تمہیں صرف وحی کے ذریعہ ہی ڈراتا ہوں، اور بہرے پکار کو نہیں سنا کرتے جب بھی انہیں ڈرایا جائے
سورت 21 انبیاء آیت45
یعنی قرآن سنا کر انہیں وعظ و نصیحت کرتا ہوں یہی میری ذمہ داری اور میرا منصب ہے، لیکن جن لوگوں کے کانوں کو اللہ نےحق سننے سے بہرہ کر دیا ہواور آنکھوں پر سچائی دیکھنے کا پردہ ڈال دیا ہواور جن کے دل پر مہریں ثبت کر دی ہوںان پر قرآن کی وعظ و نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا.




افتخار اجمل بھوپال said
لگتا ہے مجھے آپ کو ٹيوشن کی درخواست بھيجنا پڑے گی
ہو سکے تو 2 ستمبر کی ای ميل پڑھ ليجئے
کچھ دن قبل فضول ای ميلوں سے جان چھڑانے کا طريقہ ميں نے لکھ بھيجھا تھا ۔ نمعلوم آپ نے اس کا استعمال شروع کيا کہ نہيں
تحریم said
ٹیوشن پڑھنے کے لئے یا مجھے پڑھا نے کے لئے چچا جان۔۔۔؟؟؟
آپ کا برقی خط مجھے موصول ہو چکا ہے اس کا جواب بھی روانہ کر دیا ہے اور امید ہے تسلی بھی ہو گئی ہو گی آُپ کو:P
قرآن کے نام اور صفات | Tea Break said
[...] قرآن کے نام اور صفات [...]
irfan said
buhat hi aalaa. ye silsila mukamal kejyee
ارتقاءِ حيات said
پسندکرنے کا شکریہ