تلافی
Posted by ارتقاءِ حيات on August 23, 2011
سڑک کے موڑ پر جہاں دیگنیں، بسیں پل دو پل کے لئے ٹہر کر مسافر اٹھاتیں، اتارتیں ۔ پھل فروشوں کی چند ریڑھیاں آڑھی ترچھی کھڑی تھیں ایک مخنی سا پھل فروش ریڑھی پر خربوزوں ڈھیر لگائے گلے کا سارا زور صرف کر کے صدا لگا رہا تھا
مٹّھے کھربجے۔۔۔ 20 رپے کلّو۔۔۔20 رپے کلّو۔۔۔۔
گشت پر مامور پولیس کا ایک تندول حوالدار مونچھیں مڑوڑتا کہیں سے نمودار ہوا ۔ چمکیلے اسٹیکروں سے مزین بڑے بڑے پیلے خربوزے دیکھ کر اس کی رال ٹپکنے لگی یکے بعد دیگرے 4 بڑے خربوزے اٹھا کر اپنے چوڑے نتھنوں سے لگائے اور تحکم آمیز لہجے میں کہنے بولا:
انہیں شاپر میں ڈال دو ۔۔۔ شاباش۔۔۔
پھل فروش حکم عدولی کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا شاپر نیم دلی سے نکال کر 2 دانے ڈال کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا:
سنتری جی 2 پر گجارا کر لیں ۔۔ ایمان سے آج تو منے بوہنی بھی نہیں کری۔۔۔
نہیں چاروں ڈالو۔۔۔ سپاہی اپنی بات پر اڑ گیا ۔
گلو خلاصی کی کوئی صورت دکھائی نہ دی تو اس نے حکم کی تعمیل کی۔ دھونس کا مال سمیٹ کر سنتری آگے بڑھ گیا پھل فروش نے غصے سے دانت کچکچائے۔ دبی آواز میں اسے 2 سے 3 ننگی ننگی گالیوں سے نواز کر منہ پھیرا اور پھر سے صدا لگانے لگا:
مٹّھے کھربجے۔۔۔ 25 رپے کلّو۔۔۔25 رپے کلّو۔۔۔۔




تلافی | Tea Break said
[...] تلافی [...]
عدنان مسعود said
پھل فروش حکم عدولی کا کیوں نہیں سوچ سکتا تھا؟
نئی باتیں / نئی سوچ said
اس میں دونوں کا نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہوا ـ کیونکہ اگر پولیس والا پانچ “کھربجے” اٹھا لیجاتا تو ریڑھی والا تیس روپئے کلو کی صدا لگاتا ـ