کھجور
Posted by ارتقاءِ حيات on August 28, 2011
سورۃ رحمٰن میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’تم اﷲ تعالیٰ کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے‘۔ کھجور باری تعالیٰ کی اُن اَن گنت نعمتوں میں سے ایک ہے جن سے خداوند کریم نے انسان کا دامن ِ زندگی بھر دیا ہے اوراس سے انکار کی گنجائش نہیںہے۔ اس کو عربی میں ’تمر‘ کہتے ہیں، ، پیڑ پر پکی ہوئی کھجور کو ’رطب‘ اورپال میں پکاکر تیار کی ہوئی کھجور کو ’تمر‘ کہتے ہیں۔ رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشادات نے اس کی غذائی و دوائی اہمیت کو چودہ سو سال پہلے ارشاد فرمادیا تھا جو ہمارا ایمان ہے، لیکن ایمان و سائنس کی روشنی میں یہی واضح فرق ہے کہ ایمان کی روشنی انسان کے قلب میںپیداہوتی اور دامن زندگی پر پھیلتی ہے اور تجربات و تجزیات کے چراغوں کے جلنے سے جو روشنی دماغوں میں پیدا ہوتی ہے اس کو سائنس کہتے ہیں۔ کھجور کے بارے میں کامیاب تجربات و تجزیات کی روشنی، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی سے مستعار ہے، چنانچہ موجودہ دور کے سائنس دانوں نے ان ہی تجربات و تجزیات کی کسوٹی پر کھجور کو رکھ کر جو نتائج اخذ کیے ہیں وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشادات کے راوی اور گواہ بنے کھڑے ہیں۔
طبی سائنس دانوں کاکہناو ماننا ہے کہ کھجور میں پروٹین، Fat،کاربوہائیڈریٹ، تانبہ، سوڈیم، کیلشیم، گندھک، کلورائن اورفاسفورس پائے جاتے ہیں اورایک اور بہترین جوہر Peroxideبھی موجود ہے۔ صحت کے اس جوہری خزانے نے کھجور کی اہمیت و افادیت میں واضح ترین اضافہ کیاہے اورLow Blood Pressure، فالج، اختلاج قلب، عام جسمانی کمزوری ،چکر آنے اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا پھیل جانے میں کھجور لا جواب دوا ثابت ہوتی ہے ۔قرآن کریم میں کھجور کی تعریف فرمائی گئی ہے اور اس کے غلط استعمال ، مضر اثرات اور نتائج بھی واضح طورپر فرمادیے گئے ہیں۔ اس کو عمدہ غذا فرمایا گیا اوراس کا غلط استعمال منشیات کے ڈگمگاتے راستے پر لے جاتا ہے۔ آئیے اس جنتی پھل کے خدو خال کو دیکھئے، اس کے دل کی دھڑکنوں کی خوبیوں کو شمار کرنے اور ان کے معنی و مفہوم کو ذہن نشین کرنے اورطبی دنیا میںاس کی کارکردگی کا بھر پور جائزہ لینے کے لیے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں چلتے ہیں ۔
آپؐ نے عجوہ کھجور کو سب سے بہترین ارشاد فرمایا ہے۔ یہ کھجورمدینہ میں ہی پیدا ہوتی ہے۔ حجم میں اور کھجوروں کے مقابلہ میں چھوٹی اور اس میں بہدانہ جیسی چھوٹی سے گٹھلی ہوتی ہے۔ آپؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ عجوہ کھجور ہر بیماری سے شفا ہے، اگر اسے نہار منہ کھایاجائے تو یہ زہروں کا تریاق ہے۔ آپؐ کے ارشاد کے مطابق جس شخص نے صبح اٹھتے ہی سات دانے عجوہ کھجور کھالیے اس دن اسے جادو اور زہر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ یہی روایت حضرت عائشہ ؓ کی زبانِ مبارک سے آگے بڑھتی ہے کہ اگر سات دن عجوہ کھجور کے سات دانے معمول سے کھا لیے جائیں تو کوڑھ کے لیے نہایت مفید ہے۔ یہی و ہ کھجور ہے جس کے بارے میں آپؐ نے ثقیف کے طبیب حارثؓ بن کلدہ کو حضرت سعدؓ بن ابی وقاص کے دل کے دورہ کے بارے میں کھلانے کامشورہ دیا تھا اور یہی کھجور کا درخت ہے جس سے ٹیک لگاکر بیٹھ جانے اور درخت سے گری ہوئی پکی کھجوروں کو کھانے کا حکم باری تعالیٰ نے دردِ زہ کی شدت میں حضرت مریمؑ کو دیاتھا۔ اسی استفادی روشنی میں محمد احمد ذہبیؒ کاقول کہ حاملہ عورتوں کے کھجور کھانے سے حلیم ، خوبصورت اوربرد بار لڑکا پیداہوتاہے۔
آپؐ نے بچوں کی پیدائش کے فوراً بعد کھجور چباکر ان کے منہ میںحسب ضرورت ڈالی ہے۔ آپؐ کے اس عمل سے کھجور کی یہ افادیت واضح ہو جاتی ہے کہ یہ قبض کشا ہے اور بچوں کے لیے بہترین گھٹی کاکام کرتی ہے جب کہ کھجور کے گودے کو دیکھ کر عام خیال ہے کہ یہ قابض ہوتی ہے۔ کھجور اپنے اجزائی ترکیبی کی بنا پر بھر پور غذائیت کی امین ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے کہ رسول اﷲ ؐنے فرمایاکہ رات کاکھاناضرور کھاؤ، خواہ تمہیں ردی کھجور کی ایک مٹھی ہی میسر ہو، کیوںکہ رات کاکھانا ترک کرنے سے بڑھاپا اور کمزوری آتی ہے۔ رمضان المبارک میں تمام دن کی بھوک پیاس کے بعد کھجور سے روزہ افطار کرنے کے پیچھے یہی فلسفہ ہے، کیو ںکہ کھانا پینا موقوف ہوجانے سے انسانی جسم میں Caloriesکم ہوتے رہتے ہیں، کھجور اس کمی کو فوراً پورا کرتی اور جسم میںطاقت و توانائی لاتی ہے۔ حضرت سلمیٰؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ گھر ایسا ہے کہ جیسے اس میںکھانا نہ ہو۔ حضرت یوسفؓ بن عبداﷲ بن سلام راوی ہیں کہ میں نے حضور کو جو کی روٹی کے ٹکڑے پر کھجور یں رکھے کھاتے اوریہ فرماتے سنا کہ یہ روٹی کے ساتھ بہترین سالن ہے۔
طبیبوں نے ارشاد نبیؐ کی روشنی میںکھجور کے افادی پہلوؤں کو حسنِ نفاست وتجربات کے ساتھ اجاگر کیا ہے، ا ن کا کہنا ہے کہ کھجور جسم کے ہر اعضاء کے لیے یکساں طور پر مفید ہے، گویا یہ قوت بینائی بھی بڑھاتی ہے، قوت سماعت کو قوی کرتی ہے، قوت باہ میںغیرمعمولی اضافہ کرتی اور صفراو تیزابیت کو خارج کرتی ہے۔ اس کی گٹھلی کی دھونی بواسیر کے مسوّں کو ختم کرتی اور دانتوں کی صحت و صفائی کی ضمانت ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ کھجور رات کو بھگو دیاکرتے اورصبح اس کاپانی استعمال فرماتے۔ یہ پانی جسم کی غلیظ رطوبتوں کو خشک کرتا، منہ کے زخم بھرتا اور مسوڑھوں کی سوزش و جلن اورسوزاک میںبار بار پلانے سے نہایت مفید ثابت ہوتاہے۔
آپؐ نے نیم پختہ کھجوروں کو پرانی کھجور کے ساتھ، کھجور و انجیر کو ایک ساتھ اور دکھتی آنکھوں میں کھانے سے منع فرمایا۔ حضرت سہیلؓ نے آپ کو کھجور کے ساتھ تربوز کھاتے دیکھا ہے اور آپؐ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ کھجور کی گرمی تربوز کی ٹھنڈک سے اور تربوز کی ٹھنڈک کھجور کی گرمی سے زائل ہو جاتی ہے، گویا ان دونوں کا بہ یک وقت استعمال اسے معتدل بنا دیتاہے۔ حضرت عائشہؓ جو خود کھجور اور کھیرا ایک ساتھ کھا کھا کرنہایت توانا و موٹی اورخوبصورت ہوگئی تھیں، سے روایت ہے کہ پرانی کھجور کے ساتھ تازہ کھجور ملاکرکھاؤ، کیوںکہ جب شیطان ایسا کرنے سے لوگوں کو صحت مند اور توانا دیکھتا ہے تو افسوس کرتاہے۔ ایک روایت اس بات کی بھی گواہ ہے کہ آپؐ کو کھجور کے ساتھ مکھن ملاکر کھانابہت پسند تھا۔
اس طرح کھجور کا استعمال رسول اﷲؐ کے ارشادات اور موجودہ طبی سائنس کی روشنی میںانسانی صحت و تنو مندی کی ایک جیتی جاگتی علامت بن گئی ہے اوراﷲ کے رسولؐ کے ارشاد ات کی صداقت کی چاندنی طب نبویؐ کے آنگن میں پھیلی ہوئی ہے جہاں صحت کے اس غیر معمولی خزانے سے استفادہ کرنے کی دعوت ہے ۔
طبی سائنس دانوں کاکہناو ماننا ہے کہ کھجور میں پروٹین، Fat،کاربوہائیڈریٹ، تانبہ، سوڈیم، کیلشیم، گندھک، کلورائن اورفاسفورس پائے جاتے ہیں اورایک اور بہترین جوہر Peroxideبھی موجود ہے۔ صحت کے اس جوہری خزانے نے کھجور کی اہمیت و افادیت میں واضح ترین اضافہ کیاہے اورLow Blood Pressure، فالج، اختلاج قلب، عام جسمانی کمزوری ،چکر آنے اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا پھیل جانے میں کھجور لا جواب دوا ثابت ہوتی ہے ۔قرآن کریم میں کھجور کی تعریف فرمائی گئی ہے اور اس کے غلط استعمال ، مضر اثرات اور نتائج بھی واضح طورپر فرمادیے گئے ہیں۔ اس کو عمدہ غذا فرمایا گیا اوراس کا غلط استعمال منشیات کے ڈگمگاتے راستے پر لے جاتا ہے۔ آئیے اس جنتی پھل کے خدو خال کو دیکھئے، اس کے دل کی دھڑکنوں کی خوبیوں کو شمار کرنے اور ان کے معنی و مفہوم کو ذہن نشین کرنے اورطبی دنیا میںاس کی کارکردگی کا بھر پور جائزہ لینے کے لیے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں چلتے ہیں ۔
آپؐ نے عجوہ کھجور کو سب سے بہترین ارشاد فرمایا ہے۔ یہ کھجورمدینہ میں ہی پیدا ہوتی ہے۔ حجم میں اور کھجوروں کے مقابلہ میں چھوٹی اور اس میں بہدانہ جیسی چھوٹی سے گٹھلی ہوتی ہے۔ آپؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ عجوہ کھجور ہر بیماری سے شفا ہے، اگر اسے نہار منہ کھایاجائے تو یہ زہروں کا تریاق ہے۔ آپؐ کے ارشاد کے مطابق جس شخص نے صبح اٹھتے ہی سات دانے عجوہ کھجور کھالیے اس دن اسے جادو اور زہر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ یہی روایت حضرت عائشہ ؓ کی زبانِ مبارک سے آگے بڑھتی ہے کہ اگر سات دن عجوہ کھجور کے سات دانے معمول سے کھا لیے جائیں تو کوڑھ کے لیے نہایت مفید ہے۔ یہی و ہ کھجور ہے جس کے بارے میں آپؐ نے ثقیف کے طبیب حارثؓ بن کلدہ کو حضرت سعدؓ بن ابی وقاص کے دل کے دورہ کے بارے میں کھلانے کامشورہ دیا تھا اور یہی کھجور کا درخت ہے جس سے ٹیک لگاکر بیٹھ جانے اور درخت سے گری ہوئی پکی کھجوروں کو کھانے کا حکم باری تعالیٰ نے دردِ زہ کی شدت میں حضرت مریمؑ کو دیاتھا۔ اسی استفادی روشنی میں محمد احمد ذہبیؒ کاقول کہ حاملہ عورتوں کے کھجور کھانے سے حلیم ، خوبصورت اوربرد بار لڑکا پیداہوتاہے۔
آپؐ نے بچوں کی پیدائش کے فوراً بعد کھجور چباکر ان کے منہ میںحسب ضرورت ڈالی ہے۔ آپؐ کے اس عمل سے کھجور کی یہ افادیت واضح ہو جاتی ہے کہ یہ قبض کشا ہے اور بچوں کے لیے بہترین گھٹی کاکام کرتی ہے جب کہ کھجور کے گودے کو دیکھ کر عام خیال ہے کہ یہ قابض ہوتی ہے۔ کھجور اپنے اجزائی ترکیبی کی بنا پر بھر پور غذائیت کی امین ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے کہ رسول اﷲ ؐنے فرمایاکہ رات کاکھاناضرور کھاؤ، خواہ تمہیں ردی کھجور کی ایک مٹھی ہی میسر ہو، کیوںکہ رات کاکھانا ترک کرنے سے بڑھاپا اور کمزوری آتی ہے۔ رمضان المبارک میں تمام دن کی بھوک پیاس کے بعد کھجور سے روزہ افطار کرنے کے پیچھے یہی فلسفہ ہے، کیو ںکہ کھانا پینا موقوف ہوجانے سے انسانی جسم میں Caloriesکم ہوتے رہتے ہیں، کھجور اس کمی کو فوراً پورا کرتی اور جسم میںطاقت و توانائی لاتی ہے۔ حضرت سلمیٰؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ گھر ایسا ہے کہ جیسے اس میںکھانا نہ ہو۔ حضرت یوسفؓ بن عبداﷲ بن سلام راوی ہیں کہ میں نے حضور کو جو کی روٹی کے ٹکڑے پر کھجور یں رکھے کھاتے اوریہ فرماتے سنا کہ یہ روٹی کے ساتھ بہترین سالن ہے۔
طبیبوں نے ارشاد نبیؐ کی روشنی میںکھجور کے افادی پہلوؤں کو حسنِ نفاست وتجربات کے ساتھ اجاگر کیا ہے، ا ن کا کہنا ہے کہ کھجور جسم کے ہر اعضاء کے لیے یکساں طور پر مفید ہے، گویا یہ قوت بینائی بھی بڑھاتی ہے، قوت سماعت کو قوی کرتی ہے، قوت باہ میںغیرمعمولی اضافہ کرتی اور صفراو تیزابیت کو خارج کرتی ہے۔ اس کی گٹھلی کی دھونی بواسیر کے مسوّں کو ختم کرتی اور دانتوں کی صحت و صفائی کی ضمانت ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ کھجور رات کو بھگو دیاکرتے اورصبح اس کاپانی استعمال فرماتے۔ یہ پانی جسم کی غلیظ رطوبتوں کو خشک کرتا، منہ کے زخم بھرتا اور مسوڑھوں کی سوزش و جلن اورسوزاک میںبار بار پلانے سے نہایت مفید ثابت ہوتاہے۔
آپؐ نے نیم پختہ کھجوروں کو پرانی کھجور کے ساتھ، کھجور و انجیر کو ایک ساتھ اور دکھتی آنکھوں میں کھانے سے منع فرمایا۔ حضرت سہیلؓ نے آپ کو کھجور کے ساتھ تربوز کھاتے دیکھا ہے اور آپؐ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ کھجور کی گرمی تربوز کی ٹھنڈک سے اور تربوز کی ٹھنڈک کھجور کی گرمی سے زائل ہو جاتی ہے، گویا ان دونوں کا بہ یک وقت استعمال اسے معتدل بنا دیتاہے۔ حضرت عائشہؓ جو خود کھجور اور کھیرا ایک ساتھ کھا کھا کرنہایت توانا و موٹی اورخوبصورت ہوگئی تھیں، سے روایت ہے کہ پرانی کھجور کے ساتھ تازہ کھجور ملاکرکھاؤ، کیوںکہ جب شیطان ایسا کرنے سے لوگوں کو صحت مند اور توانا دیکھتا ہے تو افسوس کرتاہے۔ ایک روایت اس بات کی بھی گواہ ہے کہ آپؐ کو کھجور کے ساتھ مکھن ملاکر کھانابہت پسند تھا۔
اس طرح کھجور کا استعمال رسول اﷲؐ کے ارشادات اور موجودہ طبی سائنس کی روشنی میںانسانی صحت و تنو مندی کی ایک جیتی جاگتی علامت بن گئی ہے اوراﷲ کے رسولؐ کے ارشاد ات کی صداقت کی چاندنی طب نبویؐ کے آنگن میں پھیلی ہوئی ہے جہاں صحت کے اس غیر معمولی خزانے سے استفادہ کرنے کی دعوت ہے ۔




کھجور | Tea Break said
[...] کھجور [...]