رمضان المبارک یوم وفات ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا 17
Posted by ارتقاءِ حيات on August 20, 2011
ولادت :
حضرت ام رومان کا پہلا نکاح عبداللہ ازدی سے ہوا تھا۔ عبداللہ کے انتقال کے بعد وہ ابوبکر کے عقد میں آئیں ۔ حضرت ابوبکر کے دو بچے تھے ۔ عبدالرحمن اور عائشہ ۔حضرت عائشہ کی تاریخ ولادت سے تاریخ وسیر کی تمام کتابیں خاموش ہیں ۔ ان کی ولادت کی صحیح تاریخ نبوت کے پانچویں سال کا آخری حصہ ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہمدم سید المرسلین محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ، جگر گوشہ خلیفة المسلمین، شمع کاشانہء نبوت، آفتاب رسالت کی کرن، گلستان نبوت کی مہک، مہر ووفا اور صدق وصفا کی دلکش تصویر، خزینہ ئِ رسالت کا انمول ہیرا، جس کی شان میں قرآنی آیات نازل ہوئیں ۔ جس کو تعلیمات نبوی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم پر عبور حاصل تھا ۔ جسے اپنی زندگی میں لسان رسالت سے جنت کی بشارت ملی۔ جسے ازواج مطہرات میں ایک بلند اور قابل رشک مقام حاصل تھا۔ جو فقاہت، ثقاہت ، امانت ودیانت کے اعلیٰ معیار پر فائز تھیں۔نام :
نام عائشہ تھا ۔ ان کا لقب صدیقہ تھا ۔ ام المومنین ان کا خطاب تھا ۔ نبی مکرم محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے بنت الصدیق سے بھی خطاب فرمایا ہے ۔اور کبھی کبھار حمیرا سے بھی پکارتے تھے۔
کنیت :
عرب میں کنیت شرافت کا نشان ہے ۔ چونکہ حضرت عائشہ کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ اس لیے کوئی کنیت بھی نہ تھی۔ ایک دفعہ آنحضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے حسرت کے ساتھ عرض کیا کہ اور عورتوں نے تو اپنی سابق اولادوں کے نام پر کنیت رکھ لی ہے ، میں اپنی کنیت کس کے نام پر رکھوں؟ فرمایا : اپنے بھانجے عبداللہ کے نام پر رکھ لو”۔
چنانچہ اسی دن سے ام عبداللہ کنیت قرار پائی۔
نکاح:
ہجرت سے ٣ برس پہلے سید المرسلین سے شادی ہوئی۔ ٩ برس کی عمر میں رخصتی ہوئی ۔ سیدہ عائشہ کے علاوہ کسی کنواری خاتون سے نبی کریم محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے شادی نہیں کی ۔ ابھی ان کا بچپن ہی تھا کہ جبریل علیہ السلام نے ریشم کے کپڑے میں لپیٹ کر ان کی تصویر رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو دکھلائی اور بتایا کہ یہ آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی دنیا وآخرت میں رفیقہ ئِ حیات ہے۔ سیدہ عائشہ کا مہر بہت زیادہ نہ تھا صرف 500 درہم تھا ۔
فضائل وکمالات:
حضرت عمرو بن عاص نے ایک دفعہ رسول اقدس محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ کو دنیا میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا : ”عائشہ” عرض کی مردوں میں کون ہے؟ فرمایا : اس کا باپ ۔ ایک دفعہ حضرت عمر نے اپنی بیٹی حضرت حفصہ ام المومنین کو سمجھاتے ہوئے کہا :بیٹی عائشہ کی ریس نہ کیا کرو ، رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے دل میں اس کی قدر ومنزلت بہت زیادہ ہے ۔
رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :
”مردوں میں بہت کامل گزرے لیکن عورتوں میں سے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون کے سوا کوئی کامل نہ ہوئی اور عائشہ کو عورتوں پر اسی طرح فضیلت ہے جس طرح ثرید کو تمام کھانوں پر”۔
امام ذہبی لکھتے ہیں کہ سیدہ عائشہ پوری امت کی عورتوں سے زیادہ عالمہ ، فاضلہ ، فقیہہ تھیں ۔
عروہ بن زبیر کا قول ہے : میں نے حرام وحلال ، علم وشاعری اور طب میں ام المومنین عائشہ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں فخر نہیں کرتی بلکہ بطور واقعہ کے کہتی ہوں کہ اللہ نے دنیا میں ٩ باتیں ایسی صرف مجھ کو عطا کی ہیں جو میرے سوا کسی کو نہیں ملیں ۔2۔ جب میں سات برس کی تھی تو آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا ۔ 3۔ جب میرا سن ٩ برس کا ہوا تو رخصتی ہوئی ۔ 4۔ میرے سوا کوئی کنواری بیوی آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں نہ تھی ۔ 5۔ آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم جب میرے بستر پر ہوتے تب بھی وحی آتی تھی ۔ 6۔ میں آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبوب ترین بیوی تھی ۔ 7۔ میری شان میں قرآن کی آیتیں اتریں ۔ 8۔ میں نے جبریل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ 9۔ آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے میری گود میں سر رکھے ہوئے وفات پائی۔ 1۔ خواب میں فرشتے نے آنحضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے میری صورت پیش کی۔
حضرت عائشہ اور احادیث نبوی :
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کو علمی صداقت اور احادیث روایت کرنے کے حوالے سے دیانت وامانت میں امتیاز حاصل تھا ۔سیدہ عائشہ کا حافظہ بہت قوی تھا ۔ جس کی وجہ سے وہ حدیث نبوی کے حوالے سے صحابہ کرام کے لیے بڑا اہم مرجع بن چکی تھیں ۔ حضرت عائشہ حدیث حفظ کرنے اور فتویٰ دینے کے اعتبار سے صحابہ کرام سے بڑھ کر تھیں۔سیدہ عائشہ نے دو ہزار دو سو دس (2210) احادیث روایت کرنے کی سعادت حاصل کی ۔
دور نبوی کی کوئی خاتون ایسی نہیں جس نے سیدہ عائشہ سے زیادہ رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے احادیث روایت کرنے کی سعادت حاصل کی ہو ۔
صدیقہ کائنات سے ایک سو چوہتر (174) احادیث ایسی مروی ہیں جو بخاری ومسلم میں ہیں ۔وفات :
سن ٥٨ ہجری کے ماہ رمضان میں حضرت عائشہ بیمار ہوئیں اور انہوں نے وصیت کی کہ انہیں امہات المومنین اور رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے اہل بیت کے پہلو میں جنت البقیع میں دفن کیا جائے ۔ماہ رمضان کی 17تاریخ منگل کی رات ام المومنین عائشہ نے وفات پائی ۔ وفات کے وقت ان کی عمر 66 برس تھی۔ 18سال کی عمر میں بیوہ ہوئی تھیں ۔ حضرت ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو تمہت لگائےجانے کے بعد جب آیت برات نازل ہو گئی جس واقعہ سے رسول اللہ اور حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے تمام اہل خانہ کو شدید صدمہ پہنچا تھا ، اس وقت جب سارے لوگ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نزول برات کی بشارت دی تو حضرت عائشہ کے والدین نے ان سے فرمایا بیٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم کو بوسہ دو اور آپ کا شکریہ ادا کرو، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا میں صرف اپنے رب کی شکرگزاربنوں گی جس نے میری برات نازل فرمائی ، اس کے علاوہ کسی کی شکرگزاری نہیں بنوں گی ، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” عرفت الحق لاهلة ” انھوں نے حق کو صاحب حق کے لئے پہچان لیا ، اس ربانی خاتوں کے پاس کونسا علم تھا ؟ اور اس خاتون سے زیادہ کس کا علم و فضل گہرا ہو سکتا تھا کہ جس کی برات آُسان سے نازل ہو رہی ہے اور اسے اس کی بشارت دی جارہی ہے ، خوش خبری سنانا امر حسن ہے ، اور ان سے کہا جا رہا ہے کہ اس کے قدم چومے اور اسکی ممنون ہو جس نے خوش خبری سنائی ہے تو وہ سمجھتی ہیں اس میں سارا فضل و احسان صرا اللہ تعالیٰ کا ہے اورکوئی دوسرا اس میں شریک نہیں ، اور وہ کہتی ہیں ”میں صرف اللہ کی شکرگزاری بنوں گی ” اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں ان کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں ” عرفت الحق لاهلة ” انہوں نے حق صاحب ھق کے لئے پہچان لیا ـ اور اسی کو علم حقیقی کہتے ہیں ، نہ کہ آج کل کا س سطحی علم جو ڈگریوں اور ملازمتوں کے لئے حاصل کیے جاتے ہیں تاکہ ان خواتین کو پاکیزہ پر برتری کا اظہار کیا جائے جو خانہ نشین ہیں ـ
زُہد عائشہؓ صدیقہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی وفات کے بعد ایک دن حضرت عائشہؓ کی خدمت میں ان کے بھانجے عبداللہ بن زبیرؓ نے ایک لاکھ اسی ہزار درہم بطور ہدیہ بھیجے ، وہ اس دن روزے سے تھیں چنانچہ انہوں نے اسے لوگوں میں تقسیم کرنا شروع کردیا ، شام ہونے تک ایک درہم بھی باقی نہیں رہ گیا تھا ، افطار کے وقت باندی سے فرمایا: میرے افطار کا انتظام کرو، چنانچہ ایک روٹی اور تھوڑا تیل لے کر حاضرہوئی اور کہنے لگی آپ نے آج جو کچھ تقسیم کیا ہے اس میں سے ایک درہم کا گوشت خرید لیتیں تو اس سے افطار کر لیتیں ، عائشہؓ نے فرمایا ناراض نہ ہو ، اگرتو مجھے یاد دلاتی تو شاید میں ایسا کر لیتی ـ
کرم عائشہؓ صدیقہ
حضرت عروہ بن زبیرؓ جو عائشہؓ کے بھانجے ہیں ، فرماتے ہیں ، میں نے عائشہؓ کو سترہزاردرہم تقسیم کرتے دیکھا ہے جو کہ وہ خود پیوند لگا کپڑا استعال کرتی تھیں اور نیا نہیں پہنتی تھیں ـ
خشیت عائشہؓ صدیقہ
اسی طرح قاسم بن محمد حضرت عائشہؓ کے بھتیجے ہیں ، فرماتے ہیں “کہ میں روزانہ عائشہؓ کی خدمت میں سلام کرنے جاتا تھا ، ایک دن جب پہنچا تو دیکھا کہ وہ نماز میں اس آیت کو باربار پڑھ کر رو رہی ہیں
فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ ”(سورة الطور: 27) ـ
” سو اللہ نے ہم پر بڑا حسان کیا اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچالیا ” ،
چنانچہ میں وہاں کھڑے کھڑے تھک گیا اور اپنے کام سے بازار چلا گیا جب دوبارہ واپس آیا تو دیکھا کہ اسی طرح نماز پڑھ رہی ہیں اور اس میں زار و قطار رو رہی ہیں ـ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا خاتون اسلام کا یہ علم اور زہد اور خوف و خشیت اور جودوکرم کے اعلیٰ نمونے ہیں ، تو ائے مسلمان بہن !
آپ کیوں نہیں اپنی ماں کی اس میں نقل و تقلید کرتیں ؟

حضرت ميمونه كے بهانجے حضرت يزيد بن اصم فرماتے ہیں.حضرت عائشة مكه سے واپس آرهى تهيں راستے ميں ميں اور ان كا بهانجا جو طلحة بن عبيد الله كا بيٹا تها حضرت عائشة كو ملے۔
انهيں اطلاع ملى تهى كه هم دونوں نے مدينه كے ايك باغ سے كچھ کھایا ہے۔
انہوں نے اپنے بهانجے كو خوب ڈانٹا.
پهر ميرى طرف متوجه ہوئیں،مجهے نصيحت كى:”كيا تمهيں نهيں معلوم كہ الله تعالى نے تمهيں اپنے نبي كے خاندان ميں شامل فرمايا هے؟الله كى قسم ميمونه كى وفات كے بعد تمهارا كوئى پرسان حال نهيں رها.وه هم ميں سب سے زیادہ متقى اور صله رحمى كرنے والى تهيں.”
اس ايك واقعے ميں ان كے كردار كى كتنى هى خوبياں چھپی ہیں؟ مگر دیکھیئے آج کتنی مسلمان خواتین اس کردار کی حامل ہیں؟

اس کی مزید تفصیل علامہ قاضی عیاض کی کتاب ‘‘ الشفا ’’ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی کتاب ‘‘ الصارم المسلول ‘‘ اور اردو میں غیر مطبوع کتاب ‘‘ المہند البتار بر گردنِشاتم سید الأبرار ’’از خاکسار شفیق الرحمن شاہ دراوی میںملاحظہ فرمائیں۔


امام دارمی فرماتے ہیں:
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوْزَاءِ أَوْسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُحِطَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ قَحْطًا شَدِيدًا، فَشَكَوْا إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ: ” انْظُرُوا قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْعَلُوا مِنْهُ كِوًى إِلَى السَّمَاءِ حَتَّى لَا يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ سَقْفٌ. قَالَ: فَفَعَلُوا، فَمُطِرْنَا مَطَرًا حَتَّى نَبَتَ الْعُشْبُ، وَسَمِنَتِ الْإِبِلُ حَتَّى تَفَتَّقَتْ مِنَ الشَّحْمِ، فَسُمِّيَ عَامَ الْفَتْقِاس روایت کو امام دارمی نے اپنی سنن [سنن الدارمي 1/ 227 رقم 93]میں اورابواسحاق الحربی نے غریب الحدیث [غريب الحديث:3/ 946]میں روایت کیا ہے۔یہ روایت موضوع و من گھڑت ہے جس کی تفصیل یہ ہے :
اولا:
اس کی سند میں ’’ابویحیی عمر بن مالک النکری‘‘ ہیں اور یہ ضعیف ہیں:
امام احمد رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے:
ان کے بیٹے فرماتے ہیں:
سَمِعت أبي يَقُول لم تثبت عِنْدِي صَلَاة التَّسْبِيح وَقد اخْتلفُوا فِي إِسْنَاده لم يثبت عِنْدِي وَكَأَنَّهُ ضعف عَمْرو بن مَالك النکری[مسائل الإمام أحمد رواية ابنه عبد الله ص: 89]
امام بخاری فرماتے ہیں:
قال لنا مسدد عن جعفر بن سليمان عن عمرو بن مالك النكري عن أبي الجوزاء قال أقمت مع بن عباس وعائشة اثنتي عشرة سنة ليس من القرآن آية إلا سألتهم عنها قال محمد في إسناده نظر[التاريخ الكبير 2/ 16]۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وقول البخاري في إسناده نظر ويختلفون فيه إنما قاله عقب حديث رواه له في التاريخ من رواية عمرو بن مالك البكري, والبكري “ضعيف عنده“[تهذيب التهذيب 3/ 377]۔
امام ابن الجوزی فرماتے ہیں:
وَقَدْ رويناها من حَدِيث يَحْيَى بْن عَمْرو بْن مَالِك عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْحَوْرَاء عَنِ ابْن عَبَّاسٍ مَوْقُوفَة أَيْضا.وَكَانَ حَمَّاد بْن زَيْد يَرْمِي يَحْيَى بِالْكَذِبِ، وَضَعفه ابْن معِين وَأَبُو زُرْعَةَ وَالنَّسَائِيّ وضعفوا أَبَاه عمرا[الموضوعات لابن الجوزي 2/ 145]
امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ورواه عمرو بن مالك عن أبي الجوزاء عن ابن عباس من قوله وعمرو لين[تلخيص كتاب الموضوعات للذهبي ص: 191]
امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اوس بن عبد الله أبو الجوزاء هذا يحدث عن عمرو بن مالك النكري يحدث عن أبي الجوزاء هذا أيضا عن بن عباس قدر عشرة أحاديث غير محفوظة[الكامل في الضعفاء 1/ 411]۔
امام ابن حبان فرماتے ہیں:
عمرو بن مالك النكري كنيته أبو مالك من أهل البصرة يروى عن أبى الجوزاء روى عنه حماد بن زيد وجعفر بن سليمان وابنه يحيى بن عمرو ويعتبر حديثه من غير رواية ابنه عنه مات سنة تسع وعشرين ومائة [الثقات لابن حبان 7/ 228]۔
ثقات میں اسے نقل کرنے کے یہ جرح کرکے امام ابن حبان نے اشارہ دے دیا کہ ثقات میں اس کے تذکرہ سے مقصود اسے سچا بتلانا مقصود ہے بس !
بلکہ ایک دوسری کتاب میں امام ابن حبان نے اس کی صراحت بھی کردی ہے چنانچہ فرماتے ہیں:
عمرو بن مالك النكري أبو مالك والد يحيى بن عمرو وقعت المناكير في حديثه من رواية ابنه عنه وهو في نفسه صدوق اللهجة[مشاهير علماء الأمصار ص: 155]۔
تنبیہ:
امام ابن عدی فرماتے ہیں:
عمرو بن مالك النكري بصري منكر الحديث عن الثقات ويسرق الحديث[الكامل في الضعفاء 5/ 150]۔
اس کے بعدامام ابویعلی سے ’’عمرو بن مالك النكري‘‘ تضعیف نقل کرتے ہوئے ،فرماتے ہیں:
سمعت أبا يعلى يقول عمرو بن مالك النكري كان ضعيفا[الكامل في الضعفاء 5/ 150]۔
امام ابن حبان فرماتے ہیں:
عمرو بن مالك النكري من أهل البصرة يروى عن الفضيل بن سليمان ثنا عنه إسحاق بن إبراهيم القاضى وغيره من شيوخنا يغرب ويخطىء [الثقات لابن حبان 8/ 487]۔
بعض اہل علم نے ان تینوں جروح کو مذکورہ حدیث میں موجود راوی ’’عمرو بن مالک ‘‘ کے سلسلے میں سمجھ لیا ہے ، لیکن ہماری نظر میں یہ بات درست نہیں ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ ان تینوں جروح کا تعلق ’’عمروبن مالک الراسبی ‘‘ سے ہے۔
حافظ ذہبی نے فرماتے ہیں:
عمرو بن مالك الراسبى البصري لا النكرى.هو شيخ. حدث عن الوليد بن مسلم. ضعفه أبو يعلى.وقال ابن عدى: يسرق الحديث.وأما ابن حبان فذكره في الثقات[ميزان الاعتدال موافق رقم 3/ 285]۔
اس عبارت میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے مذکورہ تینوں جروح کو ’’عمرو بن مالك الراسبى‘‘ پرفٹ کیا ہے اور یہی صحیح ہے۔
حافظ ابن حبان کی جرح ’’يغرب ويخطىء‘‘ کو مذکورہ سندمین موجود راوی پرفٹ کرنے میں میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کو بھی وہم ہوا ہے ، جیساکہ تہذیب سے معلوم ہوتا ہے، اورغالبا انہیں کی متابعت میں محدث کبیرحافظ زبیرعلئ زئی حفظہ اللہ کو بھی وہم ہو ا اورانہوں نے بھی اس جرح کو أبو الجوزاء کے شاگر ’’عمروبن مالک‘‘ پرفٹ کیا ہے دیکھیں (ابن ماجہ بتحقیق حافظ زبیرعلی زئی ، حاشہ رقم الحدیث 1046)۔
ثانیا:
سند میں ایک دوسرے راوی ’’ سعيد بن زيد بن درهم الأزدى الجهضمى‘‘ ہیں۔
یہ بھی جہہور کے نزدیک ضعیف ہیں :
امام بیھقی فرماتے ہیں:
وسعيد بن زيد ، غير قوي في الحديث[معرفة السنن والآثار للبيهقي 10/ 136، بترقيم الشاملة آليا]۔
امام ابن حبان فرماتے ہیں:
وَكَانَ صَدُوقًا حَافِظًا مِمَّن كَانَ يخطىء فِي الْأَخْبَار ويهم فِي الْآثَار حَتَّى لَا يحْتَج بِهِ إِذَا انْفَرد[المجروحين لابن حبان 1/ 320]۔
امام نسائی فرماتے ہیں:
سعيد بن زيد أخو حماد بن زيد ليس بالقوي بصري [الضعفاء والمتروكين ص: 53]۔
امام دارقطنی فرماتے ہیں:
ضعيف تكلم فيه يحيى بن القطان [سؤالات الحاكم ص: 213]۔
ثالثا:
مذکورہ روایت میں حجرہ عائشہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کودفن کیا گیا تھا اس میں روشندان کھولنے کی ضروت محسوس کی گئی ہے حالانکہ آپ کا یہ گھرتو پہلے ہی سے کھلا ہواتھا جیساکہ بخاری ومسلم کی درج ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے
عَنْ عَائِشَةَ:
«أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى العَصْرَ، وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا لَمْ يَظْهَرِ الفَيْءُ مِنْ حُجْرَتِهَا»[صحيح البخاري 1/ 114]۔
عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا، قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ»[صحيح مسلم 1/ 426]۔معلوم ہوا کہ آپ کا گھر تو پہلے ہی سے کھلا ہوا تھا پھر اس میں روشن دان بنانے کی کیا ضروت تھی یہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ روایت موضوع ومن گھڑت ہے جیساکہ شیخ الاسلام ابن تیمہ رحمہ اللہ نے کہاہے ، آپ فرماتے ہیں:
وما روي عن عائشة رضي الله عنها من فتح الكوة من قبره إلى السماء لينزل المطر فليس بصحيح ولا يثبت إسناده و إنما نقل ذلك من هو معروف بالكذب و مما يبين كذب هذا أنه في مدة حياة عائشة لم يكن للبيت كوة بل كان بعضه باقيا كما كان على عهد النبي صلى الله عليه و سلم بعضه مسقوف وبعضه مكشوف وكانت الشمس تنزل فيه كما ثبت في الصحيحين عن عائشة أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يصلي العصر والشمس في حجرتها لم يظهر الفيء بعد ولم تزل الحجرة كذلك حتى زاد الوليد بن عبد الملك في المسجد في إمارته لما زاد الحجر في مسجد الرسول صلى الله عليه و سلم وكان نائبه على المدينة ابن عمه عمر بن عبد العزيز وكانت حجر أزواج النبي صلى الله عليه و سلم شرقي المسجد و قبليه فأمره أن يشتريها من ملاكها ورثة أزواج النبي صلى الله عليه و سلم فاشتراها وأدخلها في المسجد فزاد في قبلي المسجد و شرقيه ومن حينئذ دخلت الحجرة النبوية في المسجد و إلا فهي قبل ذلك كانت خارجة عن المسجد في حياة النبي صلى الله عليه و سلم وبعد موته ثم إنه بنى حول حجرة عائشة التي فيها القبر جدار عال وبعد ذلك جعلت الكوة لينزل منها من ينزل إذا احتيج إلى ذلك لأجل كنس أو تنظيف وأما وجود الكوة في حياة عائشة فكذب بين [الرد على البكري 1/ 164]۔
هي الحبيبة والمختار صاحبها
وفي السماء علت طهرا وتنزيها على الحرير أتى جبريل يحملها
إلى الرسول من الرحمن يُهديهابحر من العلم لا تحصى شواطئه
والفقه إن فاض يجري في سواقيها
من مثل عائشة في الفضل يدركها
من النساء وترقي في مراقيها ؟
بكر مطهرة الله برأها من فوق
سبع وعادى من يعاديها
والوحي ينزل بالآيات يقرؤها
على فراش مع المختار يؤويها
ما غرها زخرف الدنيا وزينتها
واختارت الله والمبعوث هاديها
والله للناس و للإسلام باركها
وفي التيمم فضل اليسر يكفيها
تیری پاکیزگی پہ نطق فطرت نے شھادت دی
تجھے عظمت عطاکی عافیت بخشی فضیلت دی
رسول ا للہ نے ر کھا ھے صد یقہ لقب تیرا
فقط فرشی نہیں عرشی بھی کرتے ھیں ادب تیرا
شرف تیرے ڈوپٹے نے جنگ بدر میں یہ پا یا
اسے جھنڈا بنا کر مخبر صا دق نے لہرا یا،،،،،،صل اللہ علیہ وسلم
خد اے لم یزل کا با ر ہا تجھ پہ سلا م آ یا
مبارک ھیں وہ لب جنپر ادب سے تیرا نام آیا
تیرا حجرہ امین ھے ذات رسالت کا
زمیں پر ٹکڑا یہی ھے باغ جنت کا
اسی میں رحمت للعلمیں رھتے تھے اور رھتے ھیں
یہ تیرا حجرہ ھے جسکو گنبد خضریٰ بھی کہتے ھیں
عائشہ کے سینکڑوں احسان ہیں اسلام پرجس کی عصمت کی گواہی دی کلام اللہ نے
جس کی غیرت کے نشاں ہیں دامن ایام پرجس کو بخشا تھا پیمبر نے حمیرا کا لقب
مہرومہ کی رونقیں قربان اس کے نام پر
جس کے فرزندوں نے سیل بیکراں کے روپ میں
اپنی سطوت کے علم لہرائے روم و شام پر
جس پہ باندھا تھا خدا کے دشمنوں نے اتہام
آج تک انسان شرمندہ ہے اس الزام پر
سید الکونین کی سیرت کا نورانی ورق
جیسے صیقل جگمگاتی ہو دل صمصام پر
ہم گنہگاروں کا شورش کون ہے ان کے سوا
خواجہ کونین کی رحمت ہے خاص و عام پر
کوئی دنیا میں تجھ ساکہاں عائشہ رضی اللہ عنہا
تیرے حجرے کی عزت کا کیا ذکر ہو۔
خود گواہ ہے مکیُن ومکاں عائشہ رضی اللہ عنہا
سورۂِ نورمیں جس کا ہے تذکرہ
ہے اُسی نور کی کہکشاں عائشہ رضی اللہ عنہا
حجرہ آقا نے چھوڑا نہیں آپ کا
بھج دی رب نے جنت وہاں عائشہ رضی اللہ عنہا




17 رمضان المبارک یوم وفات ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا | Tea Break said
[...] 17 رمضان المبارک یوم وفات ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ر… [...]
Muhammad faisal shahzad said
Jazakallah