ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

انوار قطبی یا (Aurora)

Posted by ارتقاءِ حيات on August 24, 2011

انوار قطبی آسمان پر روشنی کی قدرتی نمو کو کہتے ہیں۔قطب شمالی کے قریبی علاقوں میں رات کے وقت آسمان چمکدار  سبز، سرخ ، نیلی اور زرد رنگ کی روشنی سے دمک اٹھتا ہے۔یہی روشنیاں دراصل انوارقطبی کہلاتی ہیں۔ انوار عموماً 80 تا 160 کلو میٹر کی بلندیوں پر شمالی یا جنوبی قطبین کے قریب واقع ہوتے ہیں بعض اوقات ان کی بلندی 1000 کلو میٹر سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ انوار قطبی سورج کے چارج شدہ ذرات سے بالائی لطیف اور ٹھنڈی فضا میں ہوا کے مالیکیولوں سے ٹکرانے پر وجود میں آتی ہیں.

6 Responses to “انوار قطبی یا (Aurora)”

  1. urdudaan said

    اس معلوماتی مکالے کے لیے شکریہ
    نجانے کیوں قبطی کے بجاۓ لفظ قطبی کی طرف توجہ جاتی ہے، جس کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے، بس یہی کہ قطبین پر یہ نمودار ہوتے ہیں.

    یہاں یاد آیا کہ
    molecule=saalmah کو اردو میں سالمہ کہتے ہیں
    atom=johar کو جوہر اور

  2. مطلوب said

    السلام اعلیکم
    آپ نے عجیب بات بتائی
    اور عجیب ہی منظر ہوتا ہوگا

  3. ایک چھوٹی سی تصیح۔ ان روشنیوں‌ ‘ارورا بوریالس’ کو الشفق القطبی یا انوار قطبی کہا جاتا، قبطی نہیں۔ قبطی ‘کاپٹک’ یا افریقی النسل مصری افراد کے لئے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے مثلا کاپٹک کرسچن۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers