ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

قرآنی واقعات و داستانیں

Posted by ارتقاءِ حيات on August 7, 2011

قرآن مجيد ايك تاريخى كتاب ہے، نہ گزشتہ لوگوںكى سوانح حيات كا مجموعہ،يہ نہ علوم طبيعى نصاب ہے اور نہ زمين و آسمان كے اسرار و رموز كو بيان كرنے كى كتاب ہے بلكہ وہ ”كتاب ہدايت” ہے ہاں قرآن كريم ميں چونكہ گزشتہ لوگوں خصوصاً انبيائے كرام اور اقوام و ملل كے عبرت ناك واقعات بيان ہوئے ہيں جن ميں سے بہت سے لوگ زمين كے ايك عظيم حصہ پر حكومت كرتے تھے،اور اب ان كا نام و نشان تك نہيں رہا، اور كائنات كے پُر اسرار مخلوقات ميں”توحيد خدا” اور” معرفت اللہ”كے بہترين درس چھپے ہوئے ہیں لہذا قرآن كريم نے اپنے مخصوص انداز ميں انھيں بيان كيا ہے اور انسانى ہدايت كے لئے موثر اور كامياب نمونے بيان كئے ہيں_
قابل توجہ بات يہ ہے كہ ان نكات كو بيان كرتے ہوئے قرآنى آيات كا لب و لہجہ اس انداز كا ہے جس سے نہ صرف يہ كہ ان واقعات كى تازگى ختم نہيں ہوتى بلكہ مرور زمان كے باوجود اس كے معنى و مفاہيم ميں ترو تازگى اور سبق آموزى پيدا ہوجاتى ہے، اس طرح ہر پيرو جوان اور عوام الناس و دانشور اپنے لحاظ سے اس نورہدايت سے فيضياب ہوتے ہيں

قران كريم كا بہت ساحصہ گزشتہ قوموں كى سرگذشت اور گزرنے ہوئے لوگوں كے واقعات زندگى كى صورت ميں ہے،اس پہلو پر نظر كرنے سے يہ سوال سامنے اتا ہے كہ ايك تربيت كنندہ اور انسان ساز كتاب ميں يہ سب تاريخ اور داستانيں كيوں ہيں 
ليكن ذيل كے چند نكات كى طرف توجہ كرنے سے يہ مسئلہ واضح ہوجاتا ہے -:
تاريخ انسانى زندگى كے مختلف مسائل كى تجربہ گاہ ہے اور جو چيزيں انسان عقلى دلائل سے اپنى ذہن ميں منعكس كرتا ہے انھيں تاريخ كے صفحات ميں عينى صورت ميں كھلا ہوا پاتا ہے اور اس طرف توجہ كرتے ہوئے كہ معلومات ميں سے زيادہ قابل اعتماد وہ ہيں جو حسى پہلو ركھتى ہيں ،واقعات زندگى ميں تاريخ كا اثر واضح طور پر ديكھا جا سكتا ہے ،انسان اپنى انكھوں سے صفحات تاريخ ميں اختلاف و انتشار كى وجہ سے كسى قوم كى مرگ بار شكست ديكھتا ہے اور اسى طرح اتحاد و ہم بستگى كے باعث كسى دوسرى قوم كى درخشاں كاميابى كا مشاہدہ كرتا ہے 
گزشتہ لوگوں كے حالات ان كے نہايت قيمتى تجربات كا مجموعہ ہيں اور ہم جانتے ہيں كہ زندگى كا ماحصل تجربے كے علاوہ كچھ بھى نہيں 
تاريخ ايك ائينہ ہے جو اپنے اندر تمام انسانى معاشروں كا ڈھانچہ منعكس كرتا ہے ،يہ ائينہ ان كى برائياں اچھائياں ،كاميابياں ،ناكامياں ،فتوحات ،شكستيں اور ان سب امور كے عوامل و اسباب دكھاديتا ہے ،اسى بنا پر ان كى پورى عمر كے تجربات سميٹ ليتا ہے
البتہ_يہاں تاريخ سے مراد وہ تاريخ ہے جو خرافات ،اتہامات ،دروغ گوئيوں ،چاپلوسيوں ،ثناخوانيوں ،تحريفوں اور مسخ شدہ واقعات سے خالى ہو ليكن افسوس سے كہنا پڑتا ہے_
كہ ايسى تاريخيں بہت كم ہيں ،اس سلسلے ميں قران نے حقيقى تاريخ كے جو نمونے پيش كئے ہيں اس كے اثر كو نظر سے اوجھل نہيں رہنا چاہئے_
ايسى تاريخ كى ضرورت ہے كہ جو ائينے كى طرح صاف ہو نہ كہ كثرنما ہو ،ايسى تاريخ كہ جو صرف واقعات ذكر نہ كرے بلكہ اس كى بنياد اور تنائج بھى تلاش كرے
ان حالات ميں قران كى جو تربيت كى ايك اعلى كتاب ہے تاريخ سے استفادہ كيوں نہ كرے اور گزشتہ لوگوں كے واقعات سے مثاليں اور شواہد كيوںپيش نہ كرے 
علاوہ ازيں تاريخ ايك خاص قوت جاذبہ ركھتى ہے اور انسان بچپن سے لے كر بڑھاپے تك اپنى عمر كے تمام ادوار ميں اس زبر دست قوت جاذبہ كے زير اثر رہتا ہے ،اسى بنا پر دنيا كى ادبيات كا ايك اہم حصہ اور انشا پر دازوں كے عظيم اثار تاريخ اور واقعات پر مشتمل ہيں
شعرا اور عظيم مصنفين كے بہترين اثار چاہے وہ فارسى ميں ہوں يا دوسرى زبانوں ميں يہى داستانيں اور واقعات ہيں گلستان سعدى ،شاہنامہ فردوسى ،خمسہ نظامى اور معاصر مصنفين كے دلكش اثار ،اسى طرح ہيجان افرين فرانسيسى مصنف ،ويكٹر ہوگو ،برطانيہ كے ،شكس پئير، اورجرمنى كے، گوئٹے، سب كى تصانيف داستان كى صورت ميں ہيں 
داستان اور واقعہ چاہے نظم كى صورت ميں ہويا نثر كى ،نمائشے كے انداز ميں ہو يا فلم كى شكل ميں پڑھنے والے اور ديكھنے والے پر اثر انداز ہوتا ہے اور ايسى تاثير عقلى استدلالات كے بس كى بات نہيں ہے 
اس كى وجہ شايد يہ ہے كہ انسان عقلى سے پہلے حسى ہے اور وہ جس قدر فكر ى مسائل ميں غور وفكر كرتا ہے اس سے زيادہ حتى مسائل ميں غوطہ زن ہوتا ہے ،زندگى كے مختلف مسائل ميں جس قدر ميدان حس سے دور ہوتے ہيں اور خالص عقلى حوالے سے ہوتے ہيں اسى قدر ثقيل اور سنگين ہوتے ہيں اور اتنى ہى دير سے ہمضم ہوتے ہيں
اسى طرح ہم ديكھتے ہيں كہ ہميشہ عقلى استدلالات كے مضبوط بنانے كے لئے حسى مثالوں سے مدد لى جاتى ہے ،بعض اوقات ايك مناسب اور برمحل مثال استدلال كا اثر كئي گنا زيادہ كر ديتى ہے ،اسى لئے كامياب علماء وہ ہيں جو بہترين مثاليں انتخاب كرنے پر زيادہ دسترس ركھتے ہيں اورا يساكيوں نہ ہو جب كہ عقلى استدلال حسى ،عينى اور تجرباتى مسائل كا ماحصل ہيں 
داستان اور تاريخ ہر شخص كے لئے قابل فہم ہے جب كہ اس كے بر عكس عقلى استدلالات كى رسائي ميں سب لوگ برابر كے شريك نہيں ہيں 
اسى لئے وہ كتاب كہ جو عموميت ركھتى ہے اور سب كے لئے ہے ،نيم وحشى ،ان پڑھ عرب كے بيابانى بدّو سے لے كر عظيم مفكر اور فلسفى تك كے استفادہ كے لئے ہے اسے حتمى طورپر تاريخ ،داستانوں اور مثالوں كا سہارا لينا چاہئے
ان تمام پہلوو ں كو مجموعى طورپر ديكھا جائے تو يہ بات واضح ہوتى ہے كہ يہ تمام تاريخيں اور داستانيں بيان كر كے قران نے تعليم و تربيت كے لحاظ سے بہترين راستہ اہنايا ہے
خصوصاًاس نكتے كى طرف توجہ كرتے ہوئے كہ قران نے كسى موقع پر بھى خالى تاريخى واقعات ہى بيان نہيں كرديئے بلكہ ہر قدم پر اس سے نتائج اخذ كئے ہيں اور اس سے تربيتى حوالے سے استفادہ كيا ہے چنانچہ اپ اسى سورت ميں اس كے كئي 
نمونے ديكھيں گے



4 Responses to “قرآنی واقعات و داستانیں”

  1. آپ اپنے بلاگ پہ نستعلیق خط بھی شامل کر لیں۔۔۔ اس طرح کی طویل تحاریر نستعلیق میں پڑھنا آسان لگتا ہے اور سطروں کے درمیان وقفہ کم ہونے کی وجہ سے اس خط میں مشکل ہوتی ہے۔

  2. Wafa Anjum said

    bohat achi post……………

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers