پانچ گروہوں کا حضرت محمدﷺسے مذاکرہ (1)
Posted by ارتقاءِ حيات on August 21, 2011
پانچ گروہوں کا حضرت محمدﷺسے مذاکرہ
یہ واقعہ حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ تعالٰی سے نقل ہوا لیکن اس کے اصلی راوی حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں، اور یہ واقعہ کتاب ”احتجاج طبرسی“، جلد اول صفحہ ۱۶ تا ۲۴ سے نقل ہوا ہے
۲۵افراد پر مشتمل اسلام مخالفوں کے پانچ گروہ نے آپس میں یہ طے کیا کہ پیغمبر کے پاس جاکر مذاکرہ کریں۔
ان گروہوں کے نام اس طرح تھے: یہودی، عیسائی، مادّی، مانُوی اور بت پرست۔
یہ لوگ مدینہ میں حضرت محمدﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آکر آنحضرت ﷺکے چاروں طرف بیٹھ گئے، حضرت محمدﷺنے بہت ہی کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو بحث کا آغاز کرنے کی اجازت دی۔
یہودی گروہ نے کہا:
”ہم اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ”عزیر“نبی خدا کے بیٹے ہیں، ہم آپ سے بحث و گفتگو کرنا چاہتے ہیںاور اگر اس مذاکرہ میں ہم حق پر ہوں تو آپ بھی ہمارے ہم عقیدہ ہوجائیں کیونکہ ہم آپ سے مقدم ہیں، اور اگر آپ نے ہماری موافقت نہ کی تو پھر ہم آپ کی مخالفت کرنے پر مجبور ہوجائیں گے“۔
۲۵افراد پر مشتمل اسلام مخالفوں کے پانچ گروہ نے آپس میں یہ طے کیا کہ پیغمبر کے پاس جاکر مذاکرہ کریں۔
ان گروہوں کے نام اس طرح تھے: یہودی، عیسائی، مادّی، مانُوی اور بت پرست۔
یہ لوگ مدینہ میں حضرت محمدﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آکر آنحضرت ﷺکے چاروں طرف بیٹھ گئے، حضرت محمدﷺنے بہت ہی کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو بحث کا آغاز کرنے کی اجازت دی۔
یہودی گروہ نے کہا:
”ہم اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ”عزیر“نبی خدا کے بیٹے ہیں، ہم آپ سے بحث و گفتگو کرنا چاہتے ہیںاور اگر اس مذاکرہ میں ہم حق پر ہوں تو آپ بھی ہمارے ہم عقیدہ ہوجائیں کیونکہ ہم آپ سے مقدم ہیں، اور اگر آپ نے ہماری موافقت نہ کی تو پھر ہم آپ کی مخالفت کرنے پر مجبور ہوجائیں گے“۔
[جناب عزیر علیہ السلام، جناب موسیٰ علیہ السلام کے بعد انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے ، جو بیت المقدس پر بخت النصر نامی حملہ میں اسیر کر لئے گئے اور شہر بابل (بغداد کے حدود میں) بھیج دئے گئے، جناب عزیر علیہ السلام تقریباًسو سال ”ہخامنشی بادشاہوں“ کے زمانہ میں بابل میں بنی اسرائیل کے لئے تبلیغ دین میں مشغول رہے ۔
یہاں تک کہ ۴۵۸ سال قبل از میلاد (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک گروہ کے ساتھ یروشلم میں گئے جہاں پر بنی اسرائیلیوں میں توریت اور اس کے احکام کو بالکل بھلادیا تھا لیکن جناب عزیر علیہ السلام نے ان کو دوبارہ زندہ کیا اور ان کی اصلاح کی، سر انجام ۴۳۰ سال قبل از میلاد میں ان کا انتقال ہوا، ان کے انتقال کے بعد بنی اسرائیل نے نہ جانے کیا کیا کہا یہاں تک کہ انھیں ”خدا کا بیٹا“ بھی کہہ ڈالا!!۔ لیکن آج یہ عقیدہ بالکل ختم ہوگیا ہے اور اس کا ماننے والا کوئی نہیں ہے۔ ]
عیسائی گروہ نے کہا:
”ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں، اور خدا ان کے ساتھ متحد ہوگیا ہے، ہم آپ کے پاس بحث و گفتگو کرنے کے لئے آئے ہیں، اگر آپ ہماری پیروی کریں اور ہمارے ہم عقیدہ ہوجائیں (تو بہتر ہے) کیونکہ ہم اس عقیدہ میں آپ سے مقدم ہیں، اور اگر آپ نے ہمارے اس عقیدہ میں مخالفت کی تو ہم (بھی) آپ کی مخالفت کریں گے“۔
مادّہ پرست (منکر خدا) گروہ نے کہا:
”ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ ”موجوات عالَم“ کا کوئی آغاز اور انجام نہیں ہے، اور یہ ”عالَم“ قدیم اور ہمیشہ سے ہے، ہم یہاں آپ سے بحث و گفتگو کے لئے آئے ہیں، اگر آپ ہماری موافقت کریں گے تو واضح ہے کہ برتری ہماری ہوگی، ورنہ ہم آپ کی مخالفت کریں گے“۔
دو گانہ پرست آگے بڑھے اور کہا:
ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس دنیا کے دو مربی، دو تدبیر کرنے والے اور دو مبداٴ ہیں، جن میں سے ایک نور اور روشنی کا خلق کرنے والا ہے اور دوسرا ظلمت اور تاریکی کا خالق ہے، ہم یہاں پر آپ سے مذاکرہ کرنے کے لئے آئے ہیں، اگر آپ اس بحث میں ہمارے ہم عقیدہ ہوگئے تو بہتر ہے اور اس میں ہماری سبقت اور برتری ہے، اور اگر آپ نے ہماری مخالفت کی تو ہم بھی آپ کی مخالفت کریں گے“۔
بت پرستوں نے کہا:
ہم اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ ہمارے بت ہمارے خدا ہیں، ہم آپ سے اس سلسلہ میں بحث و گفتگو کرنے آئے ہیں، اگر آپ اس عقیدہ میں ہمارے موافق ہوگئے تو معلوم ہے کہ سبقت اور تقدم ہمارا ہے، ورنہ تو ہم آپ سے دشمنی کریں گے“۔
حضرت محمدﷺنے جواب میں ارشاد فرمایا:
حضرت محمدﷺنے پہلے کلی طور پر جواب میں بیان فرمایا:
(تم نے اپنا عقیدہ بیان کردیا، اب میری باری ہے کہ میں اپنا عقیدہ بیان کروں) ”میرا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالٰی وحدہ لاشریک ہے، میں اس کے علاوہ ہر دوسرے معبود کا منکر ہوں، اور میں ایسا پیغمبر ہوں جس کو اللہ تعالٰی نے تمام دنیا کے لئے مبعوث کیا ہے، میں اللہ تعالٰی کی رحمت کی بشارت اور اس کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں، نیز میں دنیا بھر کے تمام لوگوں پر حجت ہوں، اور اللہ تعالٰی مجھے دشمنوں اور مخالفوں کے خطرہ سے محفوظ رکھے گا“۔
اس کے بعد حضرت محمدﷺنے ان گروہوں کو باری باری مخاطب کیا تاکہ ہر ایک سے الگ الگ مذاکرہ کریں
یہاں تک کہ ۴۵۸ سال قبل از میلاد (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک گروہ کے ساتھ یروشلم میں گئے جہاں پر بنی اسرائیلیوں میں توریت اور اس کے احکام کو بالکل بھلادیا تھا لیکن جناب عزیر علیہ السلام نے ان کو دوبارہ زندہ کیا اور ان کی اصلاح کی، سر انجام ۴۳۰ سال قبل از میلاد میں ان کا انتقال ہوا، ان کے انتقال کے بعد بنی اسرائیل نے نہ جانے کیا کیا کہا یہاں تک کہ انھیں ”خدا کا بیٹا“ بھی کہہ ڈالا!!۔ لیکن آج یہ عقیدہ بالکل ختم ہوگیا ہے اور اس کا ماننے والا کوئی نہیں ہے۔ ]
عیسائی گروہ نے کہا:
”ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں، اور خدا ان کے ساتھ متحد ہوگیا ہے، ہم آپ کے پاس بحث و گفتگو کرنے کے لئے آئے ہیں، اگر آپ ہماری پیروی کریں اور ہمارے ہم عقیدہ ہوجائیں (تو بہتر ہے) کیونکہ ہم اس عقیدہ میں آپ سے مقدم ہیں، اور اگر آپ نے ہمارے اس عقیدہ میں مخالفت کی تو ہم (بھی) آپ کی مخالفت کریں گے“۔
مادّہ پرست (منکر خدا) گروہ نے کہا:
”ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ ”موجوات عالَم“ کا کوئی آغاز اور انجام نہیں ہے، اور یہ ”عالَم“ قدیم اور ہمیشہ سے ہے، ہم یہاں آپ سے بحث و گفتگو کے لئے آئے ہیں، اگر آپ ہماری موافقت کریں گے تو واضح ہے کہ برتری ہماری ہوگی، ورنہ ہم آپ کی مخالفت کریں گے“۔
دو گانہ پرست آگے بڑھے اور کہا:
ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس دنیا کے دو مربی، دو تدبیر کرنے والے اور دو مبداٴ ہیں، جن میں سے ایک نور اور روشنی کا خلق کرنے والا ہے اور دوسرا ظلمت اور تاریکی کا خالق ہے، ہم یہاں پر آپ سے مذاکرہ کرنے کے لئے آئے ہیں، اگر آپ اس بحث میں ہمارے ہم عقیدہ ہوگئے تو بہتر ہے اور اس میں ہماری سبقت اور برتری ہے، اور اگر آپ نے ہماری مخالفت کی تو ہم بھی آپ کی مخالفت کریں گے“۔
بت پرستوں نے کہا:
ہم اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ ہمارے بت ہمارے خدا ہیں، ہم آپ سے اس سلسلہ میں بحث و گفتگو کرنے آئے ہیں، اگر آپ اس عقیدہ میں ہمارے موافق ہوگئے تو معلوم ہے کہ سبقت اور تقدم ہمارا ہے، ورنہ تو ہم آپ سے دشمنی کریں گے“۔
حضرت محمدﷺنے جواب میں ارشاد فرمایا:
حضرت محمدﷺنے پہلے کلی طور پر جواب میں بیان فرمایا:
(تم نے اپنا عقیدہ بیان کردیا، اب میری باری ہے کہ میں اپنا عقیدہ بیان کروں) ”میرا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالٰی وحدہ لاشریک ہے، میں اس کے علاوہ ہر دوسرے معبود کا منکر ہوں، اور میں ایسا پیغمبر ہوں جس کو اللہ تعالٰی نے تمام دنیا کے لئے مبعوث کیا ہے، میں اللہ تعالٰی کی رحمت کی بشارت اور اس کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں، نیز میں دنیا بھر کے تمام لوگوں پر حجت ہوں، اور اللہ تعالٰی مجھے دشمنوں اور مخالفوں کے خطرہ سے محفوظ رکھے گا“۔
اس کے بعد حضرت محمدﷺنے ان گروہوں کو باری باری مخاطب کیا تاکہ ہر ایک سے الگ الگ مذاکرہ کریں
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




پانچ گروہوں کا حضرت محمدﷺسے مذاکرہ (1) | Tea Break said
[...] پانچ گروہوں کا حضرت محمدﷺسے مذاکرہ (1) [...]
یاسر خوامخواہ جاپانی said
برائے مہربانی تحریر آسانی سے پڑھنے کیلئے تیار کردیں۔
چند سطریں پڑھنے کے بعد الجھن ہوتی ہے۔
تحریم said
امید ہے اب ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہو گا