خانہ کعبہ -3
Posted by ارتقاءِ حيات on August 10, 2011
غلاف خانہ کعبہ
خانہ کعبہ کو ہر سال ایام حج کے دوران 9 ذوالحجۃکو نئے غلاف سے مزین کیا جاتا ہے۔ دستکاری کے ماہر کاریگر خانہ کعبہ کے غلاف پر سونے اور چاندی کے دھاگوں سے قرآن پاک کی آیات تحریر کرتے ہیں۔ مقامی زبان میں اسے کسوۃ کہتے ہیں۔ یہ غلاف تقریباً 670 کلوگرام خالص سفید ریشم سے تیار کیا جاتا ہے جس پر بعدازاں کالارنگ چڑھایا جاتا ہے۔ غلاف پر 150 کلوگرام سونے اور چاندی کے دھاگوں سے کشیدہ کاری کی جاتی ہے۔اس کی تیاری مکہ مکرمہ کے مضافات میں واقع کسوہ فیکٹری میں ہوتی ہے، جو کہ خاص طور پر غلاف کعبہ تیار کرنے کیلئے بنائی گئی ہے۔
خانہ کعبہ کا غلاف کپڑے کے 47 ٹکڑوں پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر ٹکڑے کی لمبائی 14 میٹر اور چوڑائی 101 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔ حضور اکرم کے زمانے میں خانہ کعبہ کا غلاف کپڑے سے تیار کیا جاتا تھا۔ ایک سال میں رمضان المبارک اور حج کے دوران خانہ کعبہ کا غلاف دومرتبہ تبدیل کیا جاتا تھا۔
حضرت اسماعیل نے خانہ کعبہ کے لئے سب سے پہلے غلاف تیار کروایا تھا روایات میں آیا ہے کہ ظہور اسلام سے 700برس اور ہجرت نبی ﷺ سے220برس قبل یمن کے بادشاہ تبع ابوکرب اسعد(عہدحکومت420 عیسوی تا 425عیسوی )نے خواب میں دیکھا کہ وہ کعبہ شریف پر غلاف چڑھا رہا ہے یہ خواب اس نے کئی بار دیکھا ایک جنگ سے واپسی پر وہ مکہ مکرمہ سے گزرا تو اسے اپنا خواب یاد آیا۔ چنانچہ اس نے یمن سے قیمتی کپڑے کا غلاف بنوا کر خانہ کعبہ پر چڑھایا اسعد نے پہلی بار درکعبہ مشرفہ کےلئے ایک تالہ اور چابی بنوائی۔شاہ اسعد کے بعد یمن کے ہر بادشاہ نے یہ سعادت حاصل کی اور ہر بادشاہ نے کعبہ شریف کےلئے غلاف بنوایا۔مورخین کی نظر میں یہ واقعہ اس لئے زیادہ درست ہے کہ ایک بار کچھ لوگ اسعد نامی بادشاہ کو برا بھلا کہہ رہے تھے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اسعد حمیری کو برا نہ کہو کیونکہ اس نے کعبہ پر غلاف چڑھایا تھا۔ یہ غلاف سرخ داری دار یمنہ کپڑے سے بنایا گیا تھا۔ قریش مکہ ہر سال دس محرم کو کعبے کا غلاف بدلتے تھے اس دن وہ احترام کی خاطر روزہ بھی رکھتے تھے۔
زمانہ جاہلیت میں خالد بن جعفر بن کلاب نے کعبہ پر پہلی مرتبہ دیباج کا غلاف چڑھایاتھا اسکی لاگت تمام قبائل قریش میں تقسیم کی گئی تھی اس وقت غلاف ٹاٹ،چمڑے اور دیباج وغیرہ سے تیار کئے جاتے تھے بنی مخروم کے ابو ربعیہ ابن عبداللہ ابو بن عمر نے تجارت میں بے حد منافع کمایا تو اس نے قریش سے کہا کہ ایک سال کعبہ پر غلاف میں چڑھایا کروں گا اور ایک سال تمام قریش مل کر یہ فریضہ انجام دیں گے چنانچہ اس کے مرنے تک یہی معمول رہا۔زمانہ جاہلیت میں بھی حضور اکرم ﷺ کا خاندان مکہ مکرمہ میں بہت عزت واحترام سے دیکھا جاتا تھا آپکے جد امجد بھی تمام قبائل میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے انہوں نے بڑی سمجھداری اور فراست سے کام لیتے ہوئے غلاف کعبہ کی تیاری کےلئے خصوصی بیت المال قائم کیا تا کہ تمام قبائل اپنی حیثیت کے مطابق غلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لے سکیں اور کوئی قبیلہ اس سعادت سے محروم نہ رہ رہے۔
اپنے خرچ پر غلاف کعبہ چڑھانے کا شرف حضوراکرم ﷺ کی دادی عباس بن عبدالمطلب کی ماں کو بھی حاصل ہوا تھا۔ بچپن میں جب ایک بار حضرت عباس رضی اللہ عنہ اپنے گھر کا راستہ بھول گئے تو ماں نے منت مانگی کہ عباس رضی اللہ عنہ گھر آجائیں تو وہ غلاف نذرکریں گی۔ چنانچہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ جب گھر سلامتی سے تشریف لائے تو انہوں نے یہ منت پوری کرتے ہوئے سفید رنگ کا ریشمی غلاف چڑھایا ۔۔اس واقعہ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ظہور اسلام سے پہلے اور بعد میں بھی غلاف کعبہ کو ذاتی اور اجتماعی طور پر بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ قریش نے حضور ﷺ کے اعلانِ نبوت سے 5 سال پہلے کعبہ کی تعمیر نو کی تو بڑے اہتمام سے غلاف بھی چڑھایا۔
فتح مکہ کے بعد جب حضور ﷺ نے خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا تو اس وقت آپ نے غلاف کعبہ کو تبدیل نہیں کیا تھا۔انہی دنوں ایک عجیب واقع پیش آیا۔ایک مسلمان خاتون غلاف کعبہ کو صندل کی خوشبو میں بسانے کا اہتمام کر رہی تھی کہ اچانک تیز ہوا سے آگ غلاف کعبہ کے پردے پر پڑی اور اس پردے میں آگ لگ گئی جو مشرکین مکہ نے ڈالا تھا۔فتح مکہ کی خوشی پر حضور اکرم نے یمن کا تیار کیا ہوا سیاہ رنگ کا غلاف اسلامی تاریخ میں پہلی بار چڑھانے کا حکم دیا۔(فتح الباری بروایت سعید بن مسیب رحمہ اللہ)آپ کے عہد میں دس محرم کو نیا غلاف چڑھایا جاتا تھا۔بعدمیں یہ غلاف عید الفطر کو اور دوسرا دس محرم کو چڑھایا جانے لگا۔بعد ازاں حج کے موقع پر غلاف کعبہ چڑھانے کا سلسلہ شروع ہو گیا نو اور دس ہجری میں بھی آپنے حجتہ الوداع فرمایا تو غلاف چڑھایا گیا۔اس زمانے سے آج تک ملت اسلامیہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ غلاف خوبصورت اور قیمتی کپڑے سے بنا کر اس پر چڑھاتے ہیں حضور اکرم ﷺ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے اپنے زمانہ میں کعبہ پر یمنی کپڑے کا دھاری دار غلاف چڑھایا ۔ جب مصر فتح ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اپنے دور خلافت میں اعلیٰ مصری کپڑے کا غلاف بنوا کر چڑھایا ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اسلام کی پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے پرانے غلاف پر غلاف چڑھایا اور سال میں دو مرتبہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کی رسم ڈالی۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں غلاف کعبہ کے بارے میں کوئی روایت نہیں ملتی۔ زمانہ قدیم میں یہ دستور تھا کہ جب حجاج کرام دس محرم تک اپنے اپنے علاقوں کو واپس چلے جاتے تو تب کعبہ پر غلاف چڑھایا جاتا ۔
اسی طریقے پر آپ ﷺ اور آپ کے خلفاءکے زمانے میں عمل ہوتا رہا ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں دس محرم کے علاوہ ایک اور غلاف عیدالفطر کے دن بھی چڑھایا پھر اسی طرح عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور یزیدنے اپنے اپنے دور میں یہ عمل کیا ۔ خلیفہ عبدالملک بن مروان کے عہد میں یہی مستقل طریقہ بن گیا ۔ جو آج تک جاری ہے ۔زمانہ جاہلیت میں مختلف لوگ اپنی اپنی طرف سے یہ عمل کرتے تھے لیکن اسلامی دور میں غلاف چڑھانا حکومت کی ذمہ داری قرار پایا ۔
مسند عبدالرزاق کی روایت کے مطابق ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا ، کیا ہم کعبہ پر غلاف چڑھائیں ؟ انہوں نے فرمایا : کہ اب تمہاری طرف سے اس خدمت کو حکمرانوں نے سنبھال لیا ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے :
کسوۃ البیت علی الامراء
” بیت اللہ کا غلاف حکمرانوں کے ذمے ہے ۔ “
حضرت عبداللہ بن زبیر اور حجاج بن یوسف نے دیباج کے بنے غلاف چڑھائے ،خلفاءابن عباس نے اپنے500 سالہ دورحکومت میں ہر سال بغداد سے غلاف بنوا کر مکہ مکرمہ روانہ کئے۔عباسیوں نے اپنے دور حکومت میں غلاف کعبہ بنوانے میں خصوصی دلچسپی لی اور اس کو انتہائی خوبصورت بنایا۔خلیفہ ہارون الرشید نے سال میں 2 مرتبہ اور مامون الرشید نے سال میں تین مرتبہ غلاف کعبہ کو تبدیل کرنے کا اہتما م کیا مامون الرشید نے سفیدرنگ کا غلاف چڑھایا تھا۔خلیفہ الناصر عباس نے پہلے سبز رنگ کا غلاف بنوایا لیکن پھر اس نے سیاہ ریشم سے تیار کروایا اس کے دور سے آج تک غلاف کعبہ کا رنگ سیاہ ہی چلا آرہا ہے ،البتہ اوپر ذری کا کام ہوتا ہے۔
خاندان بنوامیہ کے حکمران بھی اسی پر کار بند رہے خلفاء بنو عباس نے تقریبا پانچ سو سالہ دور حکومت میں ہر سال بغداد سے خانہ کعبہ کے لئے غلاف بھجوائے ۔خلیفہ مامون رشید نے سفید رنگ کا غلاف خانہ کعبہ کے لئے بنوایا خلیفہ ناصر عباس نے پہلے سبز رنگ کا غلاف بنوایا پھر سیاہ ریشم سے تیار کروانے لگا ان کے بعد سے آج تک غلاف کعبہ سیاہ رنگ کا بنتا آرہا ہے اور اس پر زری کا کام ہوتا رہا ہے ۔761ہجری میں سلطان حسن والی مصر نے پہلی بار کعبہ کے بارے میں قرآنی آیات غلاف پرزری سے کاڑھنے کا حکم جاری کر دیا ۔یہ آیات تین اطراف پر ہوتے تھے جبکہ چوتھی طرف پر فرمان روا کا نام ہوتا تھا بعد میں مصر اور یمن سے خانہ کعبہ کے لئے غلاف آنے لگا مصر کے فرمان روا اسماعیل بن ناصر نے غلاف کعبہ کی ذمہ داری سنبھالی اور اس کام کے لئے تین گائوں کی آمدنی وقف کردی مصر کے محمد علی پاشا نے اعلان خود مختاری کے بعد وقف منسوخ کرکے حکومت مصر کے خرچے پر غلاف تیار کرواکے بھجوانے کا عمل شروع کر دیا ۔محمود غزنوی نے زرد رنگ کا غلاگ خانہ کعبہ کے لئے بھجوایا تھا سلیمان دوم عثمانی کے دور میں غلاف کعبہ پھر مصر سے جانے لگا یہ سلسلہ کافی عرصہ تک جاری رہا شریف حسین والی مکہ کے تعلقات 1923 میں خراب ہوئے شریف حسین اور امیر ابن سعود کی لڑائی کے زمانے میں خانہ کعبہ کے لئے غلاف نہیں آیا 1927میں ابن سعود نے مکہ میں غلاف عجلت میں بنوایا 1928میں امرتسر سے مولانا اسماعیل غزنوی اور مولانا دائود غزنوی نے غلاف تیار کراکے بھجوایا ان تلخ تجربات کے بعد ملک عبدالعزیز نے 1346ہجری میں مکہ مکرمہ میں دارالکسوہ کے نام سے کارخانہ بنوایا جس کے لئے بنارس سے ماہر کاریگر منگوائے گئے ۔1962میں پہلی مرتبہ غلاف کعبی کی تیاری کی سعادت پاکستان کے حصہ میں آئی ۔
ہجری سے غلاف پر لکھائی شروع ہوگئی جو آج تک جاری ہے۔140
751ہجری میں مصر کے بادشاہ منصور بن ناصر نے غلاف کی تیاری پر اٹھنے والے مصارف کےلئے قاہرہ کے چند دیہات کی آمدنی وقف کر دی تھی۔وہ ہر سال بڑے تزک و احتشام اور اہتمام سے غلاف کعبہ تیار کروا کر مکہ مکرمہ روانہ کیا کرتا تھا۔روانگی کے موقع پر بہت اہتمام کیا جاتا تھا۔غلاف کو محل میں رکھ کر عوام کا دیدار کروایا جاتا اور جلوس نکالا جاتا تھا اور جب غلاف مکہ مکرمہ پہنچتا تو اس کا شاندار استقبال کیا جاتا
761ہجری میں والی مصر سلطان حسن نے پہلی مرتبہ کعبہ کے بارے میں آیات قرآنی کو زری سے کاڑھنے کا حکم دیا۔
سورۃآل عمران کی آیات 96/97 سورۃامائدہ کی آیت 97 اور سورۃبقرہ کی آیات 128/127 تین اطراف کاڑھی جاتی ہیں۔
چوتھی طرف غلاف بھیجنے والے فرمانروا (بادشاہ) کا نام ہوتا تھا۔
810ہجری میں غلاف کعبہ بڑے خوبصورت انداز میں جاذب نظر بنایا جانے لگا جیسا کہ آج بھی نظر آتا ہے۔مصر پر سلطنت عثمانیہ کے قبضے کے بعد سلمان اعظم نے مزید 7 گاﺅں کی مزید آمدنی غلاف کعبہ کےلئے وقف کر دی۔
19ویں اور 20 ویں صدی عیسوی کے اوائل تک غلاف کعبہ مصر ہی سے تیار ہو کر آیا کرتا تھا۔یہ قاہرہ کے ایک خصوصی کارخانہ میں بنایا جاتا تھا جو صرف غلاف کعبہ ہی تیار کرتا تھا۔شوال کی 21 تاریخ کو غلاف تیار ہو کر مصر سے مکہ روانہ کیا جاتا ،یہ دن مصر میں چھٹی کا دن ہوتا تھا مصر میں یہ دن ایک بہت بڑے تہوار کے طور پر منایا جاتا رہا۔
محمود غزنوی نے ایک مرتبہ زرد رنگ کا غلاف بھیجا۔
سلمان دوم کے عہد حکومت سے غلاف مصر سے جاتا تھا۔جب اس رسم میں کچھ جدت کاریاں شامل کر لی گئیں تو سعودیہ عرب سے مصریوں کے اختلافات بڑھ گئے اور مصریوں کا تیار کردہ غلاد لینے سے انکار کر دیا گیا۔
شریف حسین والی مکہ کے تعلقات مصریوں سے 1923عیسوی میں خراب ہوئے۔
چنانچہ مصری حکومت نے غلاف جدہ سے واپس منگوا لئے۔
1333ہجری میںشریف حسین کا بنوایا ہوا غلاف پہلی جنگ عظیم چھڑ جانے کی وجہ سے بروقت نہ پہنچ سکا۔ اسلئے مصری غلاف ہی چڑھانا پڑا
1927 عیسوی میں شاہ عبد العزیز السعود نے وزیر مال عبداللہ سلیمان المدن اور اپنے فرزند شہزادہ فیصل کو حکم دیا کہ وہ غلاف کعبہ کی تیاری کےلئے جلد ازجلد ایک کارخانہ قائم کریں اور 1346 ہجری کےلئے غلاف کی تیاری شروع کر دیں۔چنانچہ انہوں نے فوری طور پر ایک کارخانہ قائم کر کے ہندوستانی کاریگروں کی نگرانی میں غلاف کی تیاری شروع کر دی اور یوں سعودیہ کے کارخانے میں تیار ہونے والا یہ پہلا غلاف کعبہ تھا۔مکہ میں قائم ہونے والی اس فیکٹری کا نام”دارالکسوہ “تھا۔
1962ئ_ میں غلاف کی تیاری کی سعادت پاکستان کے حصے میں بھی آئی۔1928ئ_ میں امرتسر سے مولانا اسماعیل غزنوی ،مولانا داود غزنوی نے غلاف تیار کر کے بھیجا۔غلاف کعبہ کی تیاری میں دنیا کا سب سے بہترین کپڑا استعمال کیا جاتا ہے670 کلو گرام خالص سفید ریشم اور 720 کلو گرام مختلف رنگ اور اس کے رنگنے کےلئے استعمال ہوتے تھے۔ کل کپڑا تقریباً 660 مربع میٹر ہوتا تھا۔ پورا غلاف کعبہ 54 ٹکڑوں ست بنتا ہے اور ان میں ہر طول 14 میٹر اور عرض 95 سینٹی میٹر اور پورے غلاف کی پیمائش 2650 مربع میٹر ہوتی ہے جبکہ غلاف کی پٹی کا گھیر 45 میٹر اور ارض 95 سینٹی میٹر ہوتا ہے جو مختلف 16 ٹکڑوں کو ملا کر جوڑا جاتا ہے۔
خانے کعبہ کا دروازہ خالص سونے کا بنا ہوا ہے۔ اس کا پردہ نہایت دلکش جاذب نظر اور دیدہ زیب انداز میں بنایا جاتا ہے غلاف کے چاروں اطراف میں مربع شکل میں سورۃاخلاص کی کڑھائی کی جاتی ہے۔غلاف کعبہ کے اوپر قرآن کریم کے حج سے متعلقہ آیاتِ مبارکہ اور اس کے نیچے اللہ سبحان تعالیٰ کے نام کاڑھے جاتے ہیں۔
آیات قرآنی کی کتابت خط سوسل میں شیخ عبدالرحیم بخاری نے کی۔ پان کے پتے کی شکل میں ”یا حی یا قیوم“ ،”الحمد رب العالمین“ اور اس کے نیچے تکون کی شکل میں ”اللہ “، اس کے نیچے ”یا حنان یا منان“ اور اس کے نیچے سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم کڑھائی کیا جاتا ہے۔ کعبہ مشرفہ کی پٹی اور در کعبہ بنانے کےلئے 11 ماہ درکار ہوتے ہیں۔
بابِ کعبہ کی دائیں جانب اوپر کی ایک پٹی میں سنہری کڑھائی میں لکھا ہوا ہے کہ یہ غلاف خادم الحرمین الشریفین فہد بن عبدالعزیز آل سعود نے مکہ میں تیار کرایا اور پیش کیا
18جنوری 1983عیسوی کا دن غلافِ کعبہ کی تاریخ کا ایک نہایت اہم اور سنہری دن ہے۔اس دن شاہ فہد مرحوم نے اقوام متحدہ کی مرکزی عمارت (نیویارک) کےلئے پوری ملت اسلامیہ کی جانب سے عطیہ کے طور پر در کعبہ کا پردہ پیش کیا۔یہ پردہ عمارت کے استقبالیہ کمرے میں نمایاں طور پر آویزاں کیا گیا ہے۔
گزشتہ صدی کے آغاز تک غلاف کعبہ دنیا کے سیاسی حالات سے محفوظ رہا ۔ جنگیں ہوتی رہیں سلطنتوں کے تعلقات بنتے اور بگڑتے رہے ، مگر خانہ کعبہ کے لیے غلاف جہاں سے آیا کرتا تھا وہیں سے آتا رہا ۔ لیکن گزشتہ صدی کے آغاز میں دنیا کے سیاسی حالات اس پر بھی اثر انداز ہوئے ۔ جنگ عظیم اول میں جب ترکی سلطنت جرمنی کے ساتھ شریک جنگ ہوئی تو اسے اندیشہ ہوا کہ مصر سے غلاف کے آنے میں انگریز رکاوٹ بنے گا ۔ ایسے میں ترکی نے ایک شاندار غلاف استنبول سے تیار کرا کے حجاز ریلوے کے ذریعے مدینۃ منورہ بھیج دیا ۔
عین وقت پر مصر سے بھی غلاف پہنچ گیا ۔ تو ترکی سے آیا ہوا غلاف مدینۃ منورہ میں محفوظ کر دیا گیا ۔
1923عیسوی میں شریف حسین اور مصر کے حالات آپس میں خراب ہو گئے اور مصری حکومت نے عین حج کے موقع پر جدہ پہنچے ہوئے غلاف کو واپس منگوالیا ۔ خوش قسمتی سے اس وقت جنگ کے زمانہ میں بھیجا ہوا ترکی غلاف کام آ گیا اسے فوری طور پر مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ پہنچایا گیا ۔
1925عیسوی میں سلطان ابن سعود اور شریف حسین کی لڑائی کے زمانے میں مصر سے پھر غلاف نہ آیا ۔ ابن سعود نے عراق کا بنا ہوا ایک غلاف چڑھا دیا جو شریف حسین نے بنوا کر رکھا ہوا تھا ۔
1927عیسوی میں ٹھیک یکم ذوالحجہ کو حکومت مصر نے غلاف بھیجنے سے پھر انکار کر دیا اور ابن سعود کو فوراً مکہ مکرمہ سے ایک غلاف بنوانا پڑا ۔
1928عیسوی میں مصر سے غلاف نہ آیا اور امرتسر سے مولانا سید داؤد غزنوی رحمہ اللہ اور مولانا اسمٰعیل غزنوی رحمہ اللہ کے زیراہتمام غلاف بنو اکر بھیجا گیا ۔
ان تلخ تجربات کی بنا پر مکہ مکرمہ میں ایک دارالکسوۃ قائم کر دیا گیا تا کہ مصر سے آئے دن غلاف نہ آنے کی مصیبت کا مستقل حل کر دیا جائے ۔ اس کارخانے میں مولانا اسمٰعیل غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کی مدد سے ہندوستان کے بہت سے کاریگر فراہم کئے گئے ۔
1972عیسوی میں اس کارخانے کو جدید ترین بنانے اور اس کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ایک جدید کارخانہ کی بنیاد خادم الحرمین الشریفین ( شاہ فہد ) نے رکھی جو اس وقت وزیر داخلہ اور مجلس وزرا کے نائب تھے ۔
1975عیسوی بمطابق 1395ھ میں اس جدید کارخانے کا افتتاح خادم الحرمین الشریفین جو اس وقت ولی عہد تھے نے اپنے ہاتھ سے کیا ۔ اب یہ کارخانہ بنائی اور رنگائی کے جدید ترین آلات سے مزین ہے ۔ لیکن اس کام کو مشین کی بجائے ہاتھ سے ہی انجام دیا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ ہاتھ کی کاریگری انسانی کمال کا فنی ورثہ تصور کیا جاتا ہے ۔
غلاف کی لمبائی 14میٹر اور اس کے اوپر والے ایک تہائی حصہ میں غلاف کو باندھنے والی ڈوری ہوتی ہے جس کی چوڑائی سینٹی میٹر ہوتی ہے ۔ اور اس پر چاندی اور سونے کی پالش شدہ ڈوری سے قرآنی آیات لکھی جاتی ہیں ۔ اس ڈوری کی لمبائی 47میٹر کے قریب ہوتی ہے جو 16ٹکڑوں کا مجموعہ ہوتی ہے ۔ ڈوری والے حصے سے تھوڑا نیچے اسلامی آرٹ ( خطاطی ) میں سورۃالاخلاص اور درج بالاچھ قرآنی آیات لکھی جاتی ہیں ۔
بیچ والے حصہ میں چند آیات درج ہوتی ہیں یہ آیتیں خط ثلث میں لکھی جاتی ہیں جو عربی کا سب سے خوبصورت خط ہے ۔ کعبے کے دروازے کا غلاف جسے برقعہ کہتے ہیں جو عمدہ اور نفیس کالے ریشم سے بنایاجاتا ہے ۔ جبکہ باقی غلاف بھی اسی رنگ کا ہوتا ہے لیکن اس کی عمدہ اور جاذبِ نظر ترتیب و کتابت اس کو دوسرے حصے سے ممتاز بنا دیتی ہے ۔ ان آیات کے نیچے اسی خط اور انداز میں یہ عبارتیں درج ہوتی ہیں کہ یہ غلاف مکہ مکرمہ میں تیار ہوا اور خادم الحرمین الشریفین کی طرف سے اسے خانہ کعبہ کو بطور تحفہ پیش کیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے ۔
جبکہ اب غلاف کعبہ کی تیاری کا تمام کام سعودی عرب میں ہو رہا ہے غلاف کعبہ کے لئے بڑے اور نفیس قسم کے دھاگے بیرون ملک سے منگوائے جاتے ہیں جسے ماہرین بہت چھان پھٹک اور محنت سے دیکھنے کے بعد پاس کرتے ہیں بعد میں ان دھاگوں کو سبز ، سیاہ پیلا اور سرخ رنگ دیا جاتا ہے ۔سیاہ رنگ کا دھاگا غلاف کعبہ کے لئے استعمال ہوتا ہے سبز رنگ کا دھاگا غلاف کعبہ کے اندر پردوں ، روضہ رسول ۖ کے اندر پردوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جبکہ باقی رنگ کے دھاگے غلاف کعبہ اور چادروں کی پٹی بنانے کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔ خانہ کعبہ پر سونے کی کڑھائی کے لئے پانچ سے دس سال کے لئے بڑی مقدار میں سونا جرمنی ، برطانیہ اور فرانس سے خریدا جاتا ہے تاکہ سونے کی قیمتوںمیں اضافے کا کوئی اثر نہ ہو کشیدہ کاری کا عمل سینکڑوں افراد مکمل کرتے ہیں اور اس میں سونے اور چاندی کے دھاگے استعمال ہوتے ہیں کعبہ شریف کی لمبائی چودہ میٹر اور محیط سینتالیس میٹر ہے ۔جس کے حساب سے غلاف بنایا جاتا ہے خانہ کعبہ کے پرانے دروازے کی عمر تقریبا چار سو برس تھی جو سونے کے رنگ میں رنگا ہوا تھا تاہم اس کو بعد میں سعودی عرب کے حکمرانوں نے سونے کے دروازے میں تبدیل کردیا ۔ جس کی تیاری میں 280کلو گرام سونا استعمال کیا گیا
پوری انسانیت کی بیت اللہ کی طرف سے امن و سلامتی اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے جب حجاج اکرام منیٰ کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو 9 ذی الحجہ کو نیا غلاف چڑھایا جا تا ہے۔پردوں کو رسوں سے باندھ کر اوپر اٹھا دیتے ہیں اور نیچے سے بیت اللہ شریف کے بڑے بڑے کالے رنگ کے پتھر دکھائی دیتے ہیں۔ غلاف کی سلائی اس طرح کی جاتی ہے کہ باب کعبہ حجراسود اور رکن یمانی کی جگی کھلی رہتی ہے۔
حج کے ایام میں غلافِ کعبہ کو آدھا اوپر اٹھا دیا جاتا ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ بعض سادہ لوح لوگ غلاف سے لپٹ کر دھاگہ کاٹ لیتے تھے جن کو میت کی آنکھوں میں ڈالنے کےلئے لاتے تھے جو کہ ایک توہم پرستی ہے




افتخار اجمل بھوپال said
يہ تحرير کے شروع ميں بيکار ايچ ٹی ايم ايل لکھا آ رہا ہے جو قاری پر اچھا اثر نہيں ڈالتا
تحریم said
ji muhtaram chacha jaan abhi dekha hai krty hain edit
kia kren PTCL ka broadband jab se kharab hoa hai jaan azzab ho choki hai
bella said
is this a blog?
ارتقاءِ حيات said
yes it is