کونین
Posted by ارتقاءِ حيات on August 26, 2011
کونین سولہویں صدی میں یورپی باشندوں نے استعمال کی۔ اس زمانے میں ملیریا نہایت موذی مرض تھا جس کا کوئی علاج نہیں تھا، لیکن قدرت کی طرف سے اس کے علاج کا بندوبست ہوگیا اور کونین دریافت ہوئی، ہوا یوں کہ ایک شخص جو ملیریا کا شکار ہوچکا تھا، جنوبی امریکا کے جنگوں میں ایک جوہڑ کا پانی پیا جس میں کونین کے درخت گرے ہوئے تھے۔ اس کا ملیریا کا بخار اتر گیا اور پھر یہی پتے کونین کہلائے جو آج تک ملیریا کے علاج میں استعمال ہوتے ہیں۔




مطلوب said
السلام اعلیکم
بڑی دلچسپ انداز میں دریافت ہوئی
اگر پاکستان میں یہ دریافت ہوتی تو کوئی نہ کوئی مزار اس مقام پر بن چکا ہوتا۔ اور لوگ جوق درجوق نہا رہے ہوتے۔
تحریم said
درست فرمایا بھائی مطلوب
Wafa Anjum said
achi post……..
تحریم said
وفا جی پسند کرنے کاشکریہ
کونین | Tea Break said
[...] کونین [...]