اسٹین لیس اسٹیل
Posted by ارتقاءِ حيات on August 27, 2011
اسٹین لیس اسٹیل کو زنگ نہیں لگتا اور یہ برتنوں وغیرہ اور دوسری کئی اشیاءمیں استعمال ہوتا ہے، اس کی دریافت حادثاتی طور پر 1913ءمیں ہوئی۔ ہوا کچھ یوں کہ اسٹیل کے کچھ ٹکڑے تجربات کرنے کے بعد پھینک دیے گئے لیکن راہ چلتے کسی نے یہ دیکھا کہ ابھی کچھ ٹکڑے ویسے ہی چمکدار اور اجلے ہیں، ان ٹکڑوں کی جانچ کی گئی اور پھر یہ اسٹین لیس اسٹیل کے پہلے ٹکڑے تھے جو دریافت ہوئے، اس طرح لوہے میں دوسری دھاتوں کے بھرت سے اسٹین لیس اسٹیل بننے لگا۔




افتخار اجمل بھوپال said
بی بی ۔ مزيد مطالع کيجئے ۔ سٹين ليس سٹيل کی دريافت کس نے کی ؟ دنيا پر چھانے کی ہوّس رکھنے والی قوموں نے تاريخ پر مٹی دال دی ۔ پھر انہی قوموں ميں جب سائنسی مطالعہ کا شوق بڑھا تو 1820 يا 1821 ميں برطانيہ ميں اس پر کام شروع ہوا ۔ اس کے بعد 1872ء ميں برطانيہ ہی ميں اسے پيٹنٹ کروانے کيلئے درخواست دی گئی ۔ 1875ء ميں فرانس کے سائنسدان نے مزيد اس پر کام کر کے دريافت کيا کہ اچھے سٹين ليس سٹيل کيلئے اس ميں کاربن پرسينٹيج کم ہونا چاہيئے ۔ جہاں تک ميرا خيال ہے سٹین ليس سٹيل پندرہويں صدی يا اس سے بھی قبل دريافت ہوئی تھی
تحریم said
چچا جان کوشش جاری ہے مطالعہ کی
اتنی کتابیں میسر ہیں ان پر ہی کچھ لکھ لیتی ہوں اب بس کچھ اور ہی سوچ رہی ہوں اس معاملہ میں
شائد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا چھوڑیئے جانے دیں
khalidhameed said
ہم نے سنا تھا کہ یہ لوہے اور المونیم کے ملاپ سے بنتا ہے
تحریم said
آپ نے جو سنا اس کی بھی تحقیق کر لیجئے کیونکہ میں نے جو پڑھا وہ بھی غلط ہی نکل رہا ہے
آمد کا شکریہ
ایم اے راجپوت said
السلام علیکم ورحمتہ اللہ
مفید معلومات شئیر کرنے کے لئے آپ کا بہت شکریہ
تحریم said
بھائی معلومات مفید بھی ہیں یا جھوٹ پر مبنی اس کی تحقیق کر لجئے گا
مجھے کم علم کو جو میسر آیا وہ تو یہی تھا
پھر بھی تشریف آوری کا شکریہ
اسٹین لیس اسٹیل | Tea Break said
[...] اسٹین لیس اسٹیل [...]
Zero G said
آپ تو ناراض ہی ہو گئیں
تحریم said
جن باتوں پر ناراض ہونا چاہیئے اس پر ناراض ہی ہوں گے