ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

خواتین کا اپنے حقوق کا علم ہونا

Posted by ارتقاءِ حيات on June 25, 2011

اگر معاشرے ميں عورت کے بارے ميں غلط فکر و نظر موجود ہو تو صحيح معني ميں اور وسيع پيمانے پر اُسے ازسر نو صحيح کرنا مشکل ہوگا۔ خود خواتين کو بھي چاہيے کہ اسلام ميں خواتين کے موضوع پر کافي مقدار ميں لازمي حد تک اطلاعات رکھتي ہوں تاکہ دين مبين اسلام کے کامل نظريے کي روشني ميں اپنا حقوق کا بھرپور دفاع کر سکيں۔ اسي طرح اسلامي ملک ميں معاشرے کے تمام افراد کو يہ جاننا چاہيے کہ خواتين، مختلف شعبہ ہائے زندگي ميں اُن کي موجودگي، فعاليت،تحصيل علم،اجتماعي ،سياسي ، اقتصادي اور علمي ميدانوں ميں اُن کي شرکت اور گھر اور گھر سے باہر اُن کے کردار کے بارے ميں اسلام کيا بيان کرتا ہے۔اِن سب موضوعات کے بارے ميں اسلام کي ايک بہت واضح اور روشن نظر ہے ۔ اگر ہم اسلام کي نظر کا دنيا کي مختلف ثقافتوں خصوصاً مغربي ثقافت سے موازنہ کريں تو ہم ديکھيں گے کہ اسلام کي نظر بہت ترقي يافتہ ہے ۔ اسي طرح آج کے مرد کے ذہن پر چھائے ہوئے افکار و نظريات کے مقابلے ميں اسلامي فکر و نظر بے مثل و نظير ہے اور يہ اسلام ہي کي واضح اور روشن نظر ہے جو ملکي بہبود و ترقي اور ملک ميں خواتين کي زيادہ سے زيادہ ترقي اور اُن کے مقام و منصب ميں اضافے کا باعث ہے۔ميري بہنو! توجہ فرمايئے، ميں خاص طور پر اِس امر کيلئے تاکيد کر رہا ہوں کہ نوجوان خواتين، بلند آرزووں اور آہني حوصلوں اور قلبي شوق و تڑپ کي مالک ہيں، وہ بھرپور توجہ ديں تاکہ اِس جلسے کي مناسبت سے مختصر مطالب آپ کي خدمت ميں عرض کروں۔انساني زندگي اور خواتين کي شان و منزلت اور اُن کي معاشرتي حيثيت کے بارے ميں اسلام کي نظر تين حصوں ميں قابل تقسيم ہے۔ ميں نے بارہا ان مطالب کو بيان کيا ہے ليکن ميرا اصرار ہے کہ ان مطالب کو معاشرے کي خواتين کے ليے جتنا زيادہ ہو سکے بيان کيا جائے۔ جن افراد کو اِس سلسلے ميں سب سے زيادہ فعال ہونا چاہيے وہ خود ہمارے معاشرے کي خواتين ہيں۔

8 Responses to “خواتین کا اپنے حقوق کا علم ہونا”

  1. بلاشُبہ ترقی کا زينہ واحد ذريعہ عِلمِ نافع ہی ہے اور اسی کے حصول سے انسان اپنے حقوق سے آگاہ ہوتا ہے اور حقوق حاصل کر سکتا ہے

  2. Bauhut khoob. Aap ka blog dekh ker behud khushi hui, ziyada iss liay k ye urdu mae hai. Be-shuk, aurt per khud bhi beri zimedari hai ke apna muqqam sumjhay aur apni izzat kerwaiy. Jub aurat khud apney aap ko apne muqqam se neechay le jaey, to moasshray ka aisa he haal hota hai. Kyun k aurat hi wo bunyaad hai jis per agli nassal perwaan charhti hai. Aurat ko apni taqat ko na sirf samajhna chahiey, bulkey ussay theek tor pe isstamal be kerna chahiey!

  3. Qizill said

    good one dear

  4. Zain said

    drust bat hy tehreem lekin apne meintion nahe kea keh yeh kis ki tehrir ya kalaam hy….

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers