اندر کا شور
Posted by ارتقاءِ حيات on August 29, 2011

ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ اونچی آواز میں موسیقی سننے والےدرحقیقت اپنے اندر کے شور کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں اور بالکل اسی طرح بے ہنگم ڈسکو موسیقی پر رقص کرنے والےبھی کچھ یہی عمل کرتے ہیں لیکن اندر کا شور پھر سر اٹھا لیتا ہے۔جیسے ہی باہر کا شور بند ہوتا ہے۔
اندر کا شور کیا ہے؟آئیے اس پر بات کرتے ہیں:
گناہوں کا شور
جب انسانی روح گناہوں سے آلودہ ہو جاتی ہے تو رو ح کا آلودہ پن اندر سے باہر کی جانب منتقل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے پھوڑے اور ناسور کی طرح جو انسانی جسم سے باہر کی طرف سر اٹھاتا ہے پھر انسان کا سکون اور چین برباد ہو جاتے ہیں۔ دل کا اطمنان ختم ہو جاتا ہے سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں ہوتا۔۔۔
سورت 17بنی اسرائیل ،آیت14
اور جس پر بھی تیرا بس چل سکتا ہے تو (اسے) اپنی آواز سے ڈگمگا لے اور ان پر اپنی (فوج کے) سوار اور پیادہ دستوں کو چڑھا دے اور ان کے مال و اولاد میں ان کا شریک بن جا اور ان سے (جھوٹے) وعدے کر، اور ان سے شیطان دھوکہ و فریب کے سوا (کوئی) وعدہ نہیں کرتا۔
شرک کا شور
جب انسان اپنے خالق حقیقی سے منہ موڑتا ہے تو فطرت حقیقی بے چین ہو جاتی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شرک ایک ایسا بھیانک گناہ ہے جو انسان کے اندر کو بار بار جھنجوڑتا رہتا ہے، شرک کرنے والا کبھی حقیقی خوشی اور سعادت سے ہمکنار نہیں ہو سکتا خالق اور مخلوق کا تعلق ایک حقیقی اور فطری تعلق ہے۔ جب یہ تعلق کمزور یا ٹوٹ جاتا ہے تو انسان کے فطری معاملات میں فرق آجاتا ہے۔
سورت4النساء ، آیت 48
۔ بیشک اللہ اِس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم تر (جو گناہ بھی ہو) جس کے لئے چاہتا ہے بخش دیتا ہے، اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس نے واقعۃً زبردست گناہ کا بہتان باندھا۔
ظلم اور زیادتی کا شور
یہ شور بہت خوفناک ہوتا ہےاور اکثر لوگ اسی کی وجہ سے نفسیاتی اور ذہنی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ اللہ سبحان و تعالٰی کو ظلم بالکل پسند نہیں۔ اللہ سبحان و تعالٰی انسان کو مہلت عطا کرتے ہیں کہ وہ ظلم و زیادتی سے باز آجائے، اگر انسان باز نہ آئے تو اللہ سبحان و تعالٰی کا محاسبہ بڑا سخت ہوتا ہے اور اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ انسان کی نیند حرام ہو جاتی ہے، موت کا خوف طاری ہو جاتا ہے،ہر طرف دشمن نظر آتے ہیں، پھر نیند نہیں آتی اور نیند کے لئے نیند کی گولیوں کا سہارا لیا جاتا ہےاور یہاں سے انسان کی تباہی اور بربادی کا آغاز ہو جاتا ہے۔
بے انصافی کا شور
جب انسان اپنے جیسے انسانوں سے بے انصافی اور غیر عادلانہ رویہ کرتا ہے تو اللہ کے انصاف کا کوڑا حرکت میں آجاتا ہے اللہ سبحان و تعالٰی کی ایک صفت عادل اور کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں اور جب کوئی انسان دوسروں کے ساتھ غیر عادلانہ رویہ اختیار کرتا ہے تو اللہ ایسے انسانوں پر ظالم، فاجر،فاسق لوگوں کو حکمران مسلط کر دیتے ہیں۔
خود غرضی کا شور
یہ وہ شور ہے جو ہم سب کے کانوں میں 24 گھنٹے مسلسل آتا رہتا ہے اور کوئی بھی اس شور کو روکنے یا کم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا ۔ کیا ہو گا ایسے معاشرے گا جہاں ہر کوئی ایک دوسرے کے لئے خود غرض بن جائے۔
خواہشوں کا شور
جب انسان کی مادی خواہشات کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے تو نامکمل خواہشات کا سیلاب انسان کے وجود سے باہر آنا شروع ہو جاتا ہے ۔ اس شور کو روکنے کے لئے انسان ناجائز طریقے سے اپنی خواہشات کی تکمیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ حق و ناحق ، حلال و حرام سب کو بالائے طاق رکھ کر ہر کچھ کر گزرتا ہے۔




محمد یاسر علی said
بہت اچھی تحریر ہے ہے واقعی میں جب ہمارے اندر شور پرپا ہو تو ہم کو باءر کا شور بھی اچھا لگنے لگاتا ہے
تحریم said
پسند کا شکریہ
میرا پاکستان said
بہت خوب لکھا ہے آپ نے۔
آپ کو ہماری طرف سے عید مبارک
تحریم said
پسند کا شکریہ ۔۔۔۔۔۔
تحریم said
عید کی مبارک باد دینا تو بھول ہی گئی دیر سے ہی سہی مبارک ہو عید کی بھی جناب
ویسے پاکستان میرا بھی ہے