جیو کا مقبول ڈرامہ دل ہے چھوٹا سا
Posted by ارتقاءِ حيات on May 22, 2011
میں اکثر یہ سنتی رہتی ہوں کہ پاکستانی ڈامے اور ان کا معیا گر گیا ہے اور اب پاکستان مین اچھے ڈارمے نہیں بنتے
پر مجھے ایسا نہین لگتا مین جہاں ہالی وڈ اور بالی وڈ کی فلمین دیکھتی ہوں وہاں پاکستانی ڈرامے بھی روز دیکھتی ہوں (ٹی وی پر نہیں) سوچا کچھ اچھے ڈرامہ آپ لوگوں سے شیئر کروں چلئے ایک ڈرامہ جو 3 ماہ پہلے جیو سے ختم ہوا ہے اس پر بات کرتے ہیں
ڈرامہ کا نام ہے ”دل ہے چھوٹا سا“۔اس ڈرامے میں ہمارے معاشرے کے تلخ حقائق کو انتہائی خوبصورتی و مہارت سے پیش کیا گیا ہے۔ ڈرامے کی کہانی ہمارے اردگردو ماحول کی کہانی ہے۔ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کے بارے میں فیصلے خصوصاً شادی کا فیصلہ والدین ہی کرتے ہیں، والدین کی رضا میں راضی لڑکیوں کو ہی فرمانبردار سمجھا جاتا ہے اور ایک عام تاثر یہی ہے کہ والدین کا ہر فیصلہ صحیح ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر بار ایسا نہیں ہوتا۔ والدین کے فیصلے بھی غلط ہوسکتے ہیں۔ حساس موضوع پر یہ تحریر بشریٰ انصاری کے قلم کا شاہکار ہے جسے انجلین ملک نے ڈائریکٹ کیا ہے۔ ڈرامے کی کاسٹ میں طوبیٰ صدیقی، فیصل قریشی، میکال ذوالفقار، امیلیا جوزفین، شبیر جان، شمیمہ ہلالی، آصف رضا میر،نائلہ جعفری، فیصل شاہ، انجلین ملک اور شمعون عباسی شامل ہیں۔ ”دل ہے چھوٹا سا“ کے پروجیکٹ ہیڈ اقبال انصاری ہیں۔عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ ڈرامے خواتین دیکھتی ہیں لیکن مردوں کی اکثریت بی یہ ڈرمہ دیکھ چکی ہے
اچھے ڈرامے دیکھنے والوں سے جو پاکستان کے ڈامے دیکھنا بند کر چکے ہین ان سے کہوں گی کہ یہ درامہ ضرور دیکھیں چونکہ یہ ڈرامہ اب ختم ہو چکا ہے پھر بھی اس کی کہانی ذہن میں گھومتی رہتی ہے




tania rehman said
میں ویسے ٹی وی کم ہی دیکھتی ہوں ۔ لیکن کچھ ڈرامے بہت اچھے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔اور معیار بھی بہت عمدہ ۔۔۔ اچھا لگا ہمارا ٹی وی واپی کا راستہ اختیار کر رہا ہے ۔
Taheem said
صحیح کہہ رہی ہیں مادام تانیہ
کچھ عرصہ پہلے ہمارے میڈیا پر گلیمر کا راج اور جسے دیکھو اس کو کہانی سے زیادہ لوکیشن دکھانے کا شوق اٹھ کھڑا ہوا تھا
مگر اب اللہ کا شکر ہے معاشرتی کہانیاں منظر پرآرہی ہیں
عطاء رفیع said
ہاں، والدین کا ہر فیصلہ صحیح نہیں ہوسکتا، لیکن یہ بات بھی ہے کہ لڑکوں/لڑکیوں کو ایسے حساس فیصلے خود نہیں لینے چاہئیں۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ پسند والدین کی ہو اور لڑکی کی رضا کو ہر صورت میں ملحوظ رکھا جائے، ورنہ ایک اور زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔
Taheem said
بھائی عطا آپ کا فرمانا بالکل بجا ہے اور والدین کو بھی چایئے بچون کی نفسیات دیکھ کر ان کے مستقبل کا فیصلہ کریں
پھر اللہ حامی و ناصر ہے
شازل said
پاکستانی ڈرامے اب بھی مقبول ہیں لیکن جو گلیمر اور ماحول انڈین دیتے ہیں وہ عنقا ہوتے ہیں۔ حالانکہ انڈین ڈراموں میں کہانی کا نام و نشان نہیں ہوتا بلکہ کہانی کے اندر کہانی پیدا کرکے ڈرامے کو چیونگم کی طرح کھینچا جاتا ہے
دوسری بات یہ کہ انڈین ڈراموں میں پوجا پاٹ کے بے انتہا واقعات دکھائے جاتے ہیں جو کہ ہمارے معاشرے سے قطعی لگا نہیں کھاتے
آپ سے گزارش ہے کہ انڈین ڈرامے نہ دیکھا کریں۔
شکریہ
Taheem said
بھائی شازل دیکھنے کو تو ہالی وڈ کی اورانڈین فلمیں بھی نہین دیکھنی چاہیئں جو کہ میں ہی کیا سب ہی دیکھتے ہیں پر بات ہو فراغت کی اور وقت کو مصرف مین لانے کی میں نے آپ کو بتایا نا کہ مین دیکھتی تھی کیوں کہ باقی بہنیں گر دیکھیں تو میں ٹی وی چھوڑ کر نہیں جا سکتی کے ایک ٹی وی ہے ہمارے گھر اور پھر یہ کہ ہر ایک کا مزاج جدا ہوا کرتا ہے
میری کوئی بہن ہالی وڈ کی فلم نہیں دیکھتی پر بنا دیکھے فلم میں سو نہیں سکتی
اب خامی کہہ سکتے ہیں یا کچھ بھی
مزاج اپنا اپنا
عثمان said
آپ کو اپنی تحاریر نستعلیق یا کسی مناسب اردو فونٹ میں لانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ فونٹ میں تحریر پڑھنا بہت مشکل ہے۔فونٹ کے لئے اگر چاہیں تو راہنمائی مل سکتی ہے۔
Taheem said
مناسب ہو گا اگ کوئی اچھی تھئیم مجھے ڈالنا سکھا دی جائے
مجھے خودسمجھ نہیں آرہی کیسے کروں اور کہاںسے کروں
عثمان said
آپ کا بلاگ ورڈ پریس ڈاٹ کام پر ہے۔ لہذا تھیم سے فرق نہیں پڑے گا۔ فونٹ کے لئے آپ کو ایچ ٹی ایم ایل کوڈز استعمال کرنا ہوں گے۔
Taheem said
ایچ ٹی ایم ایل مجھےنہیں آتی اگر مجھے فونٹ علوی نستعلیق کے ساتھ نیلے رنگ میں 14 سائز تحریر کی ہیڈنگ اور 12 یا 13 سائز میں باقی مضمون لکھنا ہو تو وہ کوڈ تحریر کیجئے گا؟
پیرا گراف کے لئے کیا ہدایات درکار ہوں گی؟
مدد کر سکے گا کوئی؟
عثمان said
ورڈ پریس ڈاٹ کام کے لئے میں نے ایک مختصر اور آسان ٹیوٹوریل بنا رکھا ہے۔ اگر ای میل ایڈریس دستیاب ہو تو میل کردوں گا۔
یونیکوڈ اردو اور ذاتی ہوسٹنگ پر بلاگ چلانے کے لئے معلومات م بلال م کے بلاگ سے مل جائیں گی۔
Taheem said
u4me25@Live.Com
عثمان said
مزکورہ کوڈ کمنٹ باکس میں لکھنے پر دیکھائی نہیں دیتا
تصویری شکل ہی میں بھیجا جا سکتا ہے۔
Taheem said
ایک تفصیلی میل مل چکی ہے عثمان بھائی
شکریہ جلد ہے سب تحریریں اپڈیٹ کرتی ہوں